ہر کوئی ہوش کے ناخن لے

ہر کوئی ہوش کے ناخن لے

  


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک کے حضرت ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب مارچ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈیرے جما لئے ہیں۔ جناب عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے انہیں بہت انتظار کروایا، اب پیچھے نہیں ہٹیں گے، نواز شریف سُن لیں،استعفیٰ ہی نہیں، احتساب کرنے بھی آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کل تک استعفیٰ نہ دیا تو وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ریڈ زون کی جانب پیش قدمی سے قبل آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ریڈ زون پاکستان کا حصہ ہے، ہندوستان کا نہیں۔ مارچ پُرامن رہے گا، تشدد نہ کیا جائے،انہیں نواز شریف سے زیادہ ڈپلومیٹک انکلیو کی فکر ہے۔ مارچ کا ہدف صرف اور صرف دھاندلی شدہ پارلیمینٹ ہاؤس ہے، ڈپلومیٹک انکلیو یا دوسری اہم عمارتوں کی جانب مُنہ بھی نہیں کریں گے۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ سہروردی روڈ پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پُرامن انقلاب مارچ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے منتقل ہو گا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا بدلہ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے۔ ہر شہری پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن دھرنا دینے کا حق رکھتا ہے اور قانون بھی اس سے منع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یقین دلاتے ہیں کہ کارکن پُرامن رہیں گے۔ انہوں نے ضمانت دی کہ کوئی کارکن ریڈ زون میں توڑ پھوڑ نہیں کرے گا، حکومت ریڈ زون میں داخل ہونے دے اور فوری طور پر کنٹینرز ہٹا دیئے جائیں، پولیس یا دیگر فورسز بدامنی پھیلانے کی کوشش نہ کریں، پُرامن شہریوں پر ہاتھ نہ اٹھائیں اور گولی نہ چلائیں، اگر اسلام آباد کی سر زمین پر خون گرایا گیا تو حکمرانوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ عمارتوں میں گھسنا یا توڑ پھوڑ ان کے پلان میں شامل نہیں، انہوں نے کہا کہ وہ نظام بدلنے آئے ہیں نواز شریف کی جگہ کوئی اور وزیراعظم آ جائے تو اس کو بھی نہیں مانیں گے۔ اصلاحات کے لئے قومی حکومت قائم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ان کی ’’عوامی پارلیمنٹ‘‘ (یعنی اجتماع کارکنان) کا اجلاس ہو گا۔

احتجاج آئینی ہے یا غیر آئینی، آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے اہداف قانون کی حد میں ہیں یا اس سے باہر، اس پر بہت بحث ہو چکی اور بعد میں مزید بھی ہو سکتی ہے، اس وقت حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن ریڈ زون میں نہ صرف داخل ہو چکے ہیں، بلکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جم بھی چکے ہیں، جس سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حکمت عملی کامیاب اور انتظامیہ کی پلاننگ ناکام ہو گئی ہے۔ حکومت ابھی تک ان دونوں جماعتوں کی طرف سے کئے گئے وعدوں کی دہائیاں دے رہی ہے، لیکن وعدوں پر اعتبار کرتے ہوئے وہ یہ فراموش کر بیٹھی کہ ایسے داؤ پیچ کا استعمال ماضی میں مختلف سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔ کسی بات کو طے کر کے مُکر جانا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بدھ کی صبح اپنے کارکنوں کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ کوئی باہر نہ جانے پائے۔ مارچ کے شرکاء ریڈ زون میں ہیں، حساس عمارتوں کی حفاظت کے معاملات فوج کے سپرد ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے واضح کیا ہے کہ ریڈ زون میں واقع تمام عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور پاک فوج کے جوان ان عمارتوں کی حفاظت پر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں تمام فریقین کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور یہ وقت کا تقاضا ہے کہ معاملات کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے۔ جناب باجوہ کا فرمانا بجا ہے، یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے۔ حفاظت صرف اینٹ گارے سے بنی عمارتوں کی نہیں ان کی روح کی بھی کرنا ہو گی۔ عمارتوں کی دیواروں میں پڑنے والی دراڑیں تو بھر سکتی ہیں،لیکن جو زخم اداروں کی روح پر لگیں گے ان کو مندمل کرنا آسان نہیں ہو گا۔ عمران خان نے بدھ کی شام آٹھ بجے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں گھس جائیں گے، اﷲ نہ کرے ایسا ہو،لیکن اگر ایسا ہو گیا تو آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رہنی چاہئے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پہنچ کر جناب ڈاکٹر طاہر القادری نے جو تقریر کی، اس نے بہت سے دِلوں کو گرما دیا، ان کی کئی باتوں میں صداقت ہے، سیاست دانوں پر تنقید بھی حقائق سے یکسر عاری نہیں ہے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹیکس نادہندہ ہے؟ ہمارے کئی منتخب نمائندے آئین کے آرٹیکل62 کے معیار پر بمشکل ہی پورا اترتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ عوام غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بہت کچھ درست ہے لیکن بہت کچھ درست ہونے والا ہے۔ سسٹم میں بہت تبدیلی درکار ہے، مگر دستور کی حدود میں رہتے ہوئے ہی تبدیلی کے عمل کو نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔ آئین کی بالادستی ہر حال میں تسلیم کرنا ہو گی۔ چند ہزار لوگوں کے اجتماع کو عوامی پارلیمنٹ کا نام دے کر منتخب پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں قرار دیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے بھی طاہر القادری اور عمران خان کو سپریم کورٹ میں طلب کر لیا ہے دیکھئے اب اس معاملے میں وہ کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔

ماڈل ٹاؤن سانحے کے بعدہم مزید لاشوں کے متحمل نہیں ہو سکتے، 17جون کو گرائی جانے والی لاشوں کا گھاؤ بہت گہرا ہے، ابھی تک اس نقصان کی تلافی نہیں ہو پائی۔ اسی وجہ سے بہت کچھ زیر و زبر ہو گیا، ہماری سیاست ان لاشوں کی یرغمالی بنی ہوئی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ کسی اور کا خون بہے، اگر خون بہا تو بات یہاں ختم نہیں ہوگی بلکہ یہاں سے شروع ہو گی۔

اس وقت اشد ضرورت ہے کہ ہر کوئی ہوش کے ناخن لے، ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ کر مذاکرات کا بند دروازہ کھولے۔ حکومت ، عمران خان اور طاہر القادری کو چاہئے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کر کے پچھلے دو ہفتوں سے جاری اس صورت حال کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

مزید :

اداریہ -