عمران خان ایک منجم کی بات پر ایمان لے آئے

عمران خان ایک منجم کی بات پر ایمان لے آئے
عمران خان ایک منجم کی بات پر ایمان لے آئے
کیپشن: 1

  

عالم ارواح میں بابائے قوم کی روح بے چین ہوگی کہ ان کے باقی ماندہ ملک پاکستان کا ایک سیاستدان نیا پاکستان بنانے کے لئے ان کے سیاسی حریف مسٹر گاندھی کی طرح سول نافرمانی کی تحریک چلاتے ہوئے پارلیمنٹ پر دھاوا بول چکا ہے۔بابائے قوم پریشان ہوں گے کہ ان کے باقی ماندہ پاکستان کو ایک بار پھر ”ملاں“ اور گاندھی کے رحم و کرم کا سامنا ہے۔تمام اہل دانش اس بات پر متفق ہیں کہ خطہ موجود میں سول نافرمانی کی تحریک کے بانی مسٹر گاندھی تھے اور سول نافرمانی کی تحریک انہوں نے انگریز سرکار کے خلاف چلائی تھی، بہرحال بابائے قوم کے ارشادات، تعلیمات اور فلسفہ سیاست کو تو ایک عرصے سے ہم نے کسی کونے میں بند کر رکھا ہے، البتہ اپنے اپنے مقاصد و مفادات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ہم ان کے ارشادات کو وقتاً فوقتاً استعمال میں لاتے رہتے ہیں، مگر ان کے حقیقی سیاسی، قانونی اور اخلاقی کردار سے نظریں چرا کر اپنے ذاتی کردار کے ساتھ اپنے سیاسی ،سماجی اور ثقافتی معاملات کو حل کرتے ہیں، بہرحال نئے پاکستان کے بانی عمران خان نے بلاشبہ قوم کو ایک نئی زبان کے ذائقے سے آشنا کیا ہے۔انہوں نے پاکستان کے عوام اور اپنے کارکنوں کو ایک نیا سیاسی انداز بھی دیا ہے۔ان کے انوکھی طرز کے سیاسی انداز کو آپ روزانہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سن اوردیکھ رہے ہیں۔

 گزشتہ شب انہوں نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریف اور پاکستان کے وزیراعظم کے لئے چور، ڈاکو، بے شرم اور بزدل کے لفظ استعمال کئے، جس سے اندازہ ہوا کہ آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے والے اس سیاسی رہنما کے پاس ذخیرئہ الفاظ کی کوئی کمی نہیں ہے،انہوں نے اپنے سیاسی حریف پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ”شلواریں گیلی ہو چکی ہیں“ .... ان کے اس جملے کے بعد ان کے ”نئے پاکستان“ میں اخلاق کا معیار کیا ہوگا....اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جدید بابائے قوم کے آزادی مارچ میں جہاں نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود ہے، وہاں شریف خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین بھی موجود ہیں۔ان کے اس جملے کے بعد ان معزز خواتین کے کیا تاثرات ہو سکتے ہیں، اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ، مگر ان کے مارچ میں موجود خواتین کو کیا کیا مشکلات درپیش ہیں،اس کا اندازہ عمران خان کے اس اعلان سے کیا جا سکتا ہے، جو وہ خواتین کے احترام کے حوالے سے بار بار کرتے نظر آتے ہیں۔

نوازشریف کو بار بار بزدل قرار دینے والا، میرے میانوالی کی عظیم اور غیرت مند دھرتی کے معزز قبیلے سے تعلق رکھنے والا عمران خان اپنی ذات میں اتنا دلیر اور بہادر ہے کہ وہ اپنے سیاسی حلیف ”ملاں“ کی پیروی کرتے ہوئے اس وقت تک اپنی گاڑی یا کنٹینر کو آگے چلنے کا حکم نہیں دیتا،جب تک اسے کامل یقین نہ دلا دیا جائے کہ ان کی گاڑی یا کنٹینر کے آگے مارچ میں شامل معزز اور شریف خواتین کا ایک موثر گروپ ڈھال کی صورت میں موجود ہے۔عمران خان گزشتہ تین چار روز سے ایک سیاسی رہنما سے زیادہ کسی سرکس کے ”کمنٹیٹر“ نظر آ رہے ہیں۔ وہ آزادی مارچ کے شرکاءکوبار بار بتاتے ہیں کہ شہزاد رائے، علی ظفر، جنید جمشید، وسیم اکرم، شان اور دیگر کئی فن کار اور گلوکار بھی آزادی مارچ میں شریک ہونے کے لئے آ رہے ہیں، بدقسمتی سے فلمسٹار نرگس اور دیدار نے شوبز سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، ورنہ عمران خان یہ اعلان کرتے بھی نظر آتے کہ نرگس اور دیدار بھی فتح کا جشن منانے کے لئے پاﺅں میں کھنگرو باندھ کر اسلام آباد کی طرف روانہ ہو چکی ہیں اور معروف گلوکارہ نصیبو لال اپنا مشہور گیت ....”کنڈی نہ کھڑکا سوھنیاں سدھا اندر آ“....گاتی ہوئی، چکری کے قریب پہنچ چکی ہیں۔عمران خان جس طرح اعلانات کرتے نظر آتے ہیں، ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ وہ کسی وقت یہ اعلان بھی کرسکتے ہیں کہ فلمسٹار شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان، کرینہ کپور، کرشمہ کپور اور قطرینہ کیف نے بھی ان کے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ عمران خان کو کیا ہوگیاہے، وہ جو ان میں سنجیدگی تھی ،اسے کس کی نظر لگ گئی ہے۔مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میرے میانوالی کو ایک نئی شان دینے والے عمران خان کس کے جھانسے میں آ گئے ہیں۔بنی گالہ سے آزادی مارچ کے شرکاءتک کے سفر میں انہیں ہر جگہ فتح ہی فتح نظر آتی ہے، مگر درحقیقت وہ اپنی سیاست کی بازی ہار چکے ہیں۔وہ عوامی طاقت کے ذریعے تبدیلی کے راستے سے بھٹک چکے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ وہ چند ہزار لوگوں کے ساتھ نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ کر دیں گے۔ممکن ہے کہ وہ نوازشریف کی حکومت ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں، مگر اس کا مطلب یہ کہاں ہے کہ ان کا نیا پاکستان وجود میں آ جائے گا۔ان کا نیا پاکستان صرف ”اسلام آباد“ کی فتح سے وجود میں نہیں آئے گا، اس کے لئے اسے پورے پنجاب، سندھ، بلوچستان کے لوگوں کی تائید کی ضرورت ہے، جو وہ ابھی تک حاصل نہیں کر سکے....ایک سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عمران خان کے ”پیچھے“ کون ہے۔ یہ ایک ”راز“ ہے اور اپنی معلومات کے حوالے سے پاکستان کے قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔

2013ءکے الیکشن میں ابھی ایک سال باقی تھا کہ ایک بہت بڑے ”منجم“ نے زائچے کی روشنی میں عمران خان کو بتایا کہ آئندہ انتخابات کے ذریعے وہ ملک کے وزیراعظم بن جائیں گے۔ اس منجم نے آسمان پر موجود ایک ایک ستارے کی حرکت سے آگاہ کرتے ہوئے عمران خان کو پوری طرح مطمئن کر دیا کہ وہ وزیراعظم بنے ہی بنے۔عمران خان نے اس ”منجم“ کی بات کو اپنے کمزور ایمان کا حصہ بنا لیا ۔ اس منجم نے عمران خان کو ایک اور بات بھی کہی کہ ان کی جان کو شدید خطرہ ہے، لہٰذا وہ ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی لاپرواہی نہ کریں۔ساتھ ہی انہوں نے عمران خان کو ایک وظیفہ بھی پڑھنے کو دیا....جو وہ نہ صرف زیرلب ہر وقت پڑھتے رہتے ہیں، بلکہ اپنی تقریر سے پہلے بھی پڑھتے ہیں۔ منجم کی ایک پیشن گوئی اس وقت پوری ہوگئی، جب عمران خان بدقسمتی سے ایک حادثے کا شکار ہو گئے، انہیں اپنی انتخابی مہم سے باہر ہونا پڑا، الیکشن کے نتائج آئے تو ان کی جماعت صوبہ سرحد سے تو کامیاب ہو گئی، مگر پورے پاکستان سے بمشکل 35کے قریب نشستیں حاصل کر سکی۔

 منجم کی حادثے کی پیشن گوئی نے عمران خان کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ اگر منجم کی ایک بات درست ہے تو پھر وزیراعظم بننے والی بات تو غلط ہو ہی نہیں سکتی، سو یہ حقیقت ہے عمران خان کے نیا پاکستان اور ان کے آزادی مارچ کی ۔ان کا خیال ہے کہ منجم کی بتائی ہوئی ستاروں کی پوزیشن اس وقت بہت پاور فل ہے اور اگر ان دنوں میں وہ کوشش کریں تو ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے عوام ، خاص طور پر نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ جو شخص خود ستاروں کے رحم و کرم پر ہو.... وہ کسی دوسرے کی تقدیر کیا بدلے گا؟ مجھے افسوس ہے کہ طاہرالقادری کے حوالے سے آج بات نہیں کر سکا، ان کے حوالے سے چھوٹی سی بات عرض ہے کہ گزشتہ شب انہوں نے اپنے مریدین سے کہا کہ نماز مغرب کے بعد پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے، سب لوگ نمازیں پڑھیں گے، پھر انہوں نے باآواز بلند پوچھا کہ کوئی بتا سکتا ہے کہ کعبہ شریف کدھر ہے۔فرماتے ہیں کہ گزشتہ پانچ دنوں سے آپ لوگوں کے درمیان موجود ہوں اور ساری ساری رات خدا کے حصور سجدہ ریز ہو کر آپ لوگوں کے لئے دعا کرتے ہیں، تو یہاں سوال یہ ہے کہ اگر وہ پانچ دن سے کراﺅڈ میں موجود ہیں تو پھر انہوں نے نمازیں بھی بہت پڑھی ہوں گی تو پھر سوال یہ ہے کہ انہی کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ یہاں ”قبلہ“ کس طرف ہے؟

مجھے یقین ہے کہ طاہرالقادری کے ”مریدین“ نے ان کی اس بات پر بے چینی کا اظہار نہیں کیا ہوگا....کیونکہ انہیں کامل یقین ہے کہ ان کے ”رہبر“ جو فرماتے ہیں، سچ فرماتے ہیں۔ طاہر القادری کے مریدین کے یقین کی وہ کیفیت ہے جو طالبان کے خودکش بمباروں کی ہوتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ خودکش حملے کے بعد ان کا پہلا پڑاﺅ جنت میں ہوگا.... اور پھر طاہرالقادری تقریر بھی زبردست کرتے ہیں۔وہ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی تقریر کررہے ہیں، مگر الفاظ کے ہیرپھیر کے ساتھ وہ اپنی تقریر کو نئی تقریر بنا کر پیش کرتے ہیں۔اب تو وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان بھی ان کی تقریر سے متاثر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ طاہر القادری کی تقریر سن کر ان کا دل بھی مچلنے لگتا اور ان کے اندر طاہرالقادری کے مارچ میں شریک ہونے کی خواہش پیدا ہونے لگتی ۔اچھی بات ہے ،وہ اپنی خواہش پر قابو پا لیتے ہیں، وہ کسی دن بے قابو ہو کر طاہرالقادری کے حصے میں جا پہنچے تو پھر ان کی وجہ سے طاہرالقادری اور عمران خان کے درمیان باقاعدہ ہاتھا پائی بھی ہو سکتی ہے اور ہاں یہ جو عمران خان نے بروز منگل پارلیمنٹ پر چڑھائی کی ہے، اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ بقول منجم، پاکستان میں آج تک جتنے بھی مارشل لاءلگائے گئے ہیں ،سب کے سب منگل کے روز ہی لگائے گئے ہیں۔ شکر ہے منگل گزر گیا ہے اور امید یہی ہے کہ اگلے منگل تک انقلاب مارچ اور آزادی مارچ ماضی کا قصہ بن چکےہوں گے۔اگر حکومت نے ماڈل ٹاﺅن کی طرح کا کوئی نیا ”چن“ نہ چڑھا دیا تو؟

مزید :

کالم -