آرمی چیف کے دو فقروں اور حکومتی صبر نے مذاکرات کی راہ ہموار کر دی

آرمی چیف کے دو فقروں اور حکومتی صبر نے مذاکرات کی راہ ہموار کر دی

  

تجزیہ، سہیل چوہدری

                         انقلاب اور آزادی مارچ کی بدولت گزشتہ روز شاہراہ دستو ر ایک بازار کا منظر تھی ،وہ شاہراہ جہاں چمکتی دمکتی نت نئے ماڈل کی گاڑیاں پروٹوکول کے ساتھ محو سفر ہوتی تھیں اور جہاں عام آدمی کا بغیر کسی مناسب وجہ کے داخلہ ممنوع تھا وہاں ایک میلے ٹھیلے کا سماں تھا اگرچہ حبس اور گر می نے دھرنوں کے شرکاءسمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص کثیر تعداد میں موجود پولیس کے جوانوں کو قدرے بد حال کر رکھا تھا تاہم حسب معمول دن بھر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن پاکستان عوامی تحریک کے ڈنڈا بردار شرکاءپوری شاہراہ دستور پر مارچ کررہے تھے ،جوں جوں سورج بلندی پر جارہا تھا پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں میں بے صبری اور بے چینی بڑھ رہی تھی جبکہ عین اس وقت جب پارلیمنٹ کی عمارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا جس میں وزیراعظم محمد نوازشریف اپنی کابینہ کے بیشتر ارکان کے ساتھ شریک تھے ایسے میں جب وزیراعظم نوازشریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں پورے اعتماد کے ساتھ بیٹھے تھے تودوسری جانب پارلیمنٹ کے احاطہ کے باہر جنگلہ پر حبس اور دھوپ کی تمازت برداشت کرنے والے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے جذبات ان کے رہبر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنی شعلہ جواں خطابت سے گرما رہے تھے ،ڈاکٹر طاہرالقادری کا لب و لہجہ حکومت کے لئے ایسا تھا کہ جیسے ابھی حکومتی ودیگر ارکان پارلیمنٹ دھرنے کے خوف سے بھاگنے کو ہیں انہوں نے اپنے کارکنوں کو مشتعل کرتے ہوئے احکامات صادر کیئے کہ وزیراعظم ہاﺅس اورپارلیمنٹ کا محاصرہ کرلیاجائے کسی کو بھاگنے نہ دیا جائے ،ایک ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی علامہ نے نہایت یقین محکم کے ساتھ اعلان کیا کہ وزیراعظم نوازشریف سمیت کسی رکن پارلیمنٹ کو نکلنے نہ دیا جائے ان کے اس اعلان کے ساتھ ہی ان کے پہلے سے پر جوش کارکنوں نے شاہراہ دستور کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لے لیا جبکہ پولیس کے جوان اپنا غصہ دباکر حکومتی احکامات سے مجبور ہوکر پسپائی اختیار کرتے گئے یا پھر تجاہل عارفانہ اختیار کرتے ہوئے مظاہرین کو پاک سیکرٹریٹ کا بینہ ڈویژن سمیت دیگر اہم عمارات کے بیرونی گیٹوں پر قابض ہونے دیا مزید براں درجنوں مشتعل کارکن پاک سیکرٹریٹ کے گیٹ سے داخل ہوکر وزیراعظم ہاﺅس کی جانب بڑھنے لگے جہاں انکی پولیس کے ساتھ ہلکی پھلکی جھڑپیں بھی ہوئیں لیکن وزیراعظم نوازشریف ایک داخلی راستہ کے ذریعے پارلیمنٹ سے وزیراعظم ہاﺅس چلے گئے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی پاکستان عوامی تحریک وزیراعظم ہاﺅس یا پارلیمنٹ پر دھاوا بول دے گی ،لیکن اسی اثنا میں ریڈ زون میں تعینات رینجرز اورفوج کے چند درجن افراد کی نقل و حرکت نظرآئی اور اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی چینلز پر پاک فوج کی ترجمان کے شعبہ آئی ایس پی آر سے منسوب دو فقروں کا ایک بیان نشر ہوا تو عام صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ،پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کا لب و لہجہ مانندپڑنے لگا ،علامہ اور ان کے کارکنوں کا جوش ہوش میں بدلنے لگا ،آئی ایس پی آر کی دو سطروں نے پاکستان عوامی تحریک کے رنگا رنگ چکنے غبارے سے بہت حد تک ہوا نکال دی ،پاک فوج نے واضح کیا کہ تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل کریں اور وفاق کی علامت چیزوں کا احترام کریں ،اس کے بعد شام تک چیزیں اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگیں ،اس کے بعد آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ سے پاکستان عوامی تحریک کے مذاکرات بھی کامیاب ہوگئے اور علامہ نے نہ صرف تمام اہم عمارات کا محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ اس کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ شرارتی عناصر کی جانب سے کسی ممکنہ کاروائی کے پیش نظر ان کے اپنے قابل اعتماد کارکن اپنے دھرنے سمیت اہم عمارات کے گیٹوں کی حفاظت کرتے بھی نظر آئے ،علامہ نے مذاکرات شروع کرنے کا بھی اعلان کردیا اگرچہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی پر علامہ کے دھرنے کے اتحادیوں کی جانب سے اعتراض بھی سامنے آیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہورہی تھی اور علامہ مذاکرات کےلئے حکومت سے بھی زیادہ جلدی میں ہیں ،دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی سر شام شاہراہ دستور پر جلوہ افروز ہوگئے ،ان کے جنون میں بھی کمی نظر آئی ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس ڈبل مارچ کے چیلنج سے عہدہ برآن ہونے کے حوالے سے طاقت کے عدم استعمال اور مضبوط اعصاب کے ذریعے کپتان اور قادری کو اپنی تمام سیاسی آپشنز بروئے کار لانے کی حکمت عملی بہت حد تک کار گر ثابت ہوئی جبکہ دھرنوں کے غبارے سے ہوا نکالنے میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتوں نے اہم کردار ادا کیا ،جس کی بنا پر بحران کے حل کےلئے مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے سیاستدانوں کو کامیابی ملی،پاک فوج نے آئین اور جمہوریت کی پاسداری کے حوالے سے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کیا ،کیونکہ شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ اور جمہوریت پر دھرنوں کے ڈرون حملوں سے نہ صرف ملک بھر میں نظام زندگی مفلوج نظر آرہا تھا بلکہ اقوام عالم کے سامنے جگ ہنسائی ہورہی تھی ،صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پہلے یورپی یونین ،پھر برطانیہ ،امریکہ کی جانب سے پاکستان کی داخلی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ،جبکہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کی بناءپر ایٹمی اثاثوں کے بارے میں مغربی ممالک پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں تو پاکستان کے پاس واحد ٹھوس دلیل یہی ہوتی ہے کہ یہاں اسلام آباد میں ریاست کی رٹ پوری طرح قائم ہے جس کے تحت ایک مضبوط کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم کام کررہا ہے لیکن اسلام آباد کی سڑکوںپر مارچ کے نتیجہ میں حکومت یا نظام کے عدم استحکام ہونے سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کو جواز بنا کر ہمارے ایٹمی پروگرام کےخلاف کسی ممکنہ سازش کو ہو اضرور مل سکتی تھی ،اگرچہ قومی سلامتی کے اس تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے عمل کے آغاز سے محاذ آرائی اور تصادم کا راستہ ٹل گیا ہے ،اگرچہ کپتان نے فیس سیونگ کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے طلبی کو بھی اہم موقع جانا ہے اس حوالے سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ آج دھرنوں کے اس احتجاج کے حتمی انجام کےلئے اہم کرداراداکریگا، کپتان نے گزشتہ رات مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایک طرف مذاکرات کرنے کا برملا اعلان کیا تو دوسری جانب حکومت کے خلاف سیاسی بڑھکیں خوب لگائیں جو ہاتھی دانتوں کی مانند کھانے کے لئے نہیں صرف دکھانے کے لئے تھیں ،درحقیقت یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کپتان اور علامہ نے مذاکرات کاآغاز اپنے مطالبات کی انا کی سیڑھی سے ایک درجہ نیچے آکر کیا جبکہ حکومت نے بھی مذاکرات کے حوالے سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ بناکر ٹھوس اور سنجیدہ ردعمل کا اظہار کیا گورنر پنجاب کا ان مذاکرات کے حوالے سے اہم کردارگردانا جارہا ہے کیونکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان آمد کے موقع پر پیدا ہونیوالی صورتحال سے نبردآزما ہونے میں بھی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اہم کرداراداکیا تھا،اس کا کریڈٹ تمام فریقین کو جاتا ہے کیونکہ سیاست میں کوئی حد آخری کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا ،سیاست کو امکانات کا فن کہا جاتاہے کپتان اور قادری بھی سیاست کے اسی اصول پر گامزن ہیں اگرچہ کپتان نے شاہراہ دستور پر رات بھر اپنے پر جوش کارکنوں کے ساتھ فتح کا جشن منایا ، کپتان او ر قادری نے اپنے کارکنوں کے ولولہ اور جوش کو قائم رکھنے کے لئے انہیں دن میں سنہری خواب تو دکھائے تھے اس لئے انکا فتح کا جشن منانا فطری تھا ،لیکن فی الحال سب اسی تنخواہ پر کام کرینگے ، اگرچہ مذاکرات کا آغازہوگیا ہے لیکن اتنے بڑے سیاسی احتجاج اور دھرنوں کے پیش نظر کئی نشیب و فراز آئیں گے اور فریقین اپنی سیاسی حیثیت کو برقراررکھنے کےلئے سخت موقف اپنائیں گے لیکن امکان ہے کہ کچھ لودوکی بنیاد پر معاملات طے ہوجائیں گے،قرین قیاس یہی ہے کہ اسلام آبادسے جلد دھرنوںکا انخلاءہوجائے گا۔

کیپیٹل واچ

تجزیہ، سہیل چوہدری

آرمی چیف کے دو فقروں اور حکقمتی صبر نے مذاکرات کی راہ ہموار کر دی                                            انقلاب اور آزادی مارچ کی بدولت گزشتہ روز شاہراہ دستو ر ایک بازار کا منظر تھی ،وہ شاہراہ جہاں چمکتی دمکتی نت نئے ماڈل کی گاڑیاں پروٹوکول کے ساتھ محو سفر ہوتی تھیں اور جہاں عام آدمی کا بغیر کسی مناسب وجہ کے داخلہ ممنوع تھا وہاں ایک میلے ٹھیلے کا سماں تھا اگرچہ حبس اور گر می نے دھرنوں کے شرکاءسمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص کثیر تعداد میں موجود پولیس کے جوانوں کو قدرے بد حال کر رکھا تھا تاہم حسب معمول دن بھر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی لیکن پاکستان عوامی تحریک کے ڈنڈا بردار شرکاءپوری شاہراہ دستور پر مارچ کررہے تھے ،جوں جوں سورج بلندی پر جارہا تھا پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں میں بے صبری اور بے چینی بڑھ رہی تھی جبکہ عین اس وقت جب پارلیمنٹ کی عمارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا جس میں وزیراعظم محمد نوازشریف اپنی کابینہ کے بیشتر ارکان کے ساتھ شریک تھے ایسے میں جب وزیراعظم نوازشریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں پورے اعتماد کے ساتھ بیٹھے تھے تودوسری جانب پارلیمنٹ کے احاطہ کے باہر جنگلہ پر حبس اور دھوپ کی تمازت برداشت کرنے والے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے جذبات ان کے رہبر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنی شعلہ جواں خطابت سے گرما رہے تھے ،ڈاکٹر طاہرالقادری کا لب و لہجہ حکومت کے لئے ایسا تھا کہ جیسے ابھی حکومتی ودیگر ارکان پارلیمنٹ دھرنے کے خوف سے بھاگنے کو ہیں انہوں نے اپنے کارکنوں کو مشتعل کرتے ہوئے احکامات صادر کیئے کہ وزیراعظم ہاﺅس اورپارلیمنٹ کا محاصرہ کرلیاجائے کسی کو بھاگنے نہ دیا جائے ،ایک ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی علامہ نے نہایت یقین محکم کے ساتھ اعلان کیا کہ وزیراعظم نوازشریف سمیت کسی رکن پارلیمنٹ کو نکلنے نہ دیا جائے ان کے اس اعلان کے ساتھ ہی ان کے پہلے سے پر جوش کارکنوں نے شاہراہ دستور کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھوں میں لے لیا جبکہ پولیس کے جوان اپنا غصہ دباکر حکومتی احکامات سے مجبور ہوکر پسپائی اختیار کرتے گئے یا پھر تجاہل عارفانہ اختیار کرتے ہوئے مظاہرین کو پاک سیکرٹریٹ کا بینہ ڈویژن سمیت دیگر اہم عمارات کے بیرونی گیٹوں پر قابض ہونے دیا مزید براں درجنوں مشتعل کارکن پاک سیکرٹریٹ کے گیٹ سے داخل ہوکر وزیراعظم ہاﺅس کی جانب بڑھنے لگے جہاں انکی پولیس کے ساتھ ہلکی پھلکی جھڑپیں بھی ہوئیں لیکن وزیراعظم نوازشریف ایک داخلی راستہ کے ذریعے پارلیمنٹ سے وزیراعظم ہاﺅس چلے گئے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی پاکستان عوامی تحریک وزیراعظم ہاﺅس یا پارلیمنٹ پر دھاوا بول دے گی ،لیکن اسی اثنا میں ریڈ زون میں تعینات رینجرز اورفوج کے چند درجن افراد کی نقل و حرکت نظرآئی اور اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی چینلز پر پاک فوج کی ترجمان کے شعبہ آئی ایس پی آر سے منسوب دو فقروں کا ایک بیان نشر ہوا تو عام صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ،پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کا لب و لہجہ مانندپڑنے لگا ،علامہ اور ان کے کارکنوں کا جوش ہوش میں بدلنے لگا ،آئی ایس پی آر کی دو سطروں نے پاکستان عوامی تحریک کے رنگا رنگ چکنے غبارے سے بہت حد تک ہوا نکال دی ،پاک فوج نے واضح کیا کہ تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل کریں اور وفاق کی علامت چیزوں کا احترام کریں ،اس کے بعد شام تک چیزیں اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگیں ،اس کے بعد آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ سے پاکستان عوامی تحریک کے مذاکرات بھی کامیاب ہوگئے اور علامہ نے نہ صرف تمام اہم عمارات کا محاصرہ ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ اس کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ شرارتی عناصر کی جانب سے کسی ممکنہ کاروائی کے پیش نظر ان کے اپنے قابل اعتماد کارکن اپنے دھرنے سمیت اہم عمارات کے گیٹوں کی حفاظت کرتے بھی نظر آئے ،علامہ نے مذاکرات شروع کرنے کا بھی اعلان کردیا اگرچہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی پر علامہ کے دھرنے کے اتحادیوں کی جانب سے اعتراض بھی سامنے آیا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہورہی تھی اور علامہ مذاکرات کےلئے حکومت سے بھی زیادہ جلدی میں ہیں ،دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی سر شام شاہراہ دستور پر جلوہ افروز ہوگئے ،ان کے جنون میں بھی کمی نظر آئی ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس ڈبل مارچ کے چیلنج سے عہدہ برآن ہونے کے حوالے سے طاقت کے عدم استعمال اور مضبوط اعصاب کے ذریعے کپتان اور قادری کو اپنی تمام سیاسی آپشنز بروئے کار لانے کی حکمت عملی بہت حد تک کار گر ثابت ہوئی جبکہ دھرنوں کے غبارے سے ہوا نکالنے میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتوں نے اہم کردار ادا کیا ،جس کی بنا پر بحران کے حل کےلئے مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے سیاستدانوں کو کامیابی ملی،پاک فوج نے آئین اور جمہوریت کی پاسداری کے حوالے سے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کیا ،کیونکہ شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ اور جمہوریت پر دھرنوں کے ڈرون حملوں سے نہ صرف ملک بھر میں نظام زندگی مفلوج نظر آرہا تھا بلکہ اقوام عالم کے سامنے جگ ہنسائی ہورہی تھی ،صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پہلے یورپی یونین ،پھر برطانیہ ،امریکہ کی جانب سے پاکستان کی داخلی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ،جبکہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کی بناءپر ایٹمی اثاثوں کے بارے میں مغربی ممالک پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں تو پاکستان کے پاس واحد ٹھوس دلیل یہی ہوتی ہے کہ یہاں اسلام آباد میں ریاست کی رٹ پوری طرح قائم ہے جس کے تحت ایک مضبوط کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم کام کررہا ہے لیکن اسلام آباد کی سڑکوںپر مارچ کے نتیجہ میں حکومت یا نظام کے عدم استحکام ہونے سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کو جواز بنا کر ہمارے ایٹمی پروگرام کےخلاف کسی ممکنہ سازش کو ہو اضرور مل سکتی تھی ،اگرچہ قومی سلامتی کے اس تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے عمل کے آغاز سے محاذ آرائی اور تصادم کا راستہ ٹل گیا ہے ،اگرچہ کپتان نے فیس سیونگ کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے طلبی کو بھی اہم موقع جانا ہے اس حوالے سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ آج دھرنوں کے اس احتجاج کے حتمی انجام کےلئے اہم کرداراداکریگا، کپتان نے گزشتہ رات مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایک طرف مذاکرات کرنے کا برملا اعلان کیا تو دوسری جانب حکومت کے خلاف سیاسی بڑھکیں خوب لگائیں جو ہاتھی دانتوں کی مانند کھانے کے لئے نہیں صرف دکھانے کے لئے تھیں ،درحقیقت یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کپتان اور علامہ نے مذاکرات کاآغاز اپنے مطالبات کی انا کی سیڑھی سے ایک درجہ نیچے آکر کیا جبکہ حکومت نے بھی مذاکرات کے حوالے سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ بناکر ٹھوس اور سنجیدہ ردعمل کا اظہار کیا گورنر پنجاب کا ان مذاکرات کے حوالے سے اہم کردارگردانا جارہا ہے کیونکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان آمد کے موقع پر پیدا ہونیوالی صورتحال سے نبردآزما ہونے میں بھی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اہم کرداراداکیا تھا،اس کا کریڈٹ تمام فریقین کو جاتا ہے کیونکہ سیاست میں کوئی حد آخری کوئی حرف ،حرف آخر نہیں ہوتا ،سیاست کو امکانات کا فن کہا جاتاہے کپتان اور قادری بھی سیاست کے اسی اصول پر گامزن ہیں اگرچہ کپتان نے شاہراہ دستور پر رات بھر اپنے پر جوش کارکنوں کے ساتھ فتح کا جشن منایا ، کپتان او ر قادری نے اپنے کارکنوں کے ولولہ اور جوش کو قائم رکھنے کے لئے انہیں دن میں سنہری خواب تو دکھائے تھے اس لئے انکا فتح کا جشن منانا فطری تھا ،لیکن فی الحال سب اسی تنخواہ پر کام کرینگے ، اگرچہ مذاکرات کا آغازہوگیا ہے لیکن اتنے بڑے سیاسی احتجاج اور دھرنوں کے پیش نظر کئی نشیب و فراز آئیں گے اور فریقین اپنی سیاسی حیثیت کو برقراررکھنے کےلئے سخت موقف اپنائیں گے لیکن امکان ہے کہ کچھ لودوکی بنیاد پر معاملات طے ہوجائیں گے،قرین قیاس یہی ہے کہ اسلام آبادسے جلد دھرنوںکا انخلاءہوجائے گا۔

مزید :

تجزیہ -