غیرملکی میڈیا پر دانستہ پابندی!

غیرملکی میڈیا پر دانستہ پابندی!

  

کئی دِنوں سے لانگ مارچ اور انقلاب مارچ نے پاکستان کو سخت کنفیوژن میں گرفتار کر رکھا ہے۔ آج بھی پوری قوم منتظر ہے اس فیصلے کی، جو ابھی ہونا باقی ہے!

گزشتہ نو دس دنوںمیں دنیا میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے اور ہو رہے ہیں، جن کو جاننا ہم گلوبل گاﺅں کے باسیوں کو ضروری تھا لیکن کیا کریں کہ اپنی ہی کٹیا سے باہر جھانکنے کی فرصت و فراغت نہیں ملتی، دیواروں کے باہر کیا دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ اس گلوبل گاﺅں میں کوئی گھر ایسا نہیں جو دنگے فساد کی زد میں نہ ہو۔ نوعیت اِن جھگڑوں کی مختلف ہو سکتی ہے لیکن مار کٹائی، پٹائی اور لڑائی بھڑائی سے اس گاﺅں کا کوئی آنگن خالی نہیں۔

مثلاً مشرقی وسطیٰ میں فلسطین کو دیکھ لیں۔ وہاں جو ”تماشا“ عشروں سے جاری ہے اس کا ڈراپ سین نہیں ہو رہا اور خیال یہی کیا جاتا ہے کہ کبھی بھی نہیں ہو گا۔ ایک طرف بے نوا فلسطینی ہیں اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی قوت ہے۔ فلسطینیوں کی بے سرو سامانی آئے روز ان ٹی وی Footagesمیں دکھائی جا رہی ہے جو فلسطینیوں کا میڈیا ونگ تیار کر کے دنیا بھر کو بھیجتا رہتا ہے۔ اس میں چونکہ پاکستان بھی شامل ہے، اس لئے ہم دن رات مسلمانوں پر جورو ستم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھتے ہیں۔

کبھی یہی عرب تھے کہ جن کے ایک صوبائی گورنر نے جب بحر ہند میں کسی بحری جہاز پر بحری قزاقی کا شکار ہونے والی ایک خاتون کی یہ پکار سُنی تھی کہ ”حجاج! تم کہاں ہو؟“ تو حجاج نے بحیرہ¿ عرب کے قزاقوں کے مربی کا ”گھان بچہ“ کو لہو کر دیا تھا۔.... آج اِسی اولادِ حجاج کی اپنی بہو بیٹیاں ہیں، ان کے معصوم بچے اور لڑکے لڑکیاں ہیں جو بحیرہ¿ روم کے قزاقوں کی سفاکی کا شکار ہیں۔ لیکن آج کوئی حجاج اپنے کسی بھتیجے بھانجے کو یہ حکم نہیں دیتا کہ جاﺅ ان ڈاکوﺅں کی سرکوبی کرو حالانکہ ان مظلوم بہو بیٹیوں اور بچے بچیوں کے ”چار چوفیرے“ حجاج کی اولادیں بِٹ بِٹ دیکھ رہی ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتیں!.... ہاں پاکستان کے چند حضرات، حجاج بننے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن فلسطین یا غزہ کا رُخ نہیں کرتے، اپنے ہی گلی کوچوں میں شور مچا کر اور نعرہ زنی کر کے شام کو واپس آ جاتے ہیں۔ ....

 ایک اور بات ....کہ آج جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے کیا فلسطین کا میڈیا بھی پاکستانی ”احتجاج “ کی کوریج کر رہا ہے؟.... جہاں تک مجھے معلوم ہے بالکل نہیں کر رہا۔ یہ صرف ہم پاکستانی ہیں جن کے سینوں میں سارے جہاں کا درد سمٹ آیا ہے۔ یہ درد کیوں اٹھتا ہے، اس کے پیچھے کون ہے اور آگے کون ہے ، یہ راز فاش کر دئے جائیں تو پاکستان میں ایک اور لانگ مارچ شروع ہو جائے گا۔

مثلاً یورپ کو دیکھیں.... وہاں روس اور یوکرائن میں کیا ہو رہا ہے۔ یوکرائن تو 1990ءتک سوویت یونین کا سیٹ لائٹ تھا۔ اور آج مغربی بلاک کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ مغربی بلاک اور ناٹو ممالک اپنے یورپ اور امریکہ کو نہیں بلکہ روس کے گردو نواح کو میدانِ جنگ بنانا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور روس دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتیں ہیں جو براہ راست جنگ نہیں کرتیں کہ یہ جوہری جنگوں کا نہیں پراکسی جنگوں کا دور ہے۔.... یعنی ہتھیار کسی اور طاقت کے اور لڑنے والے کوئی اور.... اور لڑائی کے میدان کہیں اور.... امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ مغربی بلاک کے بڑے بڑے رکن ہیں، ان کا پروگرام یہ ہے کہ جنگ تو ضرور ہو( تاکہ اپنا اسلحہ بک سکے)۔ لیکن اپنے ملک کی سرحدوں سے دور ہو۔ یوکرائن کا کیف (Kiev) اور روس کا ماسکو فی الحال واشنگٹن ڈی سی، لندن، پیرس اور برلن سے کافی دور ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کوئی دن ہی جاتا ہے جب یوکرائن کی سرحد کی زیادہ گرم ہوا، اردگرد کی سرد اور بوجھل ہوا کو اپنی طرف کھینچ لے گی اور پھر آثارِ قیامت رونما ہونے لگیں گے!

مثلاً افریقہ کو دیکھ لیں۔ وہاں بوکو حرام کا تنازعہ نائیجیریا میں تو ایک عرصے سے چل رہا تھا، اب نائیجیریا اور اس کے آس پاس کے چند ممالک میں ایک مہلک جرثومہ بھی منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس کا نام Ebola وائرس ہے۔ سینکڑوں انسان اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماڈرن ورلڈ کو اندیشہ ہے کہ اگر یہ وائرس ان کے ہاں گھس آیا تو کیا ہو گا۔ اس لئے اس کی روک تھام کے لئے غیر معمولی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا میں ہر روز ”ایبولا“ کے پھیلاﺅ کی خبریں فلیش کی جا رہی ہیں۔ یورپ اور امریکہ لرزہ براندام ہو رہے ہیں کہ اگر ان پر حملہ ہو گیا تو چل چلاﺅ ہو جائے گا۔ سوچتا ہوں، قدرت کا کیا نظام ہے اور کتنا انوکھا ہے کہ ظالم اور جابر اقوام سے انتقام لینے پر آتی ہے تو Ebola جیسے جراثیم سامنے لے آتی ہے۔ یہ اقوام اگر آج بچ بھی جائیں گی تو آنے والے کل میں اگلی پچھلی ساری کسریں نکل جائیں گی۔

مثلاً شام اور عراق کی سرحدوں پر داعش (دولت ِ اسلامیہ عرب و شام) کے نام سے ایک نیا جنگجو فرقہ تخلیق ہو چکا ہے (یا شائد کر دیا گیا ہے).... یہ اول اول عراقی کردستان اور عراق کے وسطی علاقوں پر ترک تازیاں کرتا رہا، پھر عراق و شام کی سرحد پر (شمال کی جانب) ایک کوہستانی سلسلہ ہے جس کو سلسلہ کوہستانِ سنجر (Sinjer) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ پہاڑ100کلو میٹر طویل اور 60کلو میٹر عریض ہے۔ اس پر 30,000 یزیدیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ یہ یزیدی دراصل وہ عیسائی ہےں جو قورو قوش نامی شہر میں رہتے تھے۔ داعش والوں کے خوف سے جب وہ بھاگ کر کوہستان سنجر پر چڑھ گئے تو امریکہ اور ناٹو نے ان کو بچانے کے لئے دن رات ایک کر دیا۔.... لیکن دوسری طرف دیکھئے کہ مقبوضہ کشمیر اور میانمر کے مسلمانوں کے قتل عام پر نہ امریکہ کا ضمیر جاگا، نہ ناٹو ممالک میں سے کسی نے اس طرف جھانکا۔ مگر یہاں جب ایک عیسائی گروہ کی جانیں خطرے میں محسوس ہوئیں تو یورپ اور امریکہ اپنے ہم مذہبوں کی امداد کو اُٹھ دوڑے ہیں.... کیا یہ اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ نہیں؟

مثلاً بھارت میں اس کے ایک جنوبی صوبے تامل ناڈو میں دھوتی پہن کر کسی بھی سرکاری تقریب میں شرکت کرنے کا بل وہاں کی پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہے۔ اب دھوتی پوش افراد کو ایسی تقریبات میں جانے سے روکنے والوں کو 25ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال کی قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جولائی 2014ءمیں تامل ناڈو کرکٹ کلب ایسوسی ایشن (TNCA) کی تقریب میں مدراس ہائی کورٹ کے ایک حاضر سروس جج، جسٹس ہری پران تھامان کو اس لئے تقریب میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی کہ انہوں نے دھوتی پہن رکھی تھی۔ جج نے اپنا تعارف بھی کروایا لیکن ان کو بے نیل مرام واپس لوٹنا پڑا۔ جے للیتا جو ایک زمانے میں جنوبی ہند کی مشہور و معروف فلم سٹار تھیں اور اب صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں، انہوں نے سنا تو آگ بگولہ ہو گئیں اور فوراً ”دھوتی بل“ پارلیمنٹ سے منظور کروا کر بھارت کی سماجی تاریخ میں ایک نئی طرح ڈالی۔

مثلاً15اگست2014ءکو بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ دہلی کی فصیل سے بھارت کے 68ویں یومِ آزادی کے موقع پر جو خطاب کیا، وہ ایک گھنٹے پر پھیلا ہوا تھا اور فی البدیہہ تھا۔.... بھارتی پبلک کو یہ تاثر دیا گیا کہ مودی بہت ”غریب پرور“ پردھان منتری ہیں۔ اور یہ بھی کہ بھارت نے یہ تقریب نہایت سادگی سے منائی۔ لیکن پردھان منتری ہاﺅس سے لے کر لال قلعہ دہلی تک کے 10کلو میٹر روٹ پر جو سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ان کی تفصیل حیران کن ہے۔

یعنی500 (CCTV)کیمرے راستے میں نصب کئے گئے.... یہ تمام راستہ دو دن تک ریڈ الرٹ پر رکھا گیا.... لال قلعہ کی فضائی سروے لینس کے لئے ڈرون اور UAVs استعمال کئے گئے.... انڈین ائر فورس کو ایمرجنسی الرٹ پر رکھا گیا.... ماہر نشانہ بازوں کی ایک بھاری نفری اور کئی طیارہ شکن توپیں لال قلعے کے اردگرد 400 عمارتوں پر نصب کی گئیں.... لال قلعہ کے اردگرد 3کلو میٹر کا علاقہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے کلیئر کروایا گیا.... لال قلعہ کی طرف آنے جانے والے راستوں پر سیکیورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد تعینات کی گئی.... دہلی پولیس نے گزشتہ برس کی نسبت اس برس مرکز سے سیکیورٹی انتظامات کی غرض سے پچھلے برس کی نسبت دگنے زیادہ پولیس والے طلب کئے۔.... قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ پردھان منتری نے اگر ڈائس کے سامنے بلٹ پروف شیشے کی دیوار کھڑی نہ کی تو اس فیاضی ¿ طبع اور کشادگی ¿ ظرف کے پس ِ پردہ حقیقت کیا تھی۔

یہ وہی مودی ہیں جو گزشتہ ہفتے لیہ اور کارگل گئے تھے اور اس سے گزشتہ ہفتے سری نگر کا دورہ کیا تھا مگر حریت کے کسی لیڈر سے بات نہ کی اور واپس نئی دہلی چلے گئے۔

یہ وہی مودی ہیں جنہوں نے دو روز قبل 25اگست 2014ءکو ہونے والی پاک و ہند خارجہ سیکرٹریوں کی وہ ملاقات منسوخ کر دی جو پہلے سے طے شدہ تھی۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ حریت کے لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے دہلی میں پاکستان ہائی کمشنر عبدالباسط صاحب سے ملاقات کیوں کی .... وہ حریت کو مسئلہ کشمیر پر تیسرا فریق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

اور یہ وہی مودی ہیں کہ جب ان کی ”تاجپوشی“ ہوئی تھی تو پاکستانی وزیراعظم کشاں کشاں ان کو دھنے باد کہنے کے لئے دہلی تشریف لے گئے تھے.... ایک پنجابی کی کہاوت یاد آ گئی ہے:”اوہ پھرے، نک وڈ ھاون نوں تے اور پھرے نتھ گھڑاون نوں“۔

قارئین کرام! اس گلوبل گاﺅں میں گزشتہ ہفتے اور بھی کئی واقعات رونما ہوئے جن کو ہمارے لانگ اور انقلابی مارچوں نے دھندلائے رکھا۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی کاز بلا شبہ مبنی برحق و انصاف ہو گی لیکن ایسا بھی کیا کہ پورے دس دنوں تک پوری پاکستانی قوم کو اعتکاف میں بٹھا کر اس کے چاروں طرف ملکی چینل والے ٹیلی ویژن آن کر دیئے جائیں اور غیر ملکی میڈیا پر امبارگو (Embargo) لگا دی جائے اور مجھ جیسے لوگوں کو ”مثلا“ کی گردان کرنے کا فریضہ سونپ دیا جائے۔

مزید :

کالم -