گزرے وقت کا سبق

گزرے وقت کا سبق
گزرے وقت کا سبق
کیپشن: 1

  

میری ایک بُری عادت ہے کہ حالاتِ حاضرہ سے متاثر ہوکر شعر یا غزل کہہ دیتا ہوں۔سو کل یہ شعر سرزد ہو!

مَیں آ گیا ہوں تمہاری گلی کی نکڑ پر

تمہارے دل کا یہ ریڈ زون پار کرنا ہے

یہ شعر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچا تو انہوں نے مجھے ”شاعرِ عصر“ کا خطاب دیا۔اس پر مجھے یوں لگا، جیسے مَیں انقلاب اور آزادی مارچوں کا حصہ بن گیا ہوں، ابھی چند روز پہلے کنٹینروں کے حوالے سے ایک پیروڈی کچھ یوں کی:

کنٹینروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آﺅ

میرے گھر کے راستے میں پولیس بھی کھڑی ہے

اسے بعض ٹی وی چینلوں نے بھی استعمال کیا، اگرچہ خاکسار کا نام لینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لمحہءموجود میں پورے ملک اور جہاں جہاں دنیا میں پاکستانی رہتے ہیں، کا ذہنی و فکری ماحول آزادی مارچ اور انقلاب مارچ، دھرنوں اور ریڈ زون کے گرد گھوم رہا ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان اس وقت ایک شدید نوعیت کے ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے۔وہ جمود جو برسوں سے موجود تھا اور ہم سب کولہو کے بیل بنے ہوئے تھے، وہ ٹوٹا ہے اور ہم آئین، جمہوریت، پارلیمنٹ کے رٹے رٹائے جملوں کے سوا بھی کچھ سوچنے لگے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین، جمہوریت اور پارلیمنٹ ہماری اساس ہے، مگر یہ سوال اب اٹھنے لگے ہیں کہ آئین پر مکمل عملدرآمد ہو رہا ہے؟ جمہوریت حقیقی معنوں میں موجود ہے؟ پارلیمنٹ اپنا صحیح کام کررہی ہے۔بدقسمتی سے ان تینوں سوالات کا جواب نفی میں ہے۔مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر مار دیا ہے، ایک گہرا ارتعاش پھیلا کر اس نے پانی کی تہہ میں موجود حقیقتوں کو آشکار کیا ہے۔ مَیں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ آزادی اور انقلاب مارچ کے نتیجے میں ملک پیچھے چلا گیا ہے۔ملک آگے بڑھا ہے، قوم آگے بڑھی ہے، روایات میں اضافہ ہوا ہے، ہمارے قومی اعصاب امتحان سے گزرے ہیں اور سرخرو رہے ہیں۔بیداری کے عمل نے قوم کو جگا دیا ہے، اسے اپنے حقوق اور طاقت کا شعور بخشا ہے۔

اس ساری مہم جوئی کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے، یہ مشق رائیگاں نہیں گئی۔اس نے ہمارے قومی وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔اس سارے عمل میں بہت سے حوصلہ افزا پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہاں سب کچھ چھوئی مُوئی کے انداز میں چل رہا ہے۔ہوا کا کوئی ایک تیز جھونکا سب کچھ اُڑا کر لے جائے گا۔ہماری جمہوریت کمزور، ہماری پارلیمنٹ پانی کا بلبلہ ہے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے لئے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا، جس نے منفی خیالات کا اظہار کیاہو۔سب اس بات پر متفق تھے کہ ملک میں جمہوریت کو برقرار رہنا چاہیے اور اس کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جانا چاہیے۔پہلے بھی جمہوریت تھی کہ ایک لانگ مارچ کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر تھی۔خود اسے ختم کرنے کے لئے بہت سی قوتیں میدان میں آ جاتی تھیں۔اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں یہ اتفاق رائے موجود ہے کہ جو کچھ ہونا ہے، جمہوریت کے دائرے میں رہ کر ہونا ہے، اس سے باہر جانے کی کوئی صورت موجود نہیں۔

پچھلے تین چار ہفتوں کی مشق نے یہ روایت بھی ڈال دی ہے کہ اب بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے عوام کو محروم نہیں رکھا جاسکتا۔حکومت نے عوام کو احتجاج سے روکنے کے لئے جتنی بھی کوششیں کیں، وہ سب رائیگاں گئیں۔کنٹینروں کی دیواریں اور پولیس کی بھاری نفری بھی ان کا راستہ نہ روک سکی۔حکومت کو اپنے اس طرز عمل پر معافی بھی مانگنی پڑی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ایک دوسری روایت یہ پڑی کہ طاقت کا استعمال ناممکن ہو گیا۔پولیس نے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا اور وحشیانہ انداز حکمرانی کی نفی کردی۔یہی وجہ ہے کہ سوائے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔یوم شہداءپر آنے والے قافلوں کو روکنے کے لئے پولیس نے رکاوٹیں ضرور کھڑی کیں، لیکن روائتی سختی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے خود پولیس کو مظاہرین کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑا۔عدلیہ نے بھی اس سارے عمل میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی، سڑکوں پر سے کنٹینر ہٹانے کا حکم دے کر لاہور ہائیکورٹ نے تشدد کے عنصر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اکا دکا واقعات کے سوا معاشرے میں عمومی سیاسی ہم آہنگی برقرار رہی، اگر گوجرانوالہ میں تحریک انصاف کے قافلے پر حملہ نہ کیا جاتا تو شاید کوئی ایک وقعہ بھی ایسا نہ ملتا کہ جس میں احتجاج کرنے والے لوگوں کو ان کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش نظر آتی۔

ملک میں اتنی بڑی بے چینی ہو تو پاک فوج کی طرف خوامخواہ امید بھری نگاہیں اٹھنے لگتی ہیں۔یہ نگاہیں اس بار بھی اٹھیں اور اب بھی اس کی طرف لگی ہوئی ہیں، کیونکہ ملک کا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں امن و امان رہے اور ایسا انتشار نہ پھیلے جسے خانہ جنگی کہا جا سکتا ہے۔اس سارے عمل کے دوران بے شمار ایسے مواقع آئے کہ جب یہ لگتا تھا کہ فوج اپنا روائتی ماضی دہرانے پر مجبور ہو جائے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔اسلام آباد میں 245لگا کر فوج کو جب ذمہ داریاں سونپی گئیں تو کہا جانے لگا کہ فوج کو حکومت سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے جا رہی ہے، مگر یہ کہنے والے بھول گئے کہ فوج کوئی موم سے بنی ہوئی گڑیا نہیں کہ جسے جب اور جیسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔فوج ایک منظم ادارہ ہے اور اس کے فیصلے بہت سوچ بچار کے بعد ہوتے ہیں۔سو لوگوں نے دیکھا کہ دونوں دھرنے اسلام آباد میں دیئے گئے، فوج نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی، پھر جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنوں کا اعلان کیا تو اس امر کے باوجود کہ فوج وہاں موجود تھی، عوام کو ان کے حق احتجاج سے نہیں روکا گیا۔فوج نے اس سارے عمل میں اندر خانے کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے اپنے ترجمان کے ذریعے فریقین کو یہ پیغام پہنچایا کہ وہ حالات کو بہتر بنانے کے لئے ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوشش کریں۔میرے نزدیک یہ ساری باتیں حوصلہ افزا ہیں اور ان کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت اور آئینی ادارے مضبوط ہو رہے ہیں۔

جب قومی منظرنامے پر اس قدر حوصلہ افزا علامتیں موجود ہوں تو سیاسی قیادت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اس حقیقت کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ جوجمہوری نظام عوام کو ڈلیور کرنے سے قاصر رہا ہے۔اس میں عوام کی امنگوں پر پورا اُترنے کی صلاحیت نہیں۔یہ انہیں خوشی کی بجائے مایوسی دیتا ہے۔عوام کا سڑکوں پر نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں جمہوریت نے کچھ نہیں دیا۔کہنے کو اقتدار میں موجود افراد بہت کچھ کہتے ہیں مگر وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ اگر یہ نظام ٹھیک ہے اور عوام کو ریلیف دے رہا ہے تو پھر ملک میں اتنی بے چینی کیوں ہے، اس بات کو آسانی سے تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ بعض جمہوریت دشمن عناصر یہ سب کچھ کرا رہے ہیں، وہ کیسے کرا سکتے ہیں، اگر عوام مطمئن ہوں۔اس کا مطلب تو یہی ہے کہ عوام اس انداز حکمرانی سے خوش نہیں۔اگر صرف سوا سال کے عرصے میں ایک منتخب حکومت ایسے شدید سیاسی بحرانوں میں گھر جاتی ہے تو اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی کمزوری کا ضرور شکار رہی ہے۔دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، تاہم یہ بات تو ناقابلِ تنسیخ و تردید ہے کہ جموریت پاکستان کا مقدر ہے اور یہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گی۔البتہ اس جمہوریت کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں اور تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی ،گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا پڑے گا۔اب تک کے گزرے ہوئے وقت کا اصل سبق یہی ہے۔

مزید :

کالم -