خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی مداخلت کے پاک کر کے بہترین فورس بنا دیا ہے :مظفر سید ایڈ وکیٹ

خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی مداخلت کے پاک کر کے بہترین فورس بنا دیا ہے :مظفر ...

ہنگو (بیورورپورٹ)صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوانے پولیس فورس کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کرکے اسے پاکستان کی بہترین فورس بنا دیا ہے جو اپنے عوام کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے فورس کے سپاہی سے لے کر اعلیٰ افسران تک نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے لازوال تاریخ رقم کی ہے اورپوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں پولیس پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے دوسروں کے علاوہ کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ہنگوفصیح الدین اشرف نے بھی خطاب کیا اور کالج کی کارکردگی سمیت اس کے مسائل و مشکلات کو اجا گر کیا جبکہ اس موقع پرڈپٹی کمشنر ہنگو احسان اللہ، ڈپٹی کمانڈنٹ محمد ارشاد، نوجوانوں کے والدین ،عمائدین علاقہ اور سکولوں کے بچوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ وزیرخزانہ نے پولیس کا مورال بلند کرنے کے لئے انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر درانی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں خیبر پختونخوا پولیس ناقابل تسخیر بن چکی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی پولیس کو مکمل بااختیار بنا نے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے لوگوں کو دن کا چین اور راتوں کی نیند نصیب ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کو مثالی بنانے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور ان کی ٹیم کا بھی بنیادی رول ہے اور پولیس فورس کی بہتر کارکردگی کی تمام حکومتیں اور سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں معترف ہیں۔ مظفر سیدنے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس فورس کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ باہر جاکر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو عوام کے جان و مال اور آبرو کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کیلئے بروئے کار لائیں گے۔ قبل ازیں وزیر قانون نے پریڈ کا معائنہ کیا اور فورس کے چاق و چوبند دستے سے سلامی لینے کے علاوہ شوٹنگ رینج کا بھی دورہ کیا اور وہاں شوٹننگ اور کیمو فلاج کے مظاہر ے دیکھے ۔انہوں نے پیش کردہ سپاسنامے کی من و عن منظوری کی بھی یقین دہانی کرائی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر