عجب سا تماشہ لگا رکھاہے

عجب سا تماشہ لگا رکھاہے
 عجب سا تماشہ لگا رکھاہے
کیپشن: 1

  


آج کل ہرطرف عمران خان اورطاہر القادری کے دھرنے کا چرچا ہے۔ جب سے دھرنا شروع ہوا ہے ، سوائے دھرنے کو دیکھنے ، اس کے بارے میں خبریں سننے ، کسی بھی محفل میں جہاں دیکھو اس دھرنے نے سب کو گویا منجمد سا کرکے رکھ دیاہے۔جب سے دھرنا شروع ہوا ہے،سارا نظام درہم برہم ہو گیاہے۔دھرنا دینے والوں کے لئے تو یہ ایک محض تفریح ہے، تاہم حیرت ہے کہ دھرنا دینے والے بے چارے مظلوم و سادہ لوح عوام تو مشکلات اور تکلیفوں میں بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ہمارے بہت سے دوست محو حیرت ہیں کہ یہ کیسا دھرنا ہے ،جس کے شرکاء سارا دن سوئے رہتے ہیں یا گھومتے اور کھاتے پھرتے ہیں اور رات کو پھر پنڈال میں جمع ہو کر اپنے اپنے باغی لیڈروں کی تقرریں سنتے ہیں۔ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ یہ کس قسم کے قائدین ہیں جو خود تو سارا دن اے سی کمروں میں مرغ مسلم کھا کرگذارتے ہیں اور شام کو پنڈال میں آکر حکومت کے خلاف اناپ شناپ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ہمارے دوست کہتے ہیں کہ اگر انقلاب و آزادی لانے والوں کے لیڈروں کو کڑی دھوپ، سخت گرمی میں تقرریں کرنا پڑیں تو یہ لیڈر تقریر کم کریں اور اپنے ماتھے سے بہنے والا پسینہ زیادہ صاف کریں ۔بہر حال بات کریں دھرنا دینے والوں کی تو دھرنا دینے والے اب عمران اور طاہر القادری کی سرپرستی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔طاہر القادری نے تو پارلیمنٹ کے سامنے عوامی پارلیمنٹ کا آغازبھی کر دیا ،جبکہ عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس پر قبضے کی دھمکی دے دی ہے۔

سارا دن ٹی وی پر یہ خبر گردش کرتی رہی کہ سعد رفیق نے، جو کہ وفاقی وزیر ہیں ،ٹوئٹر پر ٹویٹ کیاہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملنے کے لئے تیار ہیں ، اس خبر پر تحریک انصاف کے جیالے جشن ،لیکن عوامی تحریک کے کارکنوں پر مایوسی چھا گئی ،لیکن ان کی یہ مایوسی اس وقت خوشی میں بدل گئی جب سعد رفیق نے ٹوئیٹر پر دئیے گئے پیغام کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ٹوئٹر پر ان کا کوئی اکاؤنٹ نہیں ۔ہمارے دوست کہہ رہے ہیں کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کو نہ بھی ملیں ،لیکن ٹیلی فون پر ہی رابطہ کر لیں، کیونکہ ملک و قوم کے لئے کچھ اچھا کرنے کے لئے قدم اٹھانے میں پہل کر نی چایئے،بہر حال یہ ساری صورت حال کب تک جاری رہے گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ شیخ رشید احمد نے ٹی وی پر گفتگو کے دوران کہا کہ آئندہ پیر تک آزادی مارچ کا معاملہ حل ہو جائے گا ۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا بھی یہی کہنا ہے کہ معاملات حل ہو جائیں گے ، اور عمران خان وزیراعظم کے استعفیٰ کے بغیربھی مان جائیں گے، جس پر معاملات حل ہو جائیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور وزیرا عظم کو بھی مفاہمتی رویہ اختیار کر نا چاہئے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والے افراد شاہراہ دستور پر قائم عمارتوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں ،کیونکہ ،اہم عمارتوں کی حفاظت پاک فوج کر رہی ہے ۔پاک فوج کے اعلیٰ افسران جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام فوج سے کس قدر پیار کرتے ہیں اور یقیناًجہاں پاک فوج ہو گی پاکستانی عوام پاک فوج کا احترام لازمی کرے گے ۔

ملک کی موجودہ صورت حال نے ملک بھر کے عوام کو ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پھیلے پاکستانیوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بہر حال اندازہ تو ہے کہ کچھ نہیں ہو گا ،کیونکہ طاہر القادری اس سے قبل آصف علی زرداری دور حکومت میں جس اسلام آباد پر چڑھ دوڑے تھے ، اس وقت بھی انہوں نے زرداری حکومت کے خلاف دھواں دھار تقرریں کیں ،لیکن ہوا کچھ بھی نہیں تھا ۔آصف علی زرداری نے کمال حکمت عملی سے طاہرالقادری کو منا لیا تھا اور دھرنے سے نجات پا لی تھی۔ہم تو بہت دن سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کڑے امتحان سے دوچار ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے اس اعلان پر کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں گھس جائیں گے، تحریک انصاف کے کارکن بھی گھبرا رہے ہیں، دوسری طرف طاہر القادری صاحب کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں نہیں داخل ہوں گے ،تاہم اس کے بعد عجیب سی صورت حال ہو گئی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اپنے کہے سے پھر رہے ہیں جو کچھ انہوں نے کہا وہ اپنی بات پر ثابت قدم نہیں رہے ۔ عمران خان کو عدالت کی طرف سے اآگاہ کیا گیا تھا کہ وہ کوئی غیر قانونی دھرنا اور غیر آئینی مطالبات پیش نہیں کریں گے ، لیکن عمران خان نے اپنی بات کا پاس نہ رکھا اور اپنے وعدے سے مکر کر نہ صرف حکومت کے لئے پر یشانی ،بلکہ عوام کو بھی ناحق عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے ،بہر حال عجب سا تماشہ ہے ،، روز یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گونجتا ہے کہ اب کیا ہو گا، لیکن روز نیا سورج طلوع ہوجاتا اور کچھ نہیں ہوتا ، اسی لئے ہماری بھی یہی دعاہے کہ ہر روز نیا سور ج اسی طرح سے بخیر و خوبی طلوع ہوتا رہے ، بہر حال اجازت چاہتے ہیں دوستوآپ سے ایک بریک کے بعد، اللہ نگھبان رب راکھا!

مزید :

کالم -