اپنی صورت خود ہی بگاڑ لی ہ

اپنی صورت خود ہی بگاڑ لی ہ
اپنی صورت خود ہی بگاڑ لی ہ
کیپشن: 1

  

مارے میڈیا کے بعض دوستوں نے عمران خان کی صورت میں پاکستان کے لئے، جس صاف شفاف قیادت کی تصویر دیکھی تھی، وہ اب اس تصویر کے ”دھندلاتے رُخ“ کو دیکھ کر بہت مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے اپنی پارٹی کے نوجوان توگزشتہ سال سے ہی دل گرفتہ ہیں، جب ان کی پارٹی کو ویسی کامیابی نہ مل سکی، جس کی توقع یہ ”ایم بی اے“ اور ”بی بی اے“ والی کلاس کر رہی تھی۔ اب انہیں کون بتائے کہ محمود غزنوی کے بھی ہندوستان پر17حملوں میں سے آخری ہی کامیاب ہوا تھا اور اس حملے میں ہی وہ اس قابل ہوا تھا کہ ”سومنات“ مندر کے بتوں کو توڑ سکتا ۔ عمران خان نے جب بھی سیاست میں قدم رکھا وہ بہرحال آنے والے تمام وقتوں میں میاں نواز شریف کے مقابلے میں جونیئر ہی رہے گا۔ میاں نواز شریف تو شاید کبھی سیاست میں ہی نہ آتے، لیکن جب 1972ءمیں بیرسٹر بھٹو نے ساڑھے پانچ ہزار صنعتی اور کاروباری ادارے اور فیکٹریاں سرکاری قبضے میں لیں، تو اس وقت میاں صاحبان کی ”اتفاق فونڈری“ کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا۔

 اس وقت یہ فیکٹری میاں صاحب کے مرحوم والد اپنے سات بھائیوں کے ہمراہ چلا رہے تھے اور سات بھائیوں میں اس قدر مثالی اتحاد اور اتفاق تھا کہ انہوں نے سریا، روڈ رولرز، لوہے کے گارڈر، ویٹ تھریشر وغیرہ جیسا زرعی سامان اور بھاری لوہے کی مصنوعات میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں بہت ہی اچھا نام کمایا ہوا تھا اور اُن کی فیکٹری میں ہزاروں صنعتی مزدور کام کرتے تھے اور یہ فیکٹری بہت منافع کما رہی تھی۔ یوں اچانک فیکٹری سے اُن کے مالکان کو باہر نکال کر سڑک پر پھینک دینے کا یہ حکومتی عمل میاں نواز شریف کو یکسر پسند نہ آیا اور پھر جب اسی اتفاق فونڈری جیسی سونے کی مرغی کو سرکاری افسر چلانے لگے، تو یہ گھاٹے میں چلی گئی۔ یہی فیکٹری نہیں، بلکہ تقریباً ایسی تمام ہی فیکٹریاں نقصان میں چلی گئیں اور یوں بھٹو کی یہ پالیسی یکسر فیل ہو گئی۔ میاں صاحب نے دوسرے متاثرین کے ساتھ مل کر انجمن متاثرین بنائی اور یہی اُن کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ابتدا تھی۔ یوں وہ چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی سے بھی پہلے میدان سیاست میں آ گئے۔

عملی سیاست کا آغاز لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی کی گورنر شپ، یعنی ضیاءالحق کے مارشل لاءکے زمانے میں مارشل لاءکی حکومت کا صوبائی وزیر خزانہ بننے سے 1981ءمیں کیا۔ باقی کی تفصیل سب کو معلوم ہے۔ 1988ءوالا الیکشن وہ پہلا ایسا الیکشن تھا، جس میں 1985ءوالے انتخابات کی طرح مارشل لاءکی چھتری نہیں تھی اور یہ الیکشن انہوں نے اپنی مقبولیت اور بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ”جیتا“۔ اس زمانے کے ”مختصر میڈیا“ نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور وہ بغیر کسی بیساکھی، فوجی امداد وغیرہ صوبہ پنجاب کے دوبارہ وزیراعلیٰ بن گئے اور پھر اپنی سیاست میں مزید (Grow) کر کے1990ءمیں وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ بھی بنے اور الیکشن جیت کر پہلی بار وزیراعظم بھی بن گئے۔

عمران خان ہوں، ڈاکٹر طاہر القادری ہوں، شیخ رشید ہوں یا چودھری صاحبان، ان تمام لیڈروں نے متعدد ”ادوار“ میں فوج کے ساتھ کام کیا ہے۔ خود میاں صاحبان کے ساتھ بھی رہے ہیں، لہٰذا آج جلسوں اور جلوسوںمیں تقاریر کر کے نواز شریف پر جو الزامات بھی لگائے جاتے ہیں وہ اگر سو فیصد صحیح بھی ہوں، تو تاریخ گواہ ہے کہ کیا یہ الزامات ملک کے دوسرے کسی وزیراعظم پر یا صدر پر نہیں لگائے گئے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ میڈیا ہر آئے دن ”زرداری“ پر کیا کچھ کیچڑ نہیں اچھالتا تھا۔ سرے محل تو برطانیہ میں آج بھی موجود ہے اور شاید وہ بینک بھی سوئٹزر لینڈ میں باقاعدگی سے نوٹ گن رہا ہے، جس میں پاکستان سے مبینہ طور پر لوٹے گئے اربوں ڈالر بڑے قرینے سے سجا کر رکھے گئے اور کوئی مائی کا لال ان اربوں روپوں اور ڈالروں کو آج تک واپس نہیں لا سکا۔

حضور والا! یاد رکھیں جب تک ہمارے پیارے پاکستان میں ”رشوت دینے والے ہاتھ“ موجود ہیں، رشوت لینے والے نہ تو کم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سیاست کے میدان سے کوئی لوٹ کھسوٹ کم کر سکتا ہے، بلکہ ہر آنے والے وقت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ کل پھر کوئی عمران خان اُٹھے گا اور آئین کی تمام شقوں کو پامال کرتے ہوئے کسی بھی نئی آنے والی حکومت کو اس کا آئینی عرصہ پورا ہونے سے پہلے ہی الزامات کا جلسوں میں اعلان کر کے اسے گھر جانے کے لئے کہے گا۔ یہ سلسلہ یوں ہی جاری و ساری رہے گا اور اگر اس ضمن میںکوئی لیڈر بُرا نام کمائے گا، تو وہ عمران خان اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں گے۔ عمران خان کی جماعت تو شاید آنے والے کسی بھی الیکشن میں اب کم کم ہی کہیںدکھائی دے گی ، البتہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اگر کینیڈا واپس نہ چلے گئے تو شاید جماعت اسلامی جتنا وزن اور ”ہیئت“ پاکستانی سیاست میں حاصل کر لیں، لیکن جہاں تک قومی سطح پر پارلیمنٹ کی نشستیں لینے کا سوال ہے تو ان کی پارٹی بھی اگر باقاعدگی کے ساتھ سات آٹھ الیکشنوں میں حصہ لے اور ہر یونین کونسل، یعنی پاکستان کی تقریباً تین لاکھ یونین کونسلوں میں اپنے مضبوط روابط والے اپنی جماعت کے دفاتر کھولے اور اپنی تنظیم میں تسلسل اور باقاعدگی پیدا کرے، تو شاید قومی دھارے میں ان کے بھی ایم این اے صاحبان سیاست میں دکھائی دینے لگیں ، ورنہ پھر ورنہ .... ہی ہے۔

شاید میری یہ سطور شائع ہونے تک اسلام آباد کے میلے اپنے اختتام تک پہنچ جائیں، لیکن ان کا جو بھی نتیجہ نکلے تاریخ عمران خان کو بہت سے اپنے موقف تبدیل کرنے، آئینی شقوں کو پاﺅں تلے روندنے اور بعض ناقابل عمل مطالبوں کی بنا پر کبھی فراموش نہ کر سکے گی اور اب تک سیاست میں انہوں نے جتنا اچھا کھیل کھیلا تھا، اپنے سول نافرمانی کے مطالبے پر وہ پورے کھیل سے ہی آﺅٹ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اُن کا مطمح نظر محض جمہوریت کا خاتمہ ہے، تو پھر کم از کم سیاست میں تو اُن کا کوئی نام لیوا دکھائی نہیں دے گا۔ مستقبل میں اب شاید اسلام آباد میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگ جائے، کیونکہ جس طرح تھکا تھکا کر عمران خان اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ہمارے میڈیا والوں کے سانس پھلا دیئے ہیں اس کے بعد وہ اب ”Live“ کوریج کی اُن سے آنے والے دنوں میں کم کم ہی توقع رکھیں۔ آخری فیصلہ بالآخر عوام نے ہی کرنا ہے اور وہ بھی اگلے الیکشن میں ہو گا۔

آج حالت یہ ہے کہ گلی گلی عام لوگ بھی عمران خان کو کوسنے دے رہے ہیں، کیونکہ اُن کی جماعت کے لوگ ہر روز 10لاکھ سے بھی زائد موبائل فونوں پر یہ پیغام (SMS) لوگوں کو تمام بڑے شہروں سے بھجوا رہے ہیں کہ اسلام آباد کے دھرنے میں جانے کے لئے مفت ٹرانسپورٹ کا انتظام ہے، آپ آئیں فلاں پتہ پر فوراً پہنچیں، جہاں سے سینکڑوں ویگنیں، بسیں اور کاریں اسلام آباد کے دھرنے میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ خدا کے بندوں کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ اگر مفت ٹرانسپورٹ کے یہ پیغام ارسال کرنے تھے تو14اگست کی صبح کو کرتے۔ اب تو ان پیغامات کی حالت ”عید پیچھے تنبا پھوکنا“ والی بات ہے۔ ان دنوں تو نتیجہ بس ایسا ہی ہے جیسے ”مرغی نے کھہیہ اُڑائی تے اپنے سر وچ پائی“۔

رہی یہ بات کہ قومی حکومت بنے یا ٹینکو کریٹ حکومت بنائے۔ اس کے بارے میں دھرنے والے لیڈر اپنے یرغمالیوں سے ہاتھ اٹھوا کر فیصلے لے رہے ہیں، لیکن کیا چند ہزار لوگوںکو20کروڑ عوام کے سلسلے میں کسی فیصلہ کا حق دیا جا سکتا ہے، کیا قومی حکومت فرشتے آ کر بنائیں گے۔ اس ملک کا موجودہ صدر یا موجودہ سپریم کورٹ ایسا کرے گی نہیں، پھر کون آ کر ایسے فیصلے کرے گا۔ آئین کی شقیں اس بارے میں واضح ہیں۔ پھر تو یہ فیصلے وہی طاقتیں کر سکیں گی، جو آئین کو معطل یا منسوخ کر دیں گی یا پھر حکومت خود ایمرجنسی لگا کر خود ہی کوئی ایسی صورت پیدا کرے گی۔ آپ خود سوچیں کون سی حکومت اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی چلائے گی؟ یہ تمام ایسے سوالات ہیں جن پر پورے پاکستان میں ہر ووٹر اب ایک دوسرے سے بحث میں مصروف ہیں اور سب جمہوریت پسند ووٹروں کے مُنہ لٹکے ہوئے ہیں۔ جوابات تو سیدھے اور واضح ہیں۔ پھر یہ اسلام آباد والے مولوی یا کھلاڑی لیڈر کیا چاہتے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کوشش بھی کریں، تو کبھی حکومت میں نہیں آ سکتے اور اب عمران خان نے اپنی صورت اپنی سیاست کی صورت خود ہی بگاڑ لی ہے۔

مزید :

کالم -