تیسر افریق مداخلت کر کے تنازعہ کشمیر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، کشمیری رہنما

تیسر افریق مداخلت کر کے تنازعہ کشمیر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، کشمیری ...

  

                                           سرینگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر کے رہنماﺅںنیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان، دختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی ،ورلڈ کشمیر ایوئیر نس کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر غلام نبی فائی،لبریشن فرنٹ (آر) سرپرست اعلی بیرسٹر عبدلمجید ترمبو ، پیپلز لیگ چیئرمین مختار احمد وازہ ، پیپلز فریڈم لیگ جنرل سیکریٹری غلام احمد پرے ، مسلم دینی محاذ جنرل سیکٹری محمد مقبول بٹ نے بھارت کی طرف سے خارجہ سیکریٹریوں کے مذاکراتی عمل کو منسوخ کرنے پر تاسف کا اظہار کیا ہے۔ نعیم احمد خان نے کہا کہ اب جبکہ مذاکراتی عمل منسوخ ہوگیا ہے جس کے بارے بلند بانگ دعوے کئے جارہے تھی، ضروری بنتا ہے کہ کوئی تیسرا فریق مداخلت کرکے تنازعہ کشمیر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ جنوب ایشیائی خطے کے اندر قیام امن کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سیاسی قیادت کو چاہئے کہ مثبت سوچ و اپروچ اپنا کر روایتی ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کرے تاکہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔نعیم خان نے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی قیادت اسلام آبادکے ساتھ ایک طویل عرصے سے مذاکرات کرتی آرہی ہے اور اس پورے عمل کا صرف یہ مقصد ہے کہ کسی طرح تنازعہ کشمیر کے حل کی راہ نکل آئے مگر جس طرح بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت نے اب اس مسئلے کو لیکر رائی کا پہاڑ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کو دیکھ کر خطے کا استحکام خطرے میں پڑ گیا ہی۔ نعیم خان نے بھارت کی سیول سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی قیادت کو محاذ آرائی کی راہ چھوڑنے کی ترغیب دے تاکہ ایک دیرینہ انسانی مسئلے کو حل کرنے کے ضمن میں کوششیں بار آور ثابت ہوں۔ ادھر آسیہ اندرابی نے کہا ہے کہ بات چیت منسوخ کرنے سے ہمارے موقف کو صحیح ثابت کیا ہے کہ ہندوستان ہرگز بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کو راستہ تصور نہیں کرتااوریہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ ہندوستان پاکستان کو مسئلہ کا فریق سمجھتا ہی نہیں اور باربار یہ کہتا رہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندروانی مسئلہ ہی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے جو بات چیت کیلئے پاکستان ہاتھ پیر مار رہا ہے اور دوستانہ تعلقات کے قیام کی کوششیں کر رہا ہے وہ سب مسئلہ کشمیر کی قیمت پر ہورہا ہی۔

انہوںنے کہاکہ ہندوستان کا اولین مقصد یہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے بہتر تعلقات ہوں تاکہ مسئلہ کشمیر ختم ہوجائے جبکہ پاکستان اپنے بنیادی موقف سے ہی ہٹ رہا ہے ۔ انہوںنے زور دیکر کہا کہ پاکستان کوچاہئے کہ سفارتی سطح پر اپنی فریقانہ حیثیت تسلیم کر وائے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی ضمن میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا کوئی مضبوط سٹینڈ ہی نہیں کیونکہ زمینی حقائق اور بین الاقوامی قرار دادیں بھی اس کے غیر حقیقت پسندانہ موقف کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اب بھارت کے ساتھ آلو پیاز کی سیاست کیلئے مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالناچاہئے ۔اس دوران ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ ہندوستان محض اس وجہ سے بات چیت سے پہلو تہی نہیں کر سکتا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری لیڈر شپ سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ کشمیری اس مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں اور ان کی شرکت سے ہی اس مسئلہ کا دیر پا اور پر امن حل برآمد ہوسکتا ہی۔پیوریا الینائے امریکہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کچھ بنیادی اصول سامنے رکھ کر ایک جامع مذاکراتی عمل شروع کیا جانا چاہئے ۔ان اصولوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے یہ ایک سیاسی مسئلہ کے جس کا سیاسی حل ہی نکالاجانا چاہئی۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ بات چیت اور قتل و غارت گری ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ۔ فائے کے مطابق کوئی بھی مذاکراتی عمل سہ فریقی ہونی چاہئے جس میں بھارت پاکستانی اور حقیقی کشمیری قیادت شامل ہونی چاہئی۔انہوں نے زارع دیا کہ مذکاراتی عمل سے قبل فریقین کی طرف سے کسی بھی قسم کی پیشگی شرط نہیں رکھی جانی چاہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل ایک ساتھ چار سطحوں پر شروع کیا جانا چاہئی۔ پہلی سطح پر درون کشمیر کشمیر کی مزاحمتی قیادت ،آزاد کشمیر کی قیادت ، گلگت بلتستان کے نمائندوں اور پنڈت ، سکھ و بودھ نمائندگان کے درمیان بات چیت ہونی چاہئے ۔ دوسری سطح پر ہند پاک حکومتوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہو، تیسری سطح پر ہندو ستان پاکستان اور کشمیر کے نمائندگان مل بیٹھ کر بات کریں جبکہ چوتھی سطح پر ہندوستان پا کستان ، کشمیر چین اور امریکہ کو مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا منصفانہ حل نکالنے کیلئے سر جوڑنے ہونگی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کلئے سہ فریقی مذکارات میں کسی بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت جیسے بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو یا کوفی عنان کی معاونت بھی قبول کی جاسکتی ہی۔ بیرسٹر عبدلمجید ترمبو نے مذاکرات کو منسوخ کرنے کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہوے کہا کہ ایسے اقدامات سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہوجاتی ہے کہ بھارت مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے اور مسائل کو لٹکائے رکھنے میں یقین رکھتا ہی۔ انہوںنے کہا کہ ہم ہندو پاک مذاکرات کے بالکل بھی خلاف نہیں ہے مگر چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کشمیری قیادت کو ساتھ لیکر چل کرمسئلہ کشمیر کا قابل ِقبول حل نکالی۔مختار وازہ نے بات چیت کو منسوخ کرنے پر بھارت کے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ بھارت جنوبی ایشائی خطے میں امن و امان کے قیام کے خلاف کام کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرامن طور پر مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کیلے پرامن طریقوں سے انحراف کرنے سے بھارت پورے خطے کو ایک ایسے خطرے میں دھکیل رہا ہے جو پورے خطے کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دے گا ۔غلام احمد پرے نے مذاکرات منسوخ کرنے کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوے اسے بھارت کی ہٹ دھرمی سے تعبیر کیا ہے جس سے مسائل سلجھنے کی بجاے مزید الجھ جائینگی۔پرے نے بھارتی فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ بھارت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی تعلقات پیدا کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔محمد مقبول بٹ نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں خارجہ سیکٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے کو فرار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے میں بھارت کا موقف انتہائی کمزور اور حقیقت سے بعیدہی۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے ہی تقسیم بر صغیر فارمولہ کی کھلی خلاف ورزی کرکے کشمیر پر اپنا ناجائز قبضہ جمایا اور بعد میں خود ہی یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے گیا۔ پیپلز ڈیموکریٹک فورم کے سربراہ پنڈت بھوشن بزاز نے مذاکرات کو منسوخ کرنے پرشدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں اختلافی مسائل کو حل کرنے کیلئے افہام و تفہیم اور مذاکرات ہی کو واحد راستہ تصور کیا جاتاہے لیکن بدقسمتی سے آج جبکہ برصغیر کے کروڑوں عوام کی نظریں امن مذاکرات کی طرف لگی ہوئیں تھیں کشمیر کے حریت رہنماﺅں کے ساتھ نئی دلی میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات کو بہانہ بناکر منسوخ کیاجانا بے حد افسوسناک ہے۔

مزید :

عالمی منظر -