تجارتی مراکز پر مندی، ویرانی اور کساد بازاری نے دھرنا دے دیا: عتیق میر

تجارتی مراکز پر مندی، ویرانی اور کساد بازاری نے دھرنا دے دیا: عتیق میر

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اسلام آباد دھرنے کے نتیجے میں معیشت پر پڑنے والے تباہ کُن اثرات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باعث تجارتی مراکز پر مندی، ویرانی اور کساد بازاری نے دھرنا دے دیا ہے، گذشتہ دو ہفتوں سے خریدار ناپید،کاروبار منجمد تجارتی سرگرمیاں جمود کا شکار اور تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوگیا، کاروبار مکمل طور پر ٹھپ دکانیں ویران ہوگئیں، تاجروں کا عید سیزن حوصلہ افزاءشادی سیزن حوصلہ شکن ثابت ہوا، مال سے بھری دکانیں اور گودام خریداروں کے منتظر ہیں، مستقبل کے بارے میں تاجروں کی بڑھتی ہوئی مایوسی کسی بڑے معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، انھوں نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز اولڈ سٹی ایریا میں منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس میں کیا جس میں کلاتھ مارکیٹوں کے سرکردہ تاجروں اور ان کے نمائیندگان نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر AKTIکے وائس چیئرمین اکرم رانا، زبیر علی خان، احمد شمسی، شیخ محمد عالم، حنیف ستار، رفیق جعفرانی، محمد اسلم، طوطی خان ، خالد محمود، پائیندہ خان، یوسف پٹنی، ناصر ماموں، خلیل احمد، راشد الخیر اور دیگر بھی موجود تھے، تاجروں نے اجلاس کو بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں مقامی اور ملکی سطح پرمال کے آرڈرز آنا بند ہوگئے ہیں، 80فیصد کارخانوں میں کام بند یا نہ ہونے کے برابر ہے، مشینیں خاموش مزدور و کاریگر ہاتھ پر ہاتھ دھرے فارغ بیٹھے ہیں، مارکٹوں میں مندی، کساد بازاری اور سناٹوں نے ڈیرے ڈال دیئے۔

،شادیوں کا سیزن شروع ہوگیا لیکن کاروباری سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں، سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کا موجودہ سلسلہ مزید جاری رہا تو فیکٹریوں پر تالے لگ جائینگے اور بیروزگاری کا سیلاب روکنا مشکل ہوجائیگا، تاجروں نے کہا کہ صرف پندرہ دنوں کی سیاسی کشیدگی نے ملکی معیشت کو پندرہ برس پیچھے دھکیل دیا ہے، تاجروں کو 30تا 40ارب روپے کا ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے،مستقبل میں شروع کیئے جانے والے تمام کاروباری پروجیکٹس معطل کردیئے گئے ہیں،سرمایہ کاری کا عمل رک گیا، معاشی پہیہ مکمل طور پر جام مہنگائی کا جن بے لگام ہوگیا،تاجروں میں بدحواسی اور افراتفری پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا، تاجروں نے کہا کہ حالیہ سیاسی کشیدگی نے معیشت کی سانسیں روک دی ہیں، تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں پر مستقبل کی بے یقینی اور مایوسیوں کے اندھیرے چھاگئے، تاجروں نے محاذ آرائی میں شریک جماعتوں کے رہنماﺅں سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی ایسے طرزِ احتجاج سے گریز کیا جائے جس سے ملک کی معیشت کو زک پہنچتی ہو، تاجروں نے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ ہٹ دھرمی اور ضد کی سیاست سے اجتناب کرے اور انارکی اور افراتفری کے حالات کی روک تھام کیلئے مفاہمانہ رویہ اختیار کرے، تاجر برادری نے ملک میں موجود مقتدر قوتوں، اعتدال پسند طبقات اور سیاسی جماعتوں سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ملکی حالات کو مزید ابتر اور مخدوش ہونے سے بچائیں۔

مزید :

کامرس -