برطانوی نوجوان نسل کے پاس پروفیشنل سکل نہیں‘ بیروزگار ہیں

برطانوی نوجوان نسل کے پاس پروفیشنل سکل نہیں‘ بیروزگار ہیں
 برطانوی نوجوان نسل کے پاس پروفیشنل سکل نہیں‘ بیروزگار ہیں

  

لندن (بیورورپورٹ) معروف قانون دان سولیسٹر چوہدری احتزاز ارشد نے کہا ہے کہ برطانیہ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل خصوصاً ایسے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں جن کے پاس ڈگریاں تو ہیں مگر پروفیشنل سکل نہیں یا وہ بے روزگار ہیں ان کی رہنمائی کیلئے پاکستانی کمیونٹی کے پاس کوئی فورم نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوجوان بے راہ روی اور شدت پسندی کی طرف آسانی سے راغب ہوسکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت یوکے اور کمیونٹی باہمی طور پر ان کو روزگار فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔ روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چوہدری احتزاز ارشد نے کہا کہ ہماری کمیونٹی کو نوجوان نسل کو درپیش مسائل پر فوری متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امیگریشن قوانین بھی غیر متوازن ہیں نواجون لڑکے لڑکیوں کی ازدواجی زندگی میں موجودہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں ان نوجوانوں کیلئے شدید ذہنی اضطراب کا باعث بھی ہیں کوئی لڑکا یا لڑکی اپنے آبائی وطن سے اپنےز منگیتر یا منکوحہ کو برطانیہ بلانے کیلئے ساڑھے اٹھارہ پونڈ سالانہ آمدن کے بغیر ویزہ اپلائی نہیں کرسکتا اسی طرح ان کی نئی شروع ہونے والی زندگی پریشانی کا شکار ہوجاتی ہے اور وہ خاندانی روایات کو قائم رکھنے کے بجائے بے راہ روی کا شکار ہوسکتے ہیں انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنے سنجیدہ مسائل پر غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر طلحہ جاوید، حمزہ، ارشد محمود، لقمان احمد، فرح ارشد، عابر پرویز، زہرہ عزیز، عمران رضری، صائقہ امتیاز، ساجد اقبال، نزاکت علی، ارم نور، ثمینہ چوہدری، ثناءابراہیم نے بھی اظہار خیال کیا۔

مزید :

عالمی منظر -