پاکستان کشمیریوں کی پشت پناہی کرے یا پھر مذاکرات ، بھارت کسی کے تابع نہیں ، پاکستان

پاکستان کشمیریوں کی پشت پناہی کرے یا پھر مذاکرات ، بھارت کسی کے تابع نہیں ، ...

  

                                     نئی دہلی/اسلام آباد(اے این این)بھارتی حکومت نے خارجہ سیکرٹریز سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے کے فیصلے کادفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی جانب سے کشمیرمیں آزادی کی تحریک کی حمایت اور بھارت کے ساتھ مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے جبکہ پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیاہے کہ وہ بھارت کے تابع نہیں بلکہ کشمیر کے مسئلے کا فریق ہے۔ بھارتی میڈیاکی رپورٹ کے مطابق وزیر وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ بات بالکل سیدھی ہے کہ پاکستان یا تو بھارت حکومت کے ساتھ بات چیت کرے یا پھر کشمیری حریت پسندوںکے ساتھ بات کرے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارتی حکومت کے بجائے حریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کرنے کو ترجیح دی حالانکہ اس پر واضح کیاگیا تھا کہ اگر ایسا کیاگیا تو مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی جانب سے واضح پیغام کے باوجود پاکستانی ہائی کمشنر نے حریت پسندقیادت کوبلایا جو صحیح اقدام نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ کہاہے کہ دوست بدل سکتے ہیں مگرپڑوسی نہیںتاہم پاکستان پر آج کس کا کنٹرول ہے یہ ایک مسئلہ بناہوا ہے،وہاں مختلف آوازیں ہیں،پہلے یہ واضح ہوجائے کہ خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات کیلئے پاکستان کی جانب سے کیا تیاریاں کی گئیں؟۔ ادھرحکمران جماعت بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا کہ مذاکرات کی منسوخی پاکستان کیلئے واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی اورعلیحدگی پسندی کے ساتھ چلنا اور بھارت کے ساتھ مذاکرات بیک وقت ممکن نہیں ۔انہوںنے کہا کہ ہمارے ہمسائے علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی بھی پشت پناہی کریں اور ساتھ ہی امن عمل کی بات بھی کریں تو یہ ایک ساتھ کیسے چل سکتے ہیں؟۔دوسری جانب دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک انٹریومیں کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری حریت قیادت کے ساتھ بات چیت کرکے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ یہ محض ایک بہانہ ہے،حریت قیادت کے ساتھ پہلی دفعہ میٹنگ نہیں ہوئی بلکہ دہائیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کا تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ملک ہونے کے علاوہ کشمیر تنازعہ کاایک جائز فریق ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے حوالے سے اقوام متحد ہ کی کئی قراردادیں ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت نے پیرکوپاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے حریت قیادت کے ساتھ ملاقات کے بعد 25اگست کو ہونے والے خارجہ سیکریڑی مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیاتھا۔

پاکستان

مزید :

صفحہ آخر -