فوج کا پیغام، اس کی روح کے مطابق سمجھا جائے

فوج کا پیغام، اس کی روح کے مطابق سمجھا جائے
فوج کا پیغام، اس کی روح کے مطابق سمجھا جائے
کیپشن: 1

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین

آزادی اور انقلاب مارچ کے سربراہوں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ نوعیت کی دھمکی دی، جس سے اندازہ ہوا کہ دونوں کے اعصاب پر بوجھ ہے اور وہ اپنے مارچ میں شریک حامیوں کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ ہیں، پریشان اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی طرف سے تنظیمی طور پر ناشتے اور کھانے کے حوالے سے کچھ انتظام کیا جاتا ہے اور شکایات ان تک نہیں پہنچتیں، تاہم عمران خان کی طرف سے وزیراعظم ہاﺅس میں داخل ہونے اور ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کرنے کے الٹی میٹم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب ان کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے اور حکومت کی طرف سے تحمل اور کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی سے گریز نے ان کو مشتعل کر دیا ہے۔بالآخر اعجاز الحق اور حیدر عباس رضوی کی ملاقات سے برف پگھلی اور بعد میں چار رکن کمیٹی نے طاہرالقادری سے ملاقات کی نتیجہ بہتر نکلنے کی امید ہے۔

ہم نے1965ءاور1971ءکی پاک بھارت جنگ کی کوریج کی ہوئی ہے اس کی وجہ سے فوج کے انداز فکر اور طرز عمل سے تھوڑی بہت شدھ بدھ ہے اس لئے آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر تبصرہ سے گریز کرنے کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ پیغام سب کے لئے ہے اور اس میں خصوصی طور پر ریاستی اداروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ریاستی اداروں کی عمارتوں میں پارلیمنٹ مقدم ہے اور فوج نے اس عمارت کی بھی ذمہ داری لی ہوئی ہے، اِسی طرح وزیراعظم ہاﺅس کسی یوسف رضا گیلانی یا میاں محمد نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ نہیں۔ یہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کے لئے ہے جو ملک کا چیف ایگزیکٹو بھی ہوتا ہے، اس لئے اس کا شمار بھی ریاستی عمارت ہی میں کر لیں تو بات سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اس کے علاوہ پریس ریلیز میں تحمل، برد باری اور صبر سے معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ قارئین! خود اندازہ لگا لیں کہ ابھی تک کس طرف سے مذاکرات کی کوشش کی جا رہی ہے اور کس جانب سے اجتناب برتا جا رہا ہے۔ یہ بڑی باریک سی لکیر ہے اسے سمجھنے کے لئے بہرحال کسی کمپیوٹر کی بھی ضرورت نہیں۔

دونوں قسم کے لانگ مارچ اور دھرنوں سے جو صورت حال پیدا ہو چکی اس نے اندرون ملک عوام کو تو متاثر کیا ہے اب بیرونی دنیا کی توجہ بھی اِدھر نظر آنے لگی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ نے ایک ہی روز ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے معاملات کو افہام و تفہیم سے طے کرنے کی تجویز دی ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے جوابی کارروائی سے گریز اور اشتعال انگیزی کا جواب نہ دینے کی پالیسی بہرحال بہتر ثابت ہوئی۔ کاش ایسی عقل مندی کا مظاہرہ17جون 2014ءسے پہلے کیا گیا ہوتا تو اتنا بڑا مسئلہ نہ بنتا۔ دونوں انقلابی رہنماﺅں نے اپنا مقصد بیان کیا تو جوابی طور پر کہا گیا کہ استعفیٰ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ دوسرے مطالبات پر بات بھی ہو سکتی ہے اور مانے بھی جا سکتے ہیں۔ بہتر عمل اب بھی یہی ہے کہ اپوزیشن کمیٹی کو مذاکرات کے لئے آنے دیا جائے اور ان سے بات کرنے کے بعد مزید بات چیت کے لئے تیاری کی جائے کہ یہ کمیٹی وزیراعظم سے پیشگی باتیں منوا کر بتا سکتی ہے کہ مذاکرات ہوں گے تو عزت افزائی بھی ہو گی، لہٰذا اس طرح یہ موقع مل جائے گا کہ مارچ کو ملتوی موخر یا ختم کر دیا جائے۔

اس وقت جو صورت حال ہے اس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور حکومت کو زیادہ حمایت ملنا شروع ہو گئی ہے۔ تاجروں، صنعت کاروں اور وکلاءنے آئین و جمہوریت کی حمایت اور دھرنوں کی مخالفت کر دی ہے تو اراکین پارلیمنٹ نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ ان کو پارلیمنٹ میں آنے جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی، اس طرح فضا یا ہوا مخالف چلنا شروع ہو گئی۔ لاہور میں مسلم لیگ(ن) کی ایک وارڈ میں جلسہ اور مظاہرہ ہوا، وزیراعظم کی طرف سے پیغام کے بعد مزید جلسے اور مظاہرے روک دیئے گئے یہ بھی حکومت کی حمایت میں کیا جا رہا ہے۔

ان سطور میں کچھ عرصہ پہلے گزارش کی گئی تھی کہ کپتان اور ڈاکٹر دباﺅ کو برقرار رکھتے ہوئے انتخابی نظام، الیکشن کمیشن اور احتساب بیورو کے حوالے سے مطالبات منوا لیں اور یہ سب تین ماہ کے اندر اندر ہو جائے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ جو بھی ترامیم اور تبدیلی ہونا ہے اس کو منظوری پارلیمنٹ ہی سے لینا ہو گی اور اس کے لئے باقاعدہ معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سلسلے میں عوام مضطرب ہیں، سیاسی جماعتوں اور رہنماﺅں کو پریشانی ہے تو اب بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ ایک قدم آگے دو قدم پیچھے والا فارمولا آزمایا جائے۔

فوج کا پیغام

مزید :

تجزیہ -