مودی نے پاکستان میں مداخلت کا اعترافکیا،جسٹس(ر) میا ں محبوب

مودی نے پاکستان میں مداخلت کا اعترافکیا،جسٹس(ر) میا ں محبوب

لاہور (اپنے خبر نگار سے)بھارتی حکومت چانکیہ کی اس پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ دھوکہ دو اورپھر اس پر قائم رہو ۔نریندر مودی نے اپنی تقریر کے ذریعے پاکستان میں مداخلت کا اقرارکر لیا ہے لہٰذا اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے۔ نئی نسلوں کو تحریک پاکستان اور دوقومی نظریہ کے ساتھ ساتھ ہندو ذہنیت سے آگاہ کرنا بھی بہت ضروری ہے ان خیالات کااظہار سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت و چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان،لاہور میں فکری نشست بعنوان’’بھارتی وزیراعظم کی حالیہ تقریر اور پاکستان مخالف عزائم‘‘ کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ نشست کے کلیدی مقرر ممتاز صحافی و دانشور پروفیسر عطاء الرحمن تھے۔اس نشست کا اہتمام تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، مولانا محمد شفیع جوش، محمد فاروق خان آزاد،ریاض چودھری، وقار یوسف میاں‘سجاد حامد‘انجینئر توصیف احمد خان‘ سید ایوب وارثی‘ فیض محمد فیض‘ شفقت جبیں‘ناصر ڈار‘قاضی غلام رسول‘ سعیدہ قاضی، نواب برکات محمود،اساتذۂ کرام، طلبا و طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔ محمد دلشاد نے تلاوت جبکہ محمد احسان نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا میں ہندوؤں کے ساتھ رہ چکا ہوں اور ان کی ذہنیت سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ ہندو کی ذہنیت کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔ ان کی ذہنیت کا پہلا عنصر منافقت ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور مغربی دنیا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمان ممالک کی قیادت کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔پروفیسر عطاء الرحمن نے اپنے کلیدی لیکچر میں کہا کہ نریندرمودی کا لب و لہجہ اور اس کی تقریر کا ایک ایک لفظ آج کے بھارت کا نہیں بلکہ 1947ء سے لیکر اب تک آنیوالے تمام حکمرانوں کی پالیسیوں کا عکاس ہے۔ گاندھی، نہرو، شاستری، واجپائی اور مودی سب کی پالیسی ایک ہی رہی ہے صرف انداز میں فرق ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کی ذہنیت میں تھوڑا فرق ہے۔ کانگریس انڈین نیشنل ازم جبکہ بی جے پی ہندو نیشنل ازم کی علمبردار ہے ۔آج خود بھارت کے اندر سے کشمیریوں کی حمایت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور کشمیریوں کی تحریک بھارتی دانشوروں کو متاثر کررہی ہے اور وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ بھارت وہاں ظلم وستم کا سلسلہ بند کرے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1