دھاندلی کے الزامات نے انڈونیشیا میں بھی زندگی مفلوج کر دی

دھاندلی کے الزامات نے انڈونیشیا میں بھی زندگی مفلوج کر دی
دھاندلی کے الزامات نے انڈونیشیا میں بھی زندگی مفلوج کر دی

  

جکارتہ (نیوز ڈیسک) انڈونیشیا کے حالیہ صدارتی الیکشن میں ہا رنے والے امیدوار کے حامیوں نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے دارالحکومت پر چڑھائی کردی ہے اور اسلام آباد کی طرح جکارتہ میں بھی زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ الیکشن کے متنازعہ ہونے کے بعد معاملہ ملک کی سپریم کورٹ کے پاس چلا گیا ہے اور آج اس سلسلے میں فیصلہ متوقع ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ غالب امکان یہ ہے کہ صدارتی امیدوار جوکووڈوڈو کی فتح کے فیصلے کو برقرار رکھا جائے گا اور یہ مقدمہ مخالف امیدوار ریٹائرڈ جرنیل پرابووسوبیا نتو کیلئے صرف خجالت چھپانے کا سہارا ثابت ہوگا۔ سوبیانتو کی طرف سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ الیکشن میں بھاری دھاندلی کی وجہ سے اس کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے لیکن آج تک کسی بھی الیکشن کے نتائج کو انڈونیشیا کی عدالتوں نے کالعدم قرار نہیں دیا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ملک کی معیشت مسائل کا شکار ہورہی ہے اورموجودہ حکومت معیاد ختم ہونے سے پہلے آنے والے رہنما جوکووڈوڈو کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں میں بڑھتی ہوئی سبسڈی کا معاملہ طے کرنے کیلئے عدالتی فیصلے کی منتظر ہے۔ ہنگاموں اور بدامنی کے خدشہ کے پیش نظر دارالحکومت میں 50 ہزار سکیورٹی اہلکار تیار کھڑے ہیں، اگرچہ اب تک کا احتجاج پرامن رہا ہے شہر میں تعلیمی اور کاروباری ادارے احتجاج کے پیش نظر بند ہیں اور کاروبار زندگی معطل پڑا ہے۔ عدالتی فیصلہ جو کووڈوڈو کے حق میں آنے کی صورت میں وہ دارالحکومت جکارتہ کے مشیر کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد ملک کے صدرکی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

مزید :

بین الاقوامی -