بھارت مذاکرات میں سنجیدہ کیوں نہیں؟

بھارت مذاکرات میں سنجیدہ کیوں نہیں؟
بھارت مذاکرات میں سنجیدہ کیوں نہیں؟
کیپشن: 1

  

پاک بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات سے قبل نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری حریت کانفرنس کے رہنماﺅں کو مشاورت کے لئے بلایا تو اس پر بھارت اتنا سیخ پا ہو گیا کہ اس نے دوستی اور تعلقات کی بحالی کے تمام اعلانات کو پس پشت ڈال کر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور پاکستان کو مذاکرات یا کشمیریوں میں سے کسی ایک کو چننے کا مشورہ بھی دے دیا۔ شاید بھارت سرکار یہ بھول رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات ہوں یا باہمی تعلقات ،ان میں ہمیشہ کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہوتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں، بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر پہلے بھی کشمیری حریت کانفرنس کے رہنماﺅں سے ملتے رہتے ہیں۔ اب مذاکرات سے قبل اس ردعمل سے ہماری قیادت اندازہ لگائے کہ بھارت مذاکرات میں کتنا مخلص ہے؟

 ایسا پہلی بار نہیں ہوا ،پہلے بھی عین وقت پر ہمیشہ بھارت نے مذاکرات کی میز الٹ کر علاقائی امن اور بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالی اور الزام پاکستان پر لگایا۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر آئے روز فائرنگ اور بمباری میں بھی شدت آ گئی ہے، جس کا جواب ہنوز پاکستان تحمل سے دے رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھی سفارتی سطح پہ سخت جواب دے کر اپنے موقف کی وضاحت کرے اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کا تاثر زائل کرے۔ اس کے علاوہ عالمی برادری کو بھی بھارت کی ہٹ دھرمی سے آگاہ کرے۔ بھارت کے بقول کشمیری رہنماﺅں سے پاکستانی حکام کی ملاقاتیں اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں جو کسی صورت قبول نہیں۔ ادھر پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارت نے سیکرٹریز خارجہ کی ملاقات پہلی بار منسوخ نہیں کی۔ بھارتی حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تنازعہ کشمیر کے دیرپا حل کے لئے پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں ،جن کا مقصد بامعنی انداز میں مسئلہ کشمیر کے حل کو آگے بڑھانا ہے۔

 یہ بات بھارت پر واضح کی جا چکی ہے کہ کوئی پاکستانی ایجنسی بھارت میں دہشت گردی میں ملوث نہیں۔ پاکستان دہشت گردی کو دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن سمجھتا ہے جس کے خاتمے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے تو کسی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے۔ خطے میں امن و امان کی ذمہ داری دونوں ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے کٹر انتہاپسند پس منظر کے باعث دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ ایک طرف انہوں نے شیوسینا جیسی تنظیموں کو مطمئن کرنا ہے تو دوسری جانب بھارت کا علاقائی و بین الاقوامی سطح پر ایسا تشخص اجاگر کرنا بھی ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے جسے تعمیری اور دوستانہ کہا جاسکے۔ بھارت کی حد تک نریندرمودی اپنے ان دعووں کو عملی شکل دینے میں ناکام رہے جن کے بلند وبانگ دعوے انتخابی مہم میں ان کی جانب سے کئے گئے۔

 چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نے دورئہ کشمیر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ شدت پسندوں کی پشت پناہی کرکے درپردہ جنگ لڑرہا ہے۔ نریندر مودی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ روایتی جنگ کی سکت نہیں رکھتا، اس لئے "شدت پسندوں اور دراندازوں" کی حمایت کی جارہی ہے۔ پاک بھارت تعلقات گزشتہ 67برسوں سے اتار چڑھاﺅ کا شکار ہیں۔ یہ سچائی علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں سے اوجھل نہیں کہ عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھتا پڑوسی ملک پاکستان سے باوقار دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں خواہشمند نہیں۔ اس میں قطعاً دوآرا نہیں کہ خود پاکستان کے حالات ایسے نہیں کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تادیر کشیدگی یا مخاصمت کو جاری رکھ سکے۔ بھارتی طرزعمل مشکلات پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ تقسیم سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کے درمیان چلی آنے والی کشیدگی کے باعث آرپار ایسی تنظیمیں فعال ہو چکی ہیں، جن کا اول وآخر مقصد دشمنی کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔ خود بھارت میں صورت حال یہ ہے کہ سیاست میں پاکستان دشمنی کو بطور مہرہ استعمال کرنا معمول بن چکا۔

 بھارتی وزیر اعظم نے بار بار یہ بھی کہا کہ مذاکرات اسی صورت میں ہوںگے، جب سرحد پار در اندازی بند ہوگی۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی،مگر بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائین پر غیر جانبدار مبصرین تعینات کئے جا سکتے ہیں، لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بھارتی لیڈر ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف پاکستان پرمقبوضہ کشمیر میں مداخلت کابے بنیاد الزام عائد کرتے ہیں۔دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے مخلص نہیںہیں ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام فی الفور بند کرے اورمسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بلا تاخیر مذاکرات شروع کرے۔ اب گیند بھارت کے میدان میں ہے۔اگر وہ چاہے تو مسئلہ کشمیر پر فی الفور مذاکرات ہو سکتے ہیں اور اس تنازعہ کا ایسا حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔

مزید :

کالم -