بنیادی حقوق کی آڑ میں حکومت کے خاتمہ کی اجازت نہیں دے سکتے ،سپریم کورٹ

بنیادی حقوق کی آڑ میں حکومت کے خاتمہ کی اجازت نہیں دے سکتے ،سپریم کورٹ

  

                                اسلام آباد (آئی این پی)سپریم کورٹ نے غیرآئینی اقدام کے خدشہ‘سول نافرمانی،آزادی اورانقلاب مارچ ،دھرنوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سیکرٹری قانون ‘ سیکرٹری وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کر دئیے ‘ عدالت نے عمران خان اور طاہر القادری کو (آج)جمعرات کو طلب کرکے مزید سماعت ملتوی کر دی ۔ فاضل بنچ نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ دھرنے سے عدالت پہنچنے میں مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا‘ شاہراہ دستور پر دھرنے سے سائلین اور وکلاءنہیں پہنچ سکے‘بہت سے مقدمات کی سماعت ملتوی کرنا پڑی ہے‘حکومت کوہٹانے کیلئے آئین میں طریقہ دیا گیا ہے، انارکی اور انتشار کے ذریعے حکومت کو ہٹانا کوئی طریقہ نہیں‘بنیادی حقوق کی آڑ میں حکومت کے خاتمہ کی اجازت نہیں دے سکتے‘ہمیں سیاسی معاملات میں نہیں پڑنا‘دھرنوں سے آرٹیکل 15 اور 16 کے تحت شہریوں کا حق متاثر ہوا ‘کسی ہجوم کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت دی جاسکتی ‘ہم نے بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کو دیکھناہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید خان کھوسہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے سپریم کورٹ بار، اسلام آباد، ملتان اورلاہورہائیکورٹ بار کے علاوہ کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے غیرآئینی اقدام کے خدشے،سول نافرمانی،آزادی اورانقلاب مارچ ،دھرنوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔آئینی اقدام اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ دھرنے کی وجہ سے آج عدالت پہنچنے میں مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ ججز کو آج لمبے راستے سے عدالت آنا پڑا۔ شاہراہ دستور پر دھرنے کی وجہ سے بہت سے سائلین اور وکلاءنہیں پہنچ سکے۔ دھرنے کی صورتحال سے بہت سے مقدمات کی سماعت ملتوی کرنا پڑی ہے۔ دوران سماعت جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ حکومت کو ہٹانے کا آئین میں طریقہ کار دیا گیا ہے اس طریقے کار کے علاوہ حکومت کو ہٹانے کا طریقہ انتشار اور انارکی ہے۔ بنیادی حقوق کی آڑ میں حکومت کے خاتمہ کی اجازت نہیں دے سکتے‘ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی دوسرے شہری کی حلق تلفی ہو۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کا مطلب دوسرے شہری کی حق تلفی نہیں۔ دھرنوں سے آرٹیکل 15 اور 16 کے تحت شہریوں کے آنے جانے کا حق متاثر ہوا ہے۔ ہم نے سیاسی معاملات میں نہیں پڑنا،ہم نے بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کو دیکھناہے، کیا کسی ہجوم کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے مختصر سماعت کے بعد سیکرٹری قانون ‘ سیکرٹری وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کر دئیے ۔ عدالت نے عمران خان اور طاہر القادری کو (آج)طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

مزید :

صفحہ اول -