مارچوں کا انجام، ماضی میں بھی مفاہمت ہوئی

مارچوں کا انجام، ماضی میں بھی مفاہمت ہوئی
مارچوں کا انجام، ماضی میں بھی مفاہمت ہوئی
کیپشن: 1

  

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے آزادی اور انقلاب مارچ نے شہریوں کی گفتگو کے موضوع ہی تبدیل کر دیئے ہیں۔یوں تو ان مارچوں کے لاہور سے جانے اور اسلام آباد میں مورچہ جما لینے سے لاہوریوں کو سکھ ملا، لیکن ذہنی فراغت نہیں ہو سکی اور جہاں بھی چار لوگ مل بیٹھتے ہیں۔بات اس صورت حال کی شروع ہو جاتی ہے، سیر صبح کی بھی یہی حالت ہے، جونہی سیر مکمل کرکے یہ حضرات سستانے کے لئے بیٹھتے ہیں تو تبصرہ لانگ مارچ پر ہی ہوتا ہے۔گزشتہ صبح جب محفل جمی تو حسب سابق قریشی صاحب نے حکمرانوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور بات عوامی مسائل کی کی۔اس میں لوڈشیڈنگ مستقل روگ ہے تاہم وہ مہنگائی پر بول رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ مقررہ آمدنی والا طبقہ پس کر رہ گیا ہے۔

رانا حنیف نے سوال اور جواب کو ازخود جمع کر لیا اور بولے! یہ حکومت گئی، جب وجہ دریافت کی گئی کہ کیسے گئی یا جائے گی تو ان کا استدلال تھا دونوں مارچ اپنی منزل کے قریب تر پہنچ گئے ہیں اور اب اس حکومت کو جانا ہی ہوگا، منور بیگ صاحب کا موقف تھا کہ اگر دھرنے ہی سے حکومت جانا ہے تو پھر تنازعہ ہی بہتر ہوگا کہ ایک مرتبہ بھی ایسی مثال بن گئی تو جس کا جی چاہے گا چند ہزار لوگ اکٹھے کرکے اسلام آباد پر چڑھائی کر دے گا، انہوں نے پوچھا کہ اس تمام تر صورت حال کے اثرات کا اندازہ کریں، معاشی اور اقتصادی میدان میں کام رک گیا اور نقصان شروع ہو گیا ہے۔روپیہ کمزور اور ڈالر پھر سے طاقتور ہو گیا، شیرازی صاحب کا کہنا تھا کہ اس صورت حال سے سرمایہ کار بھاگ جائیں گے اور سرمایہ کاری رک جائے گی۔

قریشی صاحب بضد تھے کہ شریف برادران نے اپنی بری حکمرانی کے ذریعے مسلسل عوام کو نقصان پہنچایا ہے اور اب تو نچلا متوسط طبقہ پس کر رہ گیا۔حتیٰ کہ سبزی اور دال بھات کھانا مشکل ہوگیا، لوڈشیڈنگ اور کرپشن نے بے حال کر دیا۔اس پر صورت حال یہ ہے کہ کسی سے کوئی باز پرس نہیں ہو رہی، نچلی سطح پر رشوت کا بازار گرم ہے۔سرکاری اہل کار اپنے فرائض سے غفلت برتتے اور عوام سے رشوت لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتے، اس پر اگر کوئی احتجاج کرتا ہے تو وہ حق بجانب ہے۔حاضرین مجلس ان کے ساتھ اتفاق کرتے تھے لیکن وہ بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح اس مشکل کا کوئی حل پیش نہ کر سکے،بہرحال اتفاق رائے یہی تھا کہ فریقین مسائل کو انتہا پر لے گئے کہ اب بات بھی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ صورت حال اچھی تو بالکل نہیں، سارے ہی لوگ تشویش میں مبتلا تھے اور دعاگو تھے کہ کوئی پرامن حل نکل آئے۔

پیشہ صحافت میں ہونے کی وجہ سے کئی تبدیلیاں دیکھیں۔ایوب خان کے خلاف تحریک سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد تک کی بطور رپورٹر ذاتی طور پر کوریج کی اور بڑے سخت ادوار دیکھے، تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تحریک کامیاب ہوئی ہو تو تحریک چلانے والوں کو فوری فائدہ پہنچ جائے۔1958ءسے آج تک جتنے بھی مارشل لاءآئے وہ سیاسی رہنماﺅں کی اپنی کشمکش اور محاذ آرائی کے سبب آئے، ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا اور اپنے خلاف چلنے والی تحریک کے باعث اقتدار کی چابیاں یحییٰ خان کے سپرد کرکے گوشہ نشین ہو گئے، اسی طرح بعد میں بھی جتنے مارشل لاءآئے تحریک کے نتیجے میں بھی کبھی حقیقی منزل نہ پا سکے۔ہر تحریک کا انجام بالآخر کسی نئے آمر کی آمد کے ساتھ ہوا، ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کافی دنوں تک چلی اور پھر انہوں نے سرکاری کنجی جنرل یحییٰ کو تھما دی، جن کے دور میں ملک ہی دو ٹکڑے ہو گیا۔

 ذہن میں تازہ رہنے والی تحریک پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو کے خلاف تھی اور اس میں جو کچھ بھی ہوا، اب بھی ایک مثال ہے۔ذوالفقار علی بھٹو پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے تاخیر کر دی، لیکن لوگ بھول جاتے ہیں کہ بھٹو نے تاخیر کیا کرنا تھی وہ تو تحریک چلانے والے تھے جنہوں نے مذاکرات پر توجہ ہی نہیں دی، دوسری طرف بھٹو بھی ٹال مٹول کرتے رہے۔آخر کار جب تحریک نے زور پکڑا تو مذاکرات کی راہ تلاش کرنا پڑی، اس وقت پاکستان قومی اتحاد کی ساری قیادت جیل میں تھی، کچھ لوگ سہالہ ریسٹ ہاﺅس میں نظر بند تھے تو ولی خان اور بلوچستان کے رہنماﺅں سمیت قوم پرست بغاوت کے الزام میں مقدمہ کا سامنا کررہے تھے۔یہ حضرات حیدرآباد جیل میں تھے، ایسے میں محترم سردار عبدالقیوم کو رہا کیا گیا اور انہوں نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا کام کیا ان کو خصوصی مراعات دی گئیں اور انہوں نے دور دور جا کر اکابرین سے مسلسل بات کی بہتر نتائج نکلے، پاکستان قومی اتحاد اور پیپلزپارٹی کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا۔یہ الگ بات ہے کہ جنرل ضیاءالحق نے سیاسی رہنماﺅں کی کوشش پر پانی پھیر دیا اور مارشل لاءنافذ کر دیا۔

آج بھی صورت حال ویسی نظر آتی ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری مذاکرات پر بھی آمادہ نہیں ہیں، ایسے میں کسی سردار عبدالقیوم جیسی معتبر شخصیت کی ضرورت ہے جو جا کر سمجھائے اور یہ کوئی ناممکن العمل نہیں، بہرحال محترم ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو پسند ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا، بات چیت ہونا چاہیے کہ اب تو شہریوں کی طرف سے بھی احتجاج شروع ہو گیا ہے، جتنی جلدی کی جائے گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔

مزید :

کالم -