حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گا مگر نواز شریف کو محدود اختیارات سے گزارا کرنا ہو گا ،رائٹرز کا دعویٰ

حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گا مگر نواز شریف کو محدود اختیارات سے گزارا کرنا ہو گا ...

  

                       نیودہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ عسکری حلقوں کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کو بتادیا گیا ہے کہ ان کی حکومت کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا بشرطیکہ وہ من مانی نہ کریں، رپورٹ کے مطابق حالیہ صورتحال کے بعد وزیراعظم کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ شہنشاہ کی طرح حکمرانی کرنے والے وزیر اعظم نواز شریف کی حیثیت پاک فوج نے محض احکام بجالانے والے ڈپٹی کمشنر کے برابر کردی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ”آزادی“ اور ”انقلاب“ مارچ کے دارالحکومت پرچڑھ دوڑنے کے بعد وزیراعظم کی طرف سے دو خصوصی نمائندوں نے افواج پاکستان کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان کی حکومت کا مستقبل کیا ہوگا۔ ایک ذمہ دار حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ طالبان کے خلا ف کارروائی، بھارت کے ساتھ تعلقات اور افغانستان میں پاکستان کے کردار جیسے اہم معاملات میں حکومت کو دفاعی اداروں کی رائے کو اہمیت دینا ہوگی اور نواز شریف حکومت کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ وہ اہم ریاستی معاملات میں من مانی نہیں کرے گی۔ ایک حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت کو عسکری اداروں کی مدد سے حالیہ بحران سے نکلنے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی اور اپنی باقی مدت کے دوران محدود اختیارات کے ساتھ ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔ اخبار نے نواز شریف حکومت کی حالیہ مشکلات کو دفاعی اداروں کے ساتھ ان اختلافات کا نتیجہ قرار دیا ہے جو پچھلے ایک سال کے دوران شدت اختیار کرگئے تھے اور ان میں سیاسی قوتوں کی برتری، جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ، طالبان کے خلاف کارروائی کی مخالفت اور ایک مخصوص میڈیا گروپ کی متنازعہ حمایت جیسے امور قابل ذکر ہیں۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایک کمزور اور محدود اختیارات والے وزیراعظم کے طور پر نوازشریف کا بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواب بھی شرمندہ تعمیر نہیں ہوپائے گی۔ خبر رساں ادارے نے ایک سابقہ سینئر انٹیلی جنس افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ دفاعی ادارے عمران خان کو ایک زبردست پریشر ککر سمجھتے ہیں لیکن انہیں باورچی مقرر کرنے کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم کے ایک مشیر کے حوالے سے کیا گیا ہے کہ یہ پرانے نواز شریف نہیں ہیں جو شدید تصادم کیلئے تیار رہتے تھے، بلکہ یہ نئے نوازشریف ہیں جو اپنے مصائب سے یہ سیکھ چکے ہیں کہ انہیں طاقت بانٹنا ہوگی اور کسی اور دن مقابلے میں اترنے کیلئے آج پسپائی اختیار کرنا ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -