سارک ممالک کے زرعی ماہرین اور سائنسدان تجربات سے فائدہ اٹھائیں

سارک ممالک کے زرعی ماہرین اور سائنسدان تجربات سے فائدہ اٹھائیں

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ) سارک ممالک کے زرعی ماہرین اور سائنسدان ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی راہ نکالتے ہوئے دنیا کی ایک تہائی سے زائد آبادی کو بھوک ، افلاس ، غربت ، بیماری سے نجات دلانے کیلئے مل جل کر کام کریں۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پروفیسرڈاکٹر مختار احمد نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا ءمیں نیوٹریشن سے متعلق جملہ مسائل کے حل میں یکساں زرعی ترقی کے فروغ میں مصروف ادارے لانسا کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کے دوران کہاکہ سارک ممالک کے سائنسدانوں اور زرعی ماہرین کو ایسی قابل عمل حکمت عملی کی نشاندہی کرناہو گی جس سے ممبر ممالک یکساں طورپر مستفید ہو سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگرملک میں موجود 7زرعی جامعات معاشرے پر اپنی تحقیقات کے مثبت و روح افزاءاثرات مرتب کرنے کےلئے خود کو ایک مو¿ثر پلیٹ فارم یا کنسورشیم کا حصہ بنا لیں تو ہائر ایجوکیشن کمیشن اس کیلئے خاطر خواہ مالی وسائل اور دیگر سپورٹ فراہم کرسکتاہے۔ انہوںنے کہاکہ قدرتی و انسانی وسائل کا دانشمندانہ استعمال ہی جنوبی ایشیاءکو مسائل سے نجات دلا سکتاہے۔

 انہوںنے کہاکہ ہمیں سر سبز زرعی انقلاب سے ایورگرین ریوولوشن کی راہ بھی ہموارکرناہوگی ۔سیمینار سے وائس چانسلر جامعہ زرعیہ فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر اقراراحمد خان اور بھارت میں سبز انقلاب کے بانی سائنسدان ڈاکٹر ایس ایم سوامی ناتھن سمیت دیگر زرعی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

کامرس -