ون ڈے کپتان اظہر علی پس منظر، تاثرات اور کچھ یادیں

ون ڈے کپتان اظہر علی پس منظر، تاثرات اور کچھ یادیں
ون ڈے کپتان اظہر علی پس منظر، تاثرات اور کچھ یادیں

  

پاکستان کے موجودہ کپتان اور کامیاب بیٹسمین اظہر علی کا تعلق نواب منصورکے ماڈل ٹاؤن کلب سے ہے ۔ یہ اس وقت کرکٹ میں آئے جب میں شام کو محض دوڑ لگانے کرکٹ کلب کے دوستوں سے گپ شپ یا کچھ دیر کیلئے بیٹنگ اور باؤلنگ کرتاتھا۔ کبھی کبھار میں کلب کے میچ بھی کھیل لیتاتھا۔ اظہر علی آج سے بیس برس پہلے دس بارہ برس کے تھے۔ ان کے بھائی اشرف علی بھی بہت اچھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے تھے اور شاید اب بھی کسی حیثیت سے کرکٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔ اظہر علی قدرتی طو رپر لیگ سپنرتھے اور جب یہ باؤلنگ کرتے تھے تو ان کے بہترین انداز اورشاندار باؤلنگ کی وجہ سے دیکھنے والے انہیں بغور دیکھا کرتے تھے ۔یہ کلب کے میچوں میں عام طور پر چار پانچ اور کبھی کبھار اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کرلیا کرتے تھے۔ ان کے والد بھی میدان سے باہر خاموشی سے ان کوکھیلتا دیکھا کرتے تھے۔ وہ بھی کسی نہ کسی حیثیت سے کھیلوں کے ساتھ منسلک رہے تھے۔ بہر حال یہ بات طے شدہ تھی کہ اظہر علی کم از کم فرسٹ کلاس کرکٹ میں نام کمائیں گے۔ تاہم بیٹنگ کے شعبے میں ان کا نام ابھر کر سامنے آنااور پھر اسی حیثیت سے قومی ٹیم کا لازمی حصہ بننا ان لوگوں کے لئے حیران کن تھا جو ان کی ابتدائی کرکٹ سے واقف تھے۔اظہر علی ایک کم گو اور شریف النفس نوجوان بلکہ بچے تھے۔ ان کی ا بتدائی زندگی اورکرکٹ کی بنیاد پر میرے مشاہدات مثبت ہیں۔ آج کل کے سینکڑوں کرکٹرزکی طرح عمومی بد کلامی، لڑائی، بے ایمانی ،جھوٹ وفریب جیسی کوئی خامی ان میں نہیں تھی۔ اب یہ انتہائی کامیاب فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بعد قومی ٹیم کالازمی حصہ ہیں بلکہ ون ڈے کے کپتان ہیں۔ میں ان کی سیدھی سادی زندگی اور بہترین طرز عمل کا بہت معترف ہوں۔ اگر ملک میں کوئی نوجوان قومی ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے سفارش یا رشوت کو بنیاد قرار دیتا ہے تو اسے اظہر علی اور بعض دوسرے کرکٹرز کی مثال دی جاسکتی ہے۔ میرے گہرے مشاہدے اور تجزئے کے مطابق یہ (اظہر علی) آج کل کی کرکٹ اور کرکٹرز سے مختلف ہونے چاہیں۔ گروپ بندی،حسد، چال بازی اور مکاری کے خواص رکھنے والے ہزاروں کرکٹرزسے ان کا تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ میں حیران ہوں کرکٹ بورڈ ان پر کپتانی کا اضافی بوجھ کیوں ڈال رہا ہے۔ ہر نوجوان کپتان یاپھر بول چال میں ہوشیار یا چاک نہیں ہوتا اورنہ ہی اسے آج کل کے میڈیا کے شاطرانہ سوالات اور موضوعات پر عبورہوتا ہے۔ اظہر کی کافی کرکٹ باقی ہے۔ یہ یونس خان کی جگہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام بین الاقوامی کرکٹ ملک سے باہر کھیلی ہے۔ اور اس دوران دس سنچریاں اوربیس نصف سنچریاں اسکور کی ہیں اظہر علی کا کامیابی اور کامرانی کا سفر انگلینڈ میں بھی جاری ہے۔اللہ انہیں ار دگرد کی ان برائیوں سے دور رکھے جوہماری کرکٹ کا خاصا ہیں۔

مزید :

کالم -