ماورائے آئین اقدام ہرگز بھی قبول نہیں کرینگے ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے انسانی حقوق

ماورائے آئین اقدام ہرگز بھی قبول نہیں کرینگے ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے ...

  

                                    لاہور ( نمائندہ خصوصی ) جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی طرف سے پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کرنے اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کو غیر آئینی ا ور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ماورائے آئین اقدام کو ہرگز بھی قبول نہیں کریں گے مسائل کو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حل کیا جا ئے ۔ان خیالات کا اظہار انسانی حقوق کی مختلف 33سے زائد تنظیموں کے مشترکہ فورم ” جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے انسانی حقوق “ کے راہنماﺅں آئی اے رحمن ¾ حنا جیلانی ¾ فاروق طارق ¾محمد تحسین نے لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت پر کوئی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی سیاسی قوتیں موجودہ تشویشناک صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں تشدد سے بچتے ہوئے پرامن حل نکالا جائے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سنیئر راہنماءآئی اے رحمن نے کہا کہ قیام پاکستان سے آج تک ملک میں جمہوریت کو پروان ہی نہیں چڑھنے دیا گیا اگست1954ءمیں پہلی بار جمہوریت پر شب خون مارا گیا اور اس وقت آئین ساز اسمبلی کو برخاست کیا گیا اس کے بعد بار بار عوام نے بحالی جمہوریت کی جدوجہد کی ہے اب لگ رہا ہے کہ ایک با ر پھر عوام پر یہی جنگ مسلط کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ گورننس کے مسائل ہیں لیکن اگر کوئی تبدیلی آنی ہے تو وہ پارلیمنٹ کے اندر سے ہی آنی چاہیے ہجوم کے پریشر پر اگر رخناکی اجازت دی گئی تو یہ صرف جمہوریت کیلئے ہی نہیں بلکہ ملکی استحکام کیلئے بھی خطرناک ہوگا اس وقت سندھ ¾ بلوچستان ¾خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے منتخب نمائندے یرغمال بنالئے گئے ہیں اس صورتحال میں وفاق کو خطرہ درپیش ہوچکا ہے ۔انہوںنے کہا کہ جمہوریت پسند قوتیں ¾سول سوسائٹی اور 18کروڑ عوام آئین سے باہر ہونے والے کسی معاہدے کوقبول نہیں کریںگے ۔آئین و قانون میں تبدیلی کا طریقہ آئین میں موجود ہے ڈنڈے کے زور پر قانون میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔ آئی اے رحمن نے کہا کہ عملاً ابھی تک ملک سے مکمل طور پر مارشل لاءختم نہیں ہوا تاہم 2008ءسے ہم سویلین ڈیموکریسی کا پراسیس جاری ہے لیکن اب ایک بار پھر جو تھوڑی بہت جمہوریت ہے اس کا بھی تختہ الٹانے کی کوشش کی جارہی ہے انسانی حقوق کمیشن کی رہنماءحنا جیلانی نے کہا کہ پاکستان بنانا ریپبلک نہیں کہ جو چاہے کرتا پھرے اگر کوئی اسے بنانا ریپبلک بنانے کی کوشش کرےگا تو اس کی بھرپور مذاحمت کی جائے گی جمہوری عمل چلتے رہنا چاہیے اور پارلیمنٹ کو موجودہ مسائل کا حل نکالنا چاہیے پنڈال میں بیٹھ کر وزیر اعظم اور مسیحا بننے سے عوام کی تکالیف دور نہیں ہونگے۔محمد تحسین نے کہا کہ پارلیمنٹ کا محاصرہ کرنے والے شرم کریں یہ عوام کا ادارہ ہے کسی سیاسی جماعت یا فرد واحد کا نہیں اگر آج پارلیمنٹ ¾ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاﺅس کے گھیراﺅ کی ریت نہ ڈالی جائے

جوائنٹ ایکشن کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -