سانحہ ماڈل ٹاﺅن، 14 ہلاکتوں کا ملبہ جونیئر اہلکاروں پر ڈالنے کا پلان بن گیا

سانحہ ماڈل ٹاﺅن، 14 ہلاکتوں کا ملبہ جونیئر اہلکاروں پر ڈالنے کا پلان بن گیا
سانحہ ماڈل ٹاﺅن، 14 ہلاکتوں کا ملبہ جونیئر اہلکاروں پر ڈالنے کا پلان بن گیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں پولیس ”انجینئر“ پھر متحرک ہوچکے ہیں اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عارف مشتاق کی 14 ”خون“ ٹھکانے لگانے کی کواہش سامنے آئی ہے ،وہ اپنی مرضی کا چالان عدالت میں بھجوانا چاہتے ہیں جبکہ ٹیم کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تین ارکان کا میرٹ پر تفتیش مکمل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں،عارف مشتاق سینئر پولیس افسروں کو بچا کر جونیئرز پر ملبہ ڈالنا چاہتے ہیں، وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو افسران کی اوورڈاﺅننگ قرار دے رہے ہیں، سانحے کا چالان بھجوانے پر ٹیم اراکین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے ۔ تفصیلات کے مطابق 17 جون کو ماڈل ٹاﺅن میں پولیس کی فائرنگ سے پاکستان عوامی تحریک کے منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کے معاملے پر 14 افراد جاں بحق اور 83 زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحہ کی تفتیش ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ڈاکٹر عارف مشتاق کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کررہی ہے اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ اپنی مرضی سے چالان عدالت میں بھجوانا چاہتے تھے جس پر انوسٹی گیشن ٹیم کے اراکین میں اختلافات سامنے آگئے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق ٹیم کے سربراہ عارف مشتاق نے اچانک میٹنگ میں ایک مسودہ نکالا اور کہا کہ ہم چالان عدالت میں بھجوارہے ہیں اور مسودہ پڑھنا شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق مسودہ میں عارف چشتی نے سینئر پولیس افسران کو بچانے کیلئے مس ہینڈلنگ کی بجائے اور ڈاﺅننگ قرار دیا گیا جبکہ جونیئرز کو فائرنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ٹیم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے تفتیش مکمل نہ ہوسکنے کی وجہ سے چالان بھجوانے سے منع کیا تو پھر عارف مشتاق نے کہا کہ نامکمل چالان بھجوادیتے ہیں جس پر ٹیم کے تین اراکین نے کہا کہ جب تک میرٹ پر تفتیش مکمل نہ ہوگی چالان نہیں جائے گا اور اگر ان کے بغیر چالان بھجوایا گیا تو وہ اپنا اختلافی نوٹ بھجوائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عارف مشتاق سانحہ کی تفتیش میں سینئر افسران کو بیگناہ قرار دینا چاہتے ہیں چودہ افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری صرف جونیئرز پر ڈال دی جائے گی تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے میرٹ پر تفتیش کے حق میں ہیں۔

مزید :

لاہور -