پنجاب کڈنی ،لیورہسپتال ،انسٹیٹیوٹ کا قیام

پنجاب کڈنی ،لیورہسپتال ،انسٹیٹیوٹ کا قیام
پنجاب کڈنی ،لیورہسپتال ،انسٹیٹیوٹ کا قیام

  

14اگست2015ء کو پاکستانی قوم ملی و قومی جذبے سے سرشار ہو کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 69واں یوم آزادی جس شایان شان انداز سے منا رہی تھی وہ مناظر قابلِ دیدتھے ،افواج پاکستان کی جانب سے مُلک میں شہداء پاکستان اکابرین پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے قابل رشک پریڈ کا اہتمام کیا گیا ۔سیاسی دینی سماجی،اقلیتی و دیگر طبقات کی جانب سے قومی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی گئیں یوں پورا پاکستان قومی وحدت ایمان ،اتحاد ، تنظیم کے گلدستے کا منظر پیش کر رہا تھا، جس کی بھینی بھینی خوشبو ہر سو محسوس ہو رہی تھی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے 14اگست کو پنجاب حکومت کی جانب سے صوبائی دارلحکومت لاہور کے علاقے ڈیفنس فیز 6میں کڈنی و لیور انسٹیٹیوٹ ہسپتال کا سنگ بنیادرکھا۔یوم آزادی پر یہ اقدام عوام کو تحفہ دینے کے مترادف تھا۔ضلعی انتظامیہ کمشنر لاہور ڈویژن محمد عبداللہ خان سنبل کی جانب سے ہسپتال کے سنگ بنیاد کی تقریب کے انتظامات بہت ہی قابل تحسین تھے۔ مہمان بآسانی پنڈال میں داخل ہو رہے تھے۔ سیکیورٹی اور دیگر انتظامی اہلکار مہمانوں کو ان کی نشستوں پر بیٹھنے کے لئے رہنمائی کر رہے تھے، ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے،قدم قدم آباد تجھے‘‘کا ملی نغمہ سامعین میں ولولہ پیدا کر رہا تھا۔

وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ، صوبائی مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق سیکرٹری صحت پنجاب جواد رفیق ملک بھی پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔یہ امر حقیقت ہے کہ ملک بھر میں گردوں اورجگر کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں ان امراض کا علاج بروقت تشخیص سے ممکن تو ہے، لیکن اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ عام آدمی کی سکت سے باہر ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب خود کینسر جیسی موذی بیماری کے خلاف نبرد آزماہیں، لیکن اس کے باوجودوہ بلند حوصلے اور جوان مردی سے اپنی بیماری کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ان گنت مصروفیات ،انتظامی معاملات بخیر وخوبی سرانجام دیتے ہیں جوکہ قابل رشک ہے اور یہی مقولہ سامنے آتا ہے ’’ہمت مرداں مدد خدا‘‘۔ پنجاب کڈنی و لیور انسٹیٹیوٹ کے مجوزہ انفراسٹرکچر میں ہسپتال میں 800 بیڈ کی سہولت میسر ہوگی،100بیڈز ایمرجنسی کے لئے، 100آئی سی یو، 100بیڈ آؤٹ ڈور مریضوں کے ڈائلیسس کے لئے 500بیڈ ان ڈور پیشنٹ کے ڈائلیسس کے لئے 20 آپریشن روم اور 10سرجری روم، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ ،پیتھالوجی لیب، ESWL، ایڈمنسٹریشن بلاک ،فیکلٹی آفس اور 1000طلبہ کے لئے نرسنگ سکو ل کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

اس ٹرسٹ ہسپتال کے چیئر مین نے سامعین و صحافیوں کو اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یورولوجی، نفرولوجی، ہیپاٹولوجی اور ٹرانسپلانٹیشن کا یہ مرکز بین الاقوامی معیار کا حامل ہوگا۔غریبوں کو بلا امتیاز مذہب ،رنگ و نسل علاج کی فراہمی اور میڈیسن کے میدان میں تعلیم اور تحقیق کو ترقی دینا ہے۔گردے اور جگر کے غریب مریضوں کو ایک ہی چھت کے نیچے ہر طرح کا علاج فراہم کرنا ہے۔جگر اور گردے اور کینسر کے مرض کی روک تھام کے لئے عوام کو آگاہی فراہم کرنا اور انڈر گریجوایٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی سطح پر تعلیم دینا ہے۔الحمدللہ PKLIایک خود مختار ٹرسٹ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہو چکا ہے۔پنجاب اسمبلی نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ 50ایکڑ رقبے پر یہ ہسپتال اور دیگر انتظامی یونٹ تعمیر ہوں گے۔سنگا پور کی ہسپتال بنانے والی بین الاقوامی فرم اس ہسپتال کو تعمیر کر رہی ہے،پنجاب حکومت نے 469ملین روپے PKLI کو دیئے ہیں اور 3بلین روپے 2015-16ء کے بجٹ میں رکھے گئے ہیں، جبکہ FBR نے PKLIٹیکس فر ی کردیا ہے۔بالخصوص صوبہ پنجاب میں آلودہ پانی پینے ماحولیاتی آلودگی،غیر معیاری خوراک،اشیائے خورد نوش میں ملاوٹ کے عنصر سے گردے ،جگرکے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا ضرورت ا س امر کی ہے کہ حکومت، عوامی نمائند گان،سرکاری ادارے، صحت عامہ کے ادارے سر جوڑ کر بیٹھیں اور عوام الناس کو صاف پانی مہیا کرنے کے منصوبوں کا جنگی بنیادوں پر آغاز کریں ۔

یہ حکومت کی آئینی ،قانونی اوراخلاقی ذمہ دار ی ہے PKLIکا قیام ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔اس ہسپتال کی شدت سے کمی محسوس کی جا رہی تھی حکومت پنجابI PKL جیسا ہسپتال جنوبی پنجاب بالخصوص پنجاب بلوچستان سرحد سے ملحقہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں قائم کرے تاکہ نہ صرف جنوبی پنجاب، بلکہ بلوچستان کے عوام بھی علاج سے مستفید ہو سکیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دیں اور آئندہ لاہور کی طر ز پرPKLI ہسپتال جنوبی پنجاب کے ضلع میں بنانے کا اعلان کریں اور عوام کی دُعائیں لیں۔صوبہ پنجاب میں عطائیت،اور ناقص ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن زور شور سے جاری ہے۔یہ ،مہم نہیں مشن کی صورت میں جاری رہنا چاہئے۔

صوبائی سیکرٹری ہیلتھ ،ڈی جی ہیلتھ، ای ڈی اوز ہیلتھ،ڈویژنل کمشنرز اضلاع کے ڈی سی او دن رات ایک کردیں اور جعلی نام نہاد حکیموں ،عطائی ڈاکٹروں کو قانون کے سخت شکنجے میں لائیں اس طرح پنجاب میں ’’دیہی مراکز صحت‘‘ کی دوبارہ اپ گریڈیشن کا عمل شروع کیا جائے تو عطائیت کا قلع قمع ہونے میں مد د ملے گی۔یہ دیہی عوام کو صحت عامہ کی سہولت فراہم کرنے کا بہت اعلیٰ منصوبہ تھالیکن حکومتوں کی غفلت سے آج یہ دیہی مراکز صحت بھو ت بنگلے بن چکے ہیں۔ میڈیکل ،پیرا میڈیکل سٹاف مفت کی تنخواہیں لے رہاہے۔ اگر حکومت ان مراکز کو اپ گریڈ کردے تو 90فیصد عام بیماریوں کا خاتمہ اور عوام الناس کو صحت کی سہولتیں میسرآسکتی ہیں،جبکہ ایکسیڈینٹ ایمرجنسی اور دیگر بڑی بیماریوں کے لئے بڑے ہسپتالوں میں مریض لائے جاسکتے ہیں، جہاں بغیر رش کے ان کا بہتر علاج معالجہ ہو سکتا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سائنس و ٹیکنالوجی میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ مُلک کے بڑے شہروں کا 80فیصد اورمنرل واٹر کمپنیوں کا 50فیصد پانی مضر صحت ہے جو کہ آئینہ دیوار ہے اور اہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے حکومت عوام کو صاف پانی مہیا کرے۔

مزید :

کالم -