ایل ڈی اے کی سکیموں میں کمرشل نقشہ کی منظوری ایک معمہ بن گیا

ایل ڈی اے کی سکیموں میں کمرشل نقشہ کی منظوری ایک معمہ بن گیا

لاہور(اپنے خبر نگار سے)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سکیموں میں کمرشل نقشہ منظور کرواناایک معمہ بن گیا ہے،پہلے جو کام ایک ہفتہ یا دو ہفتے میں ہو جاتا تھا ،اس پر اب کئی کئی مہینے لگ جاتے ہیں ،ایک تو کمرشل فیس سو فیصد بڑھا دی گئی ہے ،دوسری بات نقشہ اب مختلف مرحلوں میں پاس کیا جاتا ہے ،پہلے بیسمنٹ کا نقشہ منظور کیا جاتا ہے ،اس کے بعد فسٹ فلور کا اور یوں مرحلہ واردوسرے فلوروں کے نقشے منظور کئے جاتے ہیں ،سب سے مشکل مرحلہ سٹریکچر انجینئرزکا سرٹیفکیٹ حاصل کرنااور ویٹ کرانا ضروری ہو گیا ہے جو بھاری فیسیں وصول کرنے کے علاوہ بہت زیادہ وقت ضائع کر دیتے ہیں،کیونکہ ایل ڈی اے سے منظور شدہ پورے شہر میں صرف دو ہی سٹریکچر انجینئرزہیں ،تفصیلات کے مطابق ہر نئے روز ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو کہ مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ مشکل اور عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں ،آج سے چند سال پہلے ایل ڈی اے لوگوں کے نقشے منظور کروا کر ان کے گھروں میں دیتے تھے اور ہر بندہ ایل ڈی اے کی پالیسی کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا تھا ،مگر اب ہر بندہ ایل ڈی اے کی پالیسی سے پریشان ہے ،اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایل ڈی اے کی سکیم میں پلاٹ نہ لے کسی دوسری پرائیویٹ سکیم میں پلاٹ لے کر اپنا مکان تعمیر کر لے ،مگر بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے بھلے وقتوں میں اتھارٹی میں انویسٹمنٹ کر رکھی ہے ،وہ اس کو کلےئر کرواتے کرواتے تھک جاتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1