پنجاب میں لاپتہ بچوں کی تعداد135رہ گئی ،سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کمیٹی کی رپورٹ

پنجاب میں لاپتہ بچوں کی تعداد135رہ گئی ،سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کمیٹی کی ...
پنجاب میں لاپتہ بچوں کی تعداد135رہ گئی ،سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کمیٹی کی رپورٹ

  

لاہور(سعید چودھری ) سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس لئے جانے کے بعد پنجاب میں بچوں کے اغواءاورگمشدگی کے 268سے زائدنئے مقدمات درج ہوئے جبکہ 324بچے پولیس نے بازیاب کرائے یا پھر خود ہی اپنے گھروں کو واپس آگئے ۔سپریم کورٹ کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کوملنے والی آخری اطلاع تک پنجاب میں لاپتہ بچوںکی تعداد 135رہ گئی ہے ۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد شان گل جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد اشفاق کھرل اور ستار ساحل ان کی معاونت کررہے ہیں ۔کمیٹی نے پولیس حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ اغواءکی ہر اطلاع پر مقدمہ درج کیا جائے جس کے باعث اس سال بچوں کی گمشدگی یا اغواءکے 1035سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں جن میں بعض ایسے مقدمات بھی شامل ہیں جن کے اندراج کے چند گھنٹے بعد بچے اپنے والدین کے گھر واپس آگئے ۔سپریم کورٹ میں 25اگست کو پیش کرنے کے لئے رپورٹ کی تیاری کے لئے آج اتوار کے روز بھی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔عبوری رپورٹ کے مطابق 2011سے اب تک 7ہزار61بچے اغواءیا لاپتہ ہوئے جن میں سے 6ہزار926 واپس آچکے ہیں یا پھر انہیں بازیاب کروایا جاچکاہے ۔لا پتہ ہونے والوں میں بڑی تعداد نو عمر لڑکوں کی ہے ۔اس وقت لاپتہ یا اغواءشدہ بچوں کی تعداد 135رہ گئی ہے ۔علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں قائم خصوصی ہیلپ لائن پر 24افراد نے بچوں کے اغواءکے بارے میں شکایت درج کروائی جبکہ حکومت کی طرف سے قائم ہیلپ لائن 1121پر 65لوگوں نے بچوں کے اغواءکے بارے میں اطلاع دی ،اس طرح دونوں ہیلپ لائنز پر اب تک 89شکایات موصول ہوئی ہیں جن کے ازالہ کے لئے متعلقہ پو لیس کوہدایات جاری کی گئی ہیں۔

مزید : لاہور