وزن کم کرنے کے لئے ’ڈائٹنگ ‘کا سہارا لینے والے افراد خبردار ہو جائیں

وزن کم کرنے کے لئے ’ڈائٹنگ ‘کا سہارا لینے والے افراد خبردار ہو جائیں
وزن کم کرنے کے لئے ’ڈائٹنگ ‘کا سہارا لینے والے افراد خبردار ہو جائیں

  

ہیلسنکی (نیوزڈیسک) دنیا بھر میں وزن گھٹانے کے لئے ڈائیٹنگ (پرہیزی غذا) پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، کیوں کہ وزن گھٹانے میں غذا اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن ایک نئی تحقیق نے اس نظریہ کو غلط قرار دیدیا ہے، جس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہےں۔ تحقیق کے مطابق وزن گھٹانے کے لئے ایسی غذاﺅں سے پرہیز کیا جاتا ہے، جن میں کاربوہائیڈریٹس کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس پرہیز کی وجہ سے جسم کو کاربوہائیڈریٹس کی طلب کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور یہ کمی نتیجتاً زیادہ بھوک لگانے کا باعث بنتی ہے، جو بعدازاں وزن بڑھا دیتی ہے۔ دوسرا پرہیزی غذا میٹابولز میں بھی مسائل پیدا کرتی ہے، جو چھوٹے پٹھوں کے ضیاع کا باعث ہے اور بعدازاں یہی چیز دوبارہ وزن بڑھانے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس تحقیق کا تیسرا اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق وزن بڑھنے اور گھٹنے کا تعلق انسانی جینز پر بھی منحصر ہے۔ بعض اوقات انہیں جینز کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ ڈائیٹنگ کرنے پر وزن گھٹنے کے بجائے بڑھ جاتا ہے۔ فن لینڈ کے ماہرین نے اس نظریہ کی تشریح کے لئے 4ہزار 129 جڑواں افراد (1922مرد اور 2207خواتین) کو اپنی تحقیق کا حصہ بنایا۔ ماہرین نے 16،17،18اور 25سال کی عمر رکھنے والے ان جڑواں افراد سے ان کے قد، وزن، عمومی صحت اور سماجی تعلقات کے حوالے سے سوالات کئے، جن کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ حقائق سامنے آئے کہ 34 فیصد خواتین اور 24 فیصد مردوں نے زندگی میں وزن کم کرنے کی ایک شعوری کوشش کی، جس سے ان کا 5کلو گرام وزن کم ہوا، جبکہ 15 فیصد خواتین اور 10 فیصد مردوں نے زندگی میں دوبار وزن کم کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس تحقیق میں دلچسپ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ وہ لوگ جنہوں نے کبھی بھی وزن کم کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی وہ شعوری کوشش کرنے والوںکی نسبت زیادہ وزن گھٹانے میں کامیاب رہے، بلکہ جنہوں نے وزن گھٹانے کی شعوری کوشش کی، وہ اس دوران وزن کم کرنے کے بجائے بڑھا بیٹھے، اور ایسا صرف ان کے جینز کی وجہ سے ہوا۔ تحقیق کے آخر میں ماہرین کا کہنا تھا کہ وزن گھٹانے کے لئے غذا کم نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کا استعمال سمجھداری، احتیاط اور مناسب مقدار میں کریں۔ اس کے علاوہ وزن گھٹانے کے لئے روزانہ 30 منٹ کی ورزش کو ضرور معمول بنائیں۔

مزید :

تعلیم و صحت -