پاک بھارت کشیدگی کا خمیازہ کشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، نیشنل کانفرنس

پاک بھارت کشیدگی کا خمیازہ کشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے، نیشنل کانفرنس

  

سرینگر(کے پی آئی)نیشنل کانفرنس نے نئی دہلی میں طے شدہ خارجہ سکریٹری مذاکرات کی منسوخی کو ہند و پاک امن عمل خصوصا جموںوکشمیر کے لوگوں کیلئے بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان تمام حل طلب معاملات کیلئے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان بہتر تعلقات اور مذاکرات کی وکالت کرتی آئی ہے اور ساتھ ہی دونوں ملکوں سے اس بات پر بھی زور دیتی آئی ہے جموںوکشمیر کے سیاسی مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کیا جائے۔ ہم نے ہمیشہ تمام فریقین کے ساتھ بامعنی اور مسلسل مذاکرات کی حمایت کی ہے اور آگے بھی کرتے رہیں گے اور ہم ایسی تمام کوششوں کی بھی حمایت کرتے رہیں گے جس کا مقصد ہندو ستان اور پاکستان کے عوام اور حکومتوں کے درمیان مفاہمت اور باہمی تعاون کو بڑھاوا دینا ہو۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ حریت لیڈران اور پاکستانی سفارتی وفود کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ ماضی سے چلا آرہا ہے، خصوصا گذشتہ دہائی کے دوران ہند و پاک بات چیت کے دوران یہ سلسلہ چلتا رہا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر اور حریت لیڈران کی ملاقاتیں دونوں ملکوں کے اعلی سطحی مذاکرات کی منسوخی کی وجہ نہیں بننی چاہئے تھی۔

یہ ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کے حل کیلئے مذاکرات کرنا اور انہیں مزید وسعت دینا مضبوطی اور اعتماد کی علامت ہوتی ہے نہ کہ کمزوری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف اور تمام سارک ممبران کو اپنی حلف برداری کے موقعے پر مدعو کرنے سے خطے میں سفارتی سطح پر بھر پور تعاون اور اشتراک کا اشارہ ملا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ اسی جذبہ کے تحت تمام رکن ممالک خصوصی طور پر نئی دہلی اور اسلام آباد اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط کریں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تلخیوں کا سب سے زیادہ خمیازہ آر پار جموں وکشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا فائدہ بھی یہاں کے عوام کو ملتا ہے۔نیشنل کانفرنس اپیل کرتی ہے کہ دونوں ممالک مذاکراتی عمل کو جلد سے جلد بحال کریں اور امید کرتی ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ماحول میں بات چیت کریں گے۔ دونوں ممالک کو مستقبل میں دیر پا اور مستقل امن سے بہت کچھ حاصل کرنا ہے اور نیشنل کانفرنس دونوں کے درمیان بہتر تعلقات کی متلاشی رہے گی۔

مزید :

عالمی منظر -