احتساب....!

احتساب....!
احتساب....!
کیپشن: 1

  

یوں تو ہما رے معا شرے کا بےشمار سما جی برا ئیوں نے احاطہ کیا ہوا ہے ۔جو ہماری قومی اور ا جتما عی ز ندگی کو اندر ہی اندر گھن کی طرح کھا ئے جا رہی ہے مال و دولت اور وسائل کی ہوس نے انسان کو معا شی حیوان بنا دیا ہے معاشی اقدار کی وجہ سے ہما را معا شرہ انسانی ہمدردی ،ایثا ر ،اخوت ،بھائی چارہ،رحمدلی اور محبت جیسے پاکیزہ جذبات اور احساسات سے محروم ہو تا جا رہا ہے انسان کو کم اس کی دولت کو زیادہ سلام کیا جا رتا ہے ۔ دولت اور طا قت کے حصول کے لیے ہر جا ئز اور نا جا ئز طریقے اور حربے استعما ل کے جا تے ہیں ہما رے معا شرے میں بے ضا بطگیا ں ہر فیڈ میں بڑھتی جا رہی ہے بلکہ اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔اور ایک نا سور کی شکل میں پھیل چکی ہے ہمارے ہا ں سیا ست کو سب سے بڑا کا رو بار سمجھا جا تا ہے جہا ں دولت اور طا قت دونو ں بر وقت میسر ہو جاتے ہیں جن کا و حشیانہ استعما ل کیا جا تا ہے۔

 سیا سی میدان میں اصو ل پسند ی اور قومی مفاد کی جگہ خود غرضی اور ذاتی مفا د کی پا لیسی پر عمل کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بد عنوانیا ں ،لوٹ مار ،کرپشن بے ضابطگیاں غلط فیصلو ں کا نا حتم ہونے والا چکر چلتا رہتا ہے الیکشن کو ایک جوا ءسمجھا جاتا ہے جس پے لا کھوں لگا کر اس سے کڑوروں رو پے کما ئے جاتے ہیںجس کا کو ئی احتساب نہیں کرتا امریکہ نے پاکستان کے لیے ایک ارب دس کڑور ڈالر کی امداد جاری کر دی ہے جو بہت جلد پاکستان کو مل جا ئے یہ امداد ہم کو ہر سال دی جاتی ہے جو اربوں ڈالر ہوتی ہے جو کہ پاکستان کو امریکہ کا دہشت گردی کی جنگ میں اتحادی ہونے کی وجہ سے ملتی ہے ہی ساری امداد ملکی خزانے میں آتی ہے اور وہاں سے امداد کا زےا دہ ترحصہ ملکی سا لمیت پر خرچ ہونے کی بجا ئے بڑے بڑے مگر مچھوں کے پیٹ میں چلا جاتا ہے ۔یہ سلسلہ ہر حکومت میں یوں ہی چلتا ہے۔

 اسی طرح حالیہ امداد کا بھی پتا نہیں چلنا کہ کب آئی اور کہا ں چلی گئی کیونکہ کو ئی اس کا احتساب نہیں کرتا سپریم کورٹ کے حالیہ بےا ن کے مطا بق سول سروس کے سترہ گریڈ کے افسران کے اثاثوں کا ریکارڈ حا صل کیا جائے جس میںان کے فیملی کے اثاثے اور ان کے بچوں کے فیس چالان بھی شامل ہوں گے یہ بات جو پچھلے۵۶ سا لوں میں پہلی بار ہوئی ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے امید ہے کہ اس سے بہت سے چہرے بے نقاب ہوں گے اور بہت سے سانپ پکڑئے جائیں گے جن کا زہر قوم کی رگو ںمیں نا سور کی طرح پھیل چکا ہے ہمارے ہاں سول سروسز ایک ایسی لاٹری ہے جس مین لوگ را ت و رات کروڑپتی بن جاتے ہیں مگر اصل حقیقت جبھی قوم کے سامنے آسکتی ہے جب ان کا احتساب کیا جائے گامیڈےا کو ریا ست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے کوئی ستون حد سے تجاوزکر جا ئے تو عمارت لڑکھڑانے لگ جاتی ہے۔

 میڈیا کا کام ہے کہ سچائی کو عوام کے سامنے لائے مگر کبھی کبھی میڈیا اپنے فرائض سے روگردانی کر جاتا ہے اور ضابطہ اخلاق کو بری طرح کچل دیتا ہے جس کا احتساب کیا جا ئے تا کہ ملک قوم کا مثبت تا ثر سامنے آ سکے احتساب صرف اداروں کا سیاستدانوں کا فوج کا ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر شخص کو انفرادی طور پر اپنا اپنا احتساب کرنا چا ہیے کو ئی قوم اسی وقت ترقی کی منا زل طے کر سکتی ہے اور ان کا ادراک کر سکتی ہے جب ہر شخص اپنا اپنا احتساب کرے گا اور اپنی خوبیوں پر اعترانے کی بجا ئے اپنی خامیوں کو دور کرے اور جو شخص جس فیلڈ میں ہے اس میں دل و جان سے کام اور محنت کرے جبھی قوم سے یہ مشکل وقت ٹل سکتا ہے ۔بقول اقبال

 افراد کے ہا تھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

 ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

مزید :

کالم -