افغان باشندوں کا مودی کے حق میں مظاہرہ، چمن سرحد بند!

افغان باشندوں کا مودی کے حق میں مظاہرہ، چمن سرحد بند!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

چمن (بلوچستان) کی پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کے درمیان آمدورفت معطل ہوگئی اور پاک فوج کے جوانوں نے ’’دوستی گیٹ‘‘ بند کردیا ہے ٹریفک رک جانے کی وجہ سے سرحد کے دونوں طرف گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں، یہ سب جوابی ہے کہ افغان سرحد کے اندر بعض افغانوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں مظاہرہ کیا اور پاکستانی پرچم کو نذر آتش کردیا، جواب میں یہ کارروائی کی گئی اور اب حکام یہ معاملہ افغان حکومت کے علم میں لاکر احتجاج کرنا چاہتے ہیں یہ عجیب بات ہے ،بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ بلوچستان کا بھی ذکر کر کے کہا کہ وہاں کے عوام ان(مودی) کا شکریہ ادا کررہے ہیں، بھارتی وزیر اعظم کی گفتگو سے پاکستان میں آگ بھڑک اٹھی اور بلوچستان میں بھارت مخالف جلوس نکالا گیا جس کے بعد ہی گلگت، بلتستان میں بھی جلوس نکلے مظاہرے ہوئے ، بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری نے پر مغز تقریر کی اور بھارت کی مذمت کی گئی،یوں ان کوشافی جواب مل گیا کہ پاکستان کے ہر شہر اور قصبے تک میں جلوس نکالے گئے۔

تعجب تو یوں ہوا کہ اسی دوران چمن بارڈر کے پار ہندوؤں کی بجائے افغان شہریوں نے بھارتی وزیر اعظم کے حق میں مظاہرہ کیا اور اس حد تک چلے گئے کہ پاکستانی پرچم کو بھی نقصان پہنچایا یہ دکھ کی بات ہے کہ افغانوں نے ایسا عمل کیا جو ابھی تک یہ تاثر دیتے چلے آئے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ بر ادرانہ تعلقات ہیں، یہ ایک اور ثبوت ہے کہ بھارت براستہ افغانستان کیا کرنا چاہتا ہے، پاکستان سخت موقف اپنانے کے حوالے سے نرم رویے کا مظاہرہ کرتا چلا آ رہا ہے، اب تو اسے افغانستان کی حکومت کے ساتھ دو ٹوک بات کرنے کے علاوہ سرحدوں کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنا نا ہوگا، جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کا دورہ کیا ، دو روز قبل دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر مکمل وفاداری اور قوت کا مظاہرہ کرنے پر جوانوں کو شاباش دی اور کہا کہ ایک ایک دہشت گرد کو ختم کر کے دم لیں گے۔

یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اس پر باقاعدہ طور پر افغانستان کے حکمران طبقے سے احتجاج کرنا لازمی ہے اور پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کتنے لوگ اس مظاہرے میں شریک تھے اور بھارت کس حد تک افغانستان میں اپنا رنگ جما چکا ہوا ہے، یہ ’’را‘‘نے کرایا ہوگا، یہ صورت حال موجود ہے اور وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ سٹرٹیجک پالیسیوں پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور پاکستان اپنا دفاع خود کرے گا۔

ان حالات میں ہمارے اپنے ملک کے اندر تحریک احتساب، تحریک قصاص اور دوسری تحریکیں شروع ہیں، گزشتہ روزپاکستان عوامی تحریک نے مختلف شہروں (بقول پیٹ 70 شہروں) میں پر امن دھرنے دیئے اور ٹریفک کی روانی کو متاثر کیا، مظاہرے کسی ایک مقام پر نہیں تھے، بٹے ہوئے 70مقامات پر تھے، بہر حال وہ اتنے شہروں میں احتجاج کرنے میں تو کامیاب ہیں، وہ خود شریک نہیں ہوئے، خود ٹیلیفون پر خطاب کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرد جنگ کے علاوہ افغان باشندوں کی یہ حرکت سوچنے کے لئے بہت کچھ دیتی ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم جو عالمی رائے عامہ کی توجہ مبذول کر ا کے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہاں افغانستان بھی ہے اور ان افغانوں کے مقاصد اچھے نہیں، ایسے میں پاکستان کے اندر مکمل اتفاق رائے ضروری ہے اور ہماری پرانی تجویز یہ ہے کہ وزیر اعظم خود پہل کریں اور ساری جماعتوں کو مدعو کر کے ’’اتفاق‘‘پیدا کرنے کی کوشش کریں، یہاں ہم ایک افسوس ناک حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ عوام کے مسائل کو نظر انداز کیاجارہا ہے، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے کرائے بڑھا دیئے، سب خاموش ہیں، آٹا،گھی اور چینی مہنگی ہوگئی کسی نے احتجاج بھی نہیں کیا۔

اگر مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مسائل کے حل کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو یہ متاثرہ حضرات کے لئے بہت دکھ و الی بات ہوگی، اور اب تو حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی درستگی کے لئے 27پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ کرلیا، یہ پچیس سال کے لئے ہوگی کہ ترسیلی نظام کی اجازت مل گئی اب یہی دیکھ لیں کہ پٹرولیم مصنوعات عالمی منڈی میں بہت سستی ہو گئی ہیں،ہمارے ملک میں یہ مہنگی ہونے جارہی ہیں، تجویز ہے کہ چار روپے پچاس پیسے فی لیٹر سستا کیا جائے لیکن فنانس منسٹری اس کو ہضم کرنے کے لئے سیلز ٹیکس میں اضافے کے بارے میں غور کر رہی ہے، اب عوام پوچھتے ہیں کہ کیا احتجاج کرنے والوں کے نزدیک پاناما لیکس ہی سب کچھ ہیں، قصاص ہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، یہ مہنگائی اور بے روزگاری کیوں نظر نہیں آتی؟عوام میں اب بے زاری پائی جانے لگی ہے۔

مزید : تجزیہ