سرینگر، مجاہدین کا پولیس چوکی پر حملہ، سب انسپکٹر ہلاک، 3اہکار شدید زخمی

سرینگر، مجاہدین کا پولیس چوکی پر حملہ، سب انسپکٹر ہلاک، 3اہکار شدید زخمی

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر کے علاقے کرناہ میں مجاہدین کا پولیس چوکی پر حملہ ٗسب انسپکٹر ہلاک ٗ 3 اہلکار شدید زخمی ٗ مجاہدین کارروائی کے بعد بچ نکلنے میں کامیاب ٗ سرچ آپریشن شروع کردیاگیا ٗ زخمی اہلکاروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سری نگر منتقل کردیاگیا ٗ شوپیاں میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما شیخ محمد رفیع کے گھر پر ہینڈ گرینیڈ حملہ ٗ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ٗ مکان کا ایک حصہ اور گاڑی تباہ ٗ ریاستی انتظامیہ نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھروں میں نظر بند کردیا ٗ ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی ٗ میڈیا سے بھی بات کرنے سے روک دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق کرناہ کپواڑہ میں سرحدی حفاظتی فورس کے ایک کیمپ پر مجاہدین کے حملے میں ایک سب انسپکٹرسمیت3اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ حملہ آوروں کیخلاف جوابی کارروائی جاری ہے۔ادھرموٹر سائیکل سوار اسلحہ برداروں نے جنوبی قصبہ شوپیان کے مضافات میں نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے شوپیان شیخ محمد رفیع کی رہائش گاہ پر گرینیڈ داغا جس کے نتیجے میں مکان کی کھڑکیوں اور صحن میں موجود ان کی ذاتی کار کو نقصان پہنچا۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو کچاڑیاں علاقے میں قائم بی ایس ایف کے تیل ڈپو پر مجاہدین نے اچانک دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود ایک ایس آئی ہلاک جبکہ 3اہلکا ر زخمی ہو گے جنہیں بعد میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاج ومعالجے کیلئے سرینگر کے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔فوجی ذرائع کے مطابق اس کیمپ میں ایک تیل ڈیپو بھی ہے ۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے فورا بعد فوج اور فورسز کی اضافی نفری کیمپ کی طرف روانہ کی گئی اور انہوں نے کیمپ کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیکر حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کی۔ فورسز کوفوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا حملہ آور کنٹرول لائن عبور کرکے اس پار داخل ہوئے یا پہلے سے ہی علاقے میں موجود تھے۔ اخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں بڑے پیمانے پر فوج نے تلاشی کاروائی شروع کی ہیں اور کچاریاں ، باغ بالہ ، ،بڑون اور دیگر علاقوں کے جنگلوں میں کو جانے والے داخلی علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے ۔ادھر جمعرات کی شب 9 بجکر 15 منٹ پر نیشنل کانفرنس سے وابستہ سابق ممبر اسمبلی شوپیان شیخ محمد رفیع کی کچھ ڈورہ نامی گاؤں میں واقع رہائش گاہ پر ایک ہتھ گولہ داغا گیا جو مکان کے صحن میں گر کر طاقتور دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ مذکورہ لیڈر کے گھر کی حفاظت کیلئے سی آر پی ایف کی ایک چوکی بھی قائم ہے اور حملہ آروں نے ممکنہ طور اسی بنکر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہوں میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی کو پولیس نے ایک مرتبہ پھر حراست میں لیا۔مزاحمتی قیادت کے مشترکہ پروگرام کے تحت حریت کانفرنس (گ) کے چےئر مین سید علی گیلانی نے بعد دوپہر اپنی رہائش گاہ واقع پیر باغ حید ر پورہ سے باہر آکر کچھ حامیوں اور کارکنوں کے ہمراہ یہاں سے آری پاتھن بیروہ بڈگام جانے کی کوشش کی تاہم یہاں پہلے سے ہی تعینات پولیس اور فورسز نے سید علی گیلانی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے انہیں حراست میں لیا۔ سید علی گیلانی کو ایک گاڑی میں سوار کرکے پولیس تھانہ ہمہامہ منتقل کیا گیا۔ادھر حریت (ع) چےئر مین میر واعظ عمر فاروق نے بھی خانہ نظربندی کاحصارتوڑنے کے بعد اپنی رہائش گاہ واقع نگین سے باہر آکر یہاں سے آری پاتھن بیروہ بڈگام جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں حراست میں لیکر نزدیکی پولیس تھانہ نگین منتقل کیا۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے مشترکہ پروگرام کی پیروی کرتے ہوئے نظر بندی اور محاصرے کو توڑ کرکئی کارکنوں کے ہمراہ ہاتھوں میں بینر اورپلے کارڈس اٹھائے اور بیروہ بڈگام روانہ ہونے کی کوشش کی تو انہیں فورسز اور پولیس کی بھاری نفری نے گرفتار کر کے مقامی تھانے میں بند کردیا۔13جولائی سے اب تک مختلف مزاحمتی پروگراموں کے پیش نظر گزشتہ35دنوں میں سید علی گیلانی کو8مرتبہ جبکہ میرواعظ عمر فاروق کو10مرتبہ خانہ نظر بندی توڑ کر چلو پروگراموں میں شرکت کرنے کی پاداش میں حراست میں لیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر