عوامی ”پارلیمنٹ “ میں ” سپیکر“ نے ایجنڈا معطل کرادیا

عوامی ”پارلیمنٹ “ میں ” سپیکر“ نے ایجنڈا معطل کرادیا
عوامی ”پارلیمنٹ “ میں ” سپیکر“ نے ایجنڈا معطل کرادیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نمل نامہ (محمدزبیراعوان)دوسیاسی جماعتوں کے نام پر ہزاروں لوگوں نے وفاقی دارلحکومت میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، فوارے تالاب بنالیے اور جھنڈوں کے ڈنڈوں کو ٹینٹ کے لیے استعمال میں لے آئے ۔لاہور سے قافلوں کا اخراج شکو ک و شبہات میں مبتلاءرہالیکن ’اچانک‘اجازت مل گئی اور صوبائی دارلحکومت کی فراغت بالخیر ہوئی ، راستے میں اکادکاواقعات پیش آئے لیکن بالآخر اسلام آباد میں کامیاب ’یلغار ‘ہوئی۔ پڑاﺅ کیلئے مختلف ٹھکانے زیربحث رہے لیکن خیابان سہروردی اور زیروپوائنٹ پناہ گاہ ٹھہرے ، خطابات کے بعد ’ڈیڈلائن‘ کا مرحلہ شروع ہوا اور بالآخر ریڈزون پر چڑھائی ۔ ۔۔

دھمکی سے کام نہ چلاتو پارلیمنٹ ہاﺅس کے دروازے سے مچھر بھی نہ گھس سکنے دینے کااعلان اور کچھ ہی دیر میں اعلان ہی الٹ ہوگیا، علامہ صاحب کچھ یوں گویاہوئے کہ دھرنے دیں لیکن نقل و حرکت میں کوئی خلل نہ پڑے ۔

تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے استعفے تک مذاکرات نہ کرنے کا عندیہ دیاتو تھوڑی ہی دیر بعد یوٹرن لیتے ہوئے بیان جاری کیاکہ سیاستدان ہیں اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں ۔اگلے ہی دن پھر ممکنہ آپریشن کی تیاری پر ایک مرتبہ پھر مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

 سیاست کے نئے ”رنگ “اور 92ءکے ورلڈ کپ کی جیت نے عمران خان کو دیگر سیاستدان سے ”ممتاز “بنایا تو ہر گھر بھی ’پارلیمنٹ‘ بن گیاجہاں خاتون خانہ کبھی غریب عوام تو کبھی ’سپیکر‘ کا کردار اداکرتی دکھائی دی ۔ ہمار ے محلے کے ایک گھر میں کچھ افراد تحریک انصاف کے حامی ہیں تو کچھ حکمران جماعت کے ،ہر کوئی اپنی ہی منطق پر اڑا ہے ، کچھ ہر صورت عمران خان کو وزیراعظم دیکھناچاہتے ہیں تو کچھ نواز شریف کی حکومت کے ساتھ ماضی میں ہونیوالے سلوک پر پشیمان ۔۔ ۔ گھر میں سپیکر کاکردار اداکرتے ہوئے خاتون خانہ ہی بالآخردونوں کے بیچ آکر ”ایجنڈے “ سے ہٹ کر کسی موضوع پر بحث شروع کرانے میں کامیاب ہوگئیں ۔

سیاسی جماعتوں سے وابستگی یاکسی کا ماضی مستقبل ایک طرف ، بلاشبہ حکومت نے لیت و لعل سے کام لیا اور اب پانی پلوں کے نیچے سے گزرچکاہے ، مان لیا کہ آئینی طورپر الیکشن کمیشن حکومت کے ماتحت نہیں لیکن حکومت بروقت یہ کام تو کرسکتی تھی کہ بالواسطہ یابلاواسطہ رابطہ کرکے تحریک انصاف کو اختیارات نہ ہونے کی یقین دہانی کراتی اور مشورہ دے سکتی تھی کہ آئینی ترمیم سے ہی الیکشن کمیشن کو ماتحت کرکے کام لیاجاسکتاہے ، تحریک انصاف ترمیم لے آئے ، مسلم لیگ ن ترمیم کے حق میں ہوگی لیکن دیگر جماعتوں کو خود تحریک انصاف اعتماد میں لے ۔

دوسری دھرنے کے کچھ مطالبات تو جائز لیکن کچھ سراسربے تکے اور ناقابل عمل دکھائی دیتے ہیں ،تحریک انصاف کے پہلے اور مذاکرات کیلئے شرطیہ مطالبے یعنی وزیراعظم کے استعفیٰ دے دینے کے بعددیگر مطالبات کی منظوری کیسے ہوگی ؟ الیکشن کمیشن کے ممبران کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ملک کا چیف ایگزیکٹو ہونالازم ہے جو اُن کے استعفے منظورکرے یاعہدے سے ہٹائے ،الیکشن کمیشن کو ماتحت کرنے کی غرض سے ہونیوالی ترامیم کیلئے بھی قائدایوان موجود نہیں ہوگا، الیکشن کمیشن کے ممبران یا دھاندلی میں ملوث وفاقی افسران کیخلاف سزاکا حکم کہاں سے آئے گا؟ کیا وزیراعظم نواز شریف کے بعد مسلم لیگ ن سے ہی آنیوالے نئے وزیراعظم کو قبول کیاجائے گا؟ اور اگر تحریک انصاف کی شرط صرف نوازشریف کا استعفیٰ ہے تو انقلاب مارچ کا کیابنے گاجو مڈٹرم انتخابات بھی نہیں مانتے اور حکومت سمیت نظام کا ہی خاتمہ چاہتے ہیں ۔

کچھ مکتبہ فکر کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ڈاکٹرطاہرالقادری تحریک انصاف کے چیئرمین پر اعتماد کا اظہارکرچکے ہیں اور عملی سیاست میں موجود جماعت کا دھرناختم ہوتے ہی ”انقلاب“ بھی ختم ہوسکتاہے ۔ دوسری طرف پارلیمنٹ میں موجود کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماءبھی دبے الفاظ میں مسائل حل کرنے کے لیے وزیراعظم کومستعفی ہونے کا مشورہ بھی دیتے ہیں جبکہ شیخ رشید قربانی سے پہلے قربانی کا کئی مرتبہ ”ڈائیلاگ“ مارچکے ہیں ، حکومت اور ”دھرناپارٹی “دونوں اس قدرآگے بڑھ چکے ہیں کہ کسی کی بھی واپسی موت یا قریب المرگ ضرور بن سکتی ہے ۔

موجودہ صورتحال پر کہاجاسکتاہے کہ ”سانپ کے منہ میں چھپکلی ، جو اگلی جائے نہ نگلی “

مزید : بلاگ