کانگو وائرس اور ڈینگی کے خدشات!

کانگو وائرس اور ڈینگی کے خدشات!
 کانگو وائرس اور ڈینگی کے خدشات!

  

کراچی سے خبر ہے کہ وہاں کانگو وائرس کا ایک اور مریض جاں بحق ہوگیا اور اب تعداد پانچ ہوگئی ہے، یہ شخص بیوپاری تھا اورفورٹ عباس سے مویشی بیچنے کے لئے آیا تھا، بتایا گیا ہے کہ کانگو وائرس جانوروں کے بالوں میں ہوتا ہے اور وہاں سے کسی بھی انسان کو چھوکر مریض بنا دیتا ہے، ابھی تک اس کا شافی علاج دریافت نہیں ہوا،اور اس کا بھی علاج ملیریا اور ڈینگی کے علاج کی طرح کیا جاتا ہے جبکہ یہ مُتعدی مرض یا وائرس ہے، اس کی واضح مثال ملتان ہے جہاں کانگو کے مریض کا علاج کرنے والا ڈاکٹر متاثر ہوا اور پھر متاثرہ ڈاکٹر کی شفایابی کے لئے کوشش کرنے والا دوسرا ڈاکٹر بھی مریض بن گیا اور مریض کے ساتھ یہ دونوں معالج بھی چلے گئے، یہ صورت حال تشویش پیدا کرنے والی ہے۔ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو 16ذیقعد ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ عید الاضحی میں قریباً 22روز رہ گئے ہیں اور اب قربانی کے لئے جانور بیچنے والوں نے شہر کا رُخ کرنا شروع کردیا ہے، لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے قربانی کے جانوروں کی فروخت اور خرید کے لئے شہر کے اردگرد مقامات بھی مقرر کر دیئے ہیں جو عارضی منڈی کی صورت اختیار کریں گے، انتظامیہ نے تو یہ بھی دعویٰ کردیا ہے کہ منڈیوں میں آنے والے جانوروں کی صحت بھی دیکھی جائے گی، اور وائرس کی روک تھام کے لئے مناسب انتظام ہوں گے۔

یہ اعلان تو کردیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ وائرس یا وائرس والے پسوؤں کی پہچان کیسے کی جائے گی؟ ہمارے ایک دوست افتخار احمد نے کئی روز پہلے فیس بک پر تجویز دی تھی کہ جو جانور آئیں ان پر جراثیم کش سپرے کیا جائے، یہ تجویز میری نہیں اگر انتظامیہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لے تو یہ تجویز موثر ہو سکتی ہے کہ جو جانور آئیں ان پر جراثیم کش سپرے کر کے ان کے بال اتار دیئے جائیں اس طرح جراثیم سے تحفظ مل جائے گا، مگر یہ تجویز یا سوال بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والا ہے کہ کون باندھے گا؟ حالانکہ ہمارے پاس ویٹرنری کا ایک پورا محکمہ موجود ہے جو ہر ضلع میں ہے اور بنیادی طور پر یہ اسی محکمے کا کام ہے کہ جانوروں کے اندر پائی جانے والی بیماریوں کی جانچ اور ان سے تحفظ کی تدابیر کرے، مگر یہاں ضلعی انتظامیہ نے صرف اعلان پر اکتفا کیا ابھی کوئی انتظام نہیں کیا، غالباً ان کے خیال میں ابھی بہت دن پڑے ہیں، یہ ہوتا رہے گا حالانکہ جانور تو ابھی سے آنا شروع ہو گئے اور شہر میں پھر رہے ہیں، یہی نہیں خود شہر کے اندر شوقین حضرات نے گھر میں بکرے پالے ہیں تویہاں کی بعض پوش آبادیوں میں ریوڑ بھی پائے جا رہے ہیں اور یہ ریوڑ والے جانور بے چارے خود تو نہانے سے رہے ان کے مالکان نے بھی کبھی تکلف نہیں کیا اور یہ بستیوں میں موجود اورپھرتے رہتے ہیں۔

ہمارے ایک مہربان دانشور جو ادیب و شاعر ہیں، بہت حساس ہیں اور انہوں نے ایک چٹھی لکھ کر توجہ دلائی اور کہا ہے کہ مصطفےٰ ٹاؤن(ان کی رہائش وہیں ہے) میں بھیٹروں کے غلے ہیں، اور تین چار ریوڑ کھلے بندوں گھومتے پھرتے سرکاری گھاس اور پودے کھاتے پھرتے ہیں، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں، ان میں کانگو وائرس جیسے کسی بھی جرثومے کا ہونا کچھ بعید نہیں، کنور عبدالماجد خان کہتے ہیں یہی نہیں اس بستی میں بھینسیں بھی صُبح شام پھرتی اور مرکزی گرین بیلٹ کو چراگاہ کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کا سوال ہے کہ اگر کانگو وائرس جانوروں کی کھال کے ساتھ ہے تو پھر ان ریوڑوں اور بھینسوں کے ساتھ پایا جاسکتا ہے، یہ چونکہ متعدی وائرس ہے اس لئے اس کا وباکی شکل اختیار کرلینا کچھ مشکل نہیں، ان کا تو یہ بھی شکوہ ہے کہ مصطفےٰ ٹاؤن میں حال ہی میں جو ترقیاتی تعمیراتی کام کئے گئے وہ بھی امتیازی تھے کہ جن سڑکوں کی ضرورت نہیں تھی وہ بنادی گئیں اور مرکزی سڑک کو نظر انداز کر دیا گیا، اس کے علاوہ پارکنگ کے لئے بہت بڑی جگہ بنائی جا رہی ہے، کام کی رفتار بھی سست ہے یہ غیر ضروری کام چھوڑ کر بہتری کی طرف توجہ دی جاسکتی تھی کہ مصطفےٰ ٹاؤن اور اعظم گارڈن کو ملتان روڈ سے ملانے والی مرکزی سڑک تعمیر ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی جبکہ کام کے غیر معیاری ہونے کی تو بات کرنا ہی فضول ہے کیونکہ ہر ٹھیکہ میں ’’کچھ کچھ‘‘ ہوتا اور ہر کام غیر معیاری ہوتا ہے، شجر کاری کا موسم ختم ہونے کو ہے، یہاں سرے سے ہوئی ہی نہیں۔

یہ کنور عبدالماجد خان یونہی درمیان میں آگئے اصل بات تو کانگو وائرس اور ڈینگی کی ہو رہی تھی، ڈینگی کے لئے مہم شروع کرنے کا اعلان کر کے اسے شروع ہی نہیں کیا گیا، بارش کی وجہ سے شہر کے بہت سے مقامات پر پانی کھڑا ہے جسے نکالنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، یہ پانی بقول ڈینگی مہم والوں کے ڈینگی لاروا کی پیدائش کا سبب بن سکتا ہے اور قربانی والے جانور کانگو وائرس لے کر آسکتے ہیں، اور آبھی رہے ہیں ان کی پٹرتال کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، ضرورت تو یہ ہے کہ فروخت کے لئے لائے جانے والوں کو ابھی سے ان کے لئے مختص جگہ(منڈی) تک محدود کردیا جائے اور شعبہ و یٹرنری سے چیکنگ کرائی جائے، سپرے والی تجویز بھی اچھی ہے اور ضلعی انتظامیہ کو اس پر عمل کرنا چاہیے، ساتھ ہی ساتھ ڈینگی سکواڈ کی خبر لی جائے کہ اس نے بارش والا پانی نشیبی مقامات پر کھڑا ہونے کا نوٹس کیوں نہیں لیا اور ڈینگی مہم کیوں چھوڑ دی ہے، شہریوں کی صحت کا پہلے ہی سے خیال کرلیں کہ کوئی بھی مرض وبائی شکل اختیار نہ کرے ورنہ تو یہی ہوگا۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے تو بہ

ہائے اس زود پشیمان کا پشیماں ہونا

مزید : کالم