ریلوے کے لئے مال کی درآمد میں گھپلا!

ریلوے کے لئے مال کی درآمد میں گھپلا!

  

ریلوے کو نقصان سے نکال کر منافع بخش بنانے کے لئے درآمد کئے گئے انجنوں کے مسائل بڑی تگ و دو اور اوپر کی سطح پر بات کر کے حل کئے گئے اور اب جو انجن منگوائے گئے ان کی دیکھ بھال کے لئے اس کمپنی کے انجینئر بھی بلائے گئے ہیں کہ پیدا ہونے والا نقص موقع پر دور کیا جا سکے اور مقامی ہنر مند تربیت بھی حاصل کر لیں۔ خبر یہ ہے کہ ان انجنوں کے لئے ایک نیا لوکو شیڈ بھی بنایا گیا ہے کہ انہیں دوسروں سے الگ رکھ کر دیکھ بھال اور مرمت کا کام ہو سکے۔اس ورکشاپ یا شیڈ کے لئے کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن سسٹم۔ ایل ای ڈی اور بائیو میٹرک نظام کے لئے ٹینڈر دیئے گئے جن کے مطابق کلوز سرکٹ کا نظام برطانوی، ایل ای ڈی کورین اور بائیو میٹرک سسٹم امریکی مانگا گیا، جس متعلقہ کمپنی نے یہ ٹینڈر حاصل کیا اس نے یہ سامان بالترتیب چین، ملائیشیا اور چین کی ایک دوسری کمپنی سے منگوا کر مہیا کر دیا۔ پڑتال پر یہ چالاکی پکڑی گئی اور سامان واپس کر کے ٹینڈر منسوخ کر دیا گیا، کمپنی کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

یہ ایک اچھی خبر ہے کہ خراب میٹریل استعمال کرنے اور رقم ادا کرنے سے پہلے چیک کر لیا گیا۔ اس نظام کو پہلے سے اپنایا گیا ہوتا تو پہلے چینی انجنوں کی خرابی کا بھی ابتدا ہی سے علم ہو جاتا اور خواری اور اعلیٰ سطح پر دباؤ کے ذریعے انجنوں کی درستگی کرانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اپنی سی کوشش کر رہے ہیں تاہم وہ خود انجینئر نہیں۔ اس لئے بعض امور میں غلطی لگ سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -