”مساوات اور انصاف“

”مساوات اور انصاف“
”مساوات اور انصاف“
کیپشن: 1

  

دین اسلام مساوات کا درس دیتا ہے، جس کا عملی نمونہ بہترین شکل میں نبی پاک حضرت محمد کی حیات مبارک میں دیکھا گیا۔ آپ کی نظر میں امیر، غریب، مرتبہ میں چھوٹے یا بڑے، آقا و غلام سب برابر تھے۔ حضرت سلیمانؓ، حضرت صہیبؓ، حضرت بلالؓ و دیگر ایک وقت میں غلام رہ چکے تھے، جبکہ آپ کی بارگاہ میں ان حضراتؓ کاکسی بھی صورت میں روسائے قریش سے کم رتبہ نہ تھا۔ کیا عظیم دور تھا کہ جس میں مساوات اور انصاف کی عظیم مثالیں تاریخ میں درج ہیں۔ چند ایک ملاحظہ فرمائیں۔

ایک مرتبہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے جرم میں گرفتار ہوئی۔ اسامہ بن زیدؓ کو، جن سے آنحضرت نہایت محبت رکھتے تھے، لوگوں نے سفارش کے لئے خدمت نبوی میں بھیجا۔ آپ نے فرمایا: ”اسامہ ؓ ! تم حدودِ خداوندی میں سفارش کرتے ہو۔“ پھرآپ نے لوگوں کو جمع کر کے خطاب فرمایا ”تم سے پہلے کی اُمتیں اِسی لئے برباد ہو گئیں کہ جب معزز آدمی کوئی جرم کرتا تو تسامسح کرتے (ذومعنی بات کر کے معاملہ کو ختم کر دیتے) اور معمولی آدمی مجرم ہوتے تو سزا پاتے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ خدا کی قسم محمدکی بیٹی فاطمہؓ سرقہ (چوری) کرتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔“ غزوہ بدر میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباسؓ بھی گرفتار ہو کر آئے تھے۔ قیدیوں کو زر فدیہ لے کر رہا کیا جاتا تھا۔ اس موقعہ پر بعض نیک دل انصار نے اس بنا پر کہ وہ آپ سے قرابت داری رکھتے ہیں۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اجازت دیجیے کہ ہم ان کا زرِ فدیہ معاف کر دیں۔

 آپ نے فرمایا: ”نہیں ایک درہم بھی معاف نہ کرو۔“ غزوہ¿ بدر میں سواریوں کا سامان بہت کم تھا۔ تین تین آدمیوں کے بیچ میں ایک ایک اونٹ تھا۔ شرکا باری باری چڑھتے اترتے تھے۔ آپ بھی عام آدمیوں کی طرح ایک اونٹ میں دو اور آدمیوں کے ساتھ شریک تھے۔ ہمراہی اپنی باری پیش کرتے اور عرض کرتے کہ یا رسول اللہ آپ سوار رہیں۔ آپ کے بدلے ہم پیادہ چلیں گے۔ ارشاد ہوتا کہ نہ تم مجھ سے زیادہ پیادہ چل سکتے ہو اور نہ میں تم سے کم ثواب کا محتاج ہوں۔ صحابہ ؓ جب سب مل کر کوئی کام کرتے تو ہمیشہ آپ اُن کے ساتھ شریک ہو جاتے اور مزدوروں کی طرح کام انجام دیتے جیسا کہ مسجد نبوی کی تعمیر تھی۔ آپ خود اپنے دست ِ مبارک سے اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لاتے۔ صحابہؓ عرض کرتے تھے ہماری جانیں آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں زحمت فرماتے ہیں لیکن آپ اپنے فرض سے باز نہ آتے۔ اسی طرح کا منظر غزوہ خندق کے موقع پر بھی دیکھنے کو ملا ۔ آپ مزدوروں کی طرح کام کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے شِکم مبارک پر مٹی اور خاک کی تہہ جم گئی تھی۔ بہرحال اس طرح کی بہت سی مثالیں ہماری تاریخ میں موجود ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کی کوئی مثال موجود ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ ہمارے ہاں حکمران اور مقتدر اشخاص کے اغراض و مقاصد صرف اپنی ذات تک محدود ہیں۔ کالج کے زمانے میں مجھے سیاست سے کچھ دلچسپی پیدا ہوئی وہ بھی صرف معلومات کی حد تک۔ اُس وقت ضیاءالحق کے مارشل لاءکا آغاز ہوا تھا۔ اُن کے دور میں ایک مخصوص ذات برادری کے لوگوں کو نوازا گیا۔ اسلام کا نام استعمال کر کے اقتدار کو طول دیا گیا۔ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرا کر چند لوگوں کو ہمدم بنایا، جس کا مقصد صرف اپنی ذات اور برادری کو نوازنا تھا۔ مرحوم جونیجو صاحب نے جب وردی اتارنے کا کہا تو ان کی جمہوری حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو مرحوم صدر غلام اسحاق خان اور مرحوم صدر فاروق لغاری کو جبری رخصت کر دیا گیا۔ ان کے اعمال میں انا پرستی کی جھلک نظر آتی تھی۔

 سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے مسلم لیگ (ق) کو بنایا اور ان میں سے اکثریت نے مساوات اور انصاف کو قائم نہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جو پس پردہ صدر آصف علی زرداری کر رہے تھے، ایک مخصوص مذہبی مسلک کے لوگوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا، جو اب نواز شریف کی حکومت کے لئے درد سر بن جاتے ہیں۔ اِسی عرصے کے دوران پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ انہوں نے پنجاب میں ہر ممکن کشمیری برادری کو نوازا۔ اس وقت بھی ہر اہم وزارت اور سرکاری عہدوں پر اُن کے خاندان والے یا کشمیری برادری براجمان ہے۔ دو لیڈر ایک آزادی مارچ اور دوسرا نقلاب مارچ لے کر دھرنوں کے لئے اسلام آباد پہنچے۔ ان دھرنوں میں شرکت کرنے والے غریب عوام پیدل یا عام پبلک ٹرانسپورٹ میں ناصرف سفر کر رہے ہیں بلکہ بھوکے پیاسے سڑکوں پر سو رہے ہیں، جبکہ ان کو لیڈ کرنے والے کنٹینرز اور بلٹ پروف گاڑیوں میں آرام اور آسائش سے رہ رہے ہیں۔ قارئین آپ خود فیصلہ کریں ارضِ پاک میں کہیں مساوات نظر آ رہی ہیں۔ کیا انصاف ہو رہا ہے۔ اگر انصاف برابری کی سطح پر نہیں ہو رہا تو ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ آخر میں محترم طاہر القادری سے گزارش ہے کہ کم از کم اللہ اور اس کے رسول کا نام چِلا چِلا کر نہیں، بلکہ ادب سے لیا کریں۔

مزید :

کالم -