’اِ س ملک پر ابھی اِسی وقت حملہ کرو ‘ چینی عوام میدان میں آگئے، اپنی حکومت سے ایسا مطالبہ کر دیا کہ دشمن کا چھپنا مشکل ہو گیا، کسی بھی لمحے اب۔۔۔

’اِ س ملک پر ابھی اِسی وقت حملہ کرو ‘ چینی عوام میدان میں آگئے، اپنی حکومت سے ...
’اِ س ملک پر ابھی اِسی وقت حملہ کرو ‘ چینی عوام میدان میں آگئے، اپنی حکومت سے ایسا مطالبہ کر دیا کہ دشمن کا چھپنا مشکل ہو گیا، کسی بھی لمحے اب۔۔۔

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) بحرجنوبی چین کے مقدمے میں ہیگ کی عالمی عدالت کی طرف سے چین کے خلاف فیصلہ آنے اور اس کے بعد مسلسل امریکی فوج کی طرف سے ان سمندری حدود کا گشت کرنے پر چینی عوام غصے سے بپھرے ہوئے ہیں اور وہ اپنی حکومت پر مسلسل امریکہ سے جنگ لڑنے کے لیے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔جس سے خطے میں جنگ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ چینی عوام اپنے ملک میں موجود امریکی کمپنیوں کے دفاتر اور امریکی ہوٹلوں کے باہر تواتر کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی عدالت نے چین کے خلاف جو فیصلہ دیا ہے اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ چینی حکومت اپنے شہریوں کے اس مطالبے کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے تاہم ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ دباﺅ میں اس قدر اضافہ ہو رہا ہے کہ چین حملے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

ایشیئن سکیورٹی ماہر ڈاکٹر کرس اوڈین کا کہنا ہے کہ ”چینی حکومت نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کم کرنے کے لیے ملک میں حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دیا ہے لیکن اب یہ جذبہ خطرناک ہو چکا ہے کیونکہ لوگ امریکہ پر حملے کا پر زورمطالبہ کر رہے ہیں۔ اب حکومت عوام کے ان جذبات کو قابو نہیں کر سکتی۔ چین کا ریاستی میڈیا اگرچہ ان قوم پرستانہ مظاہروں میں شریک ہونے والوں کو وارننگ دے چکا ہے تاہم ایسے لوگ اگر ایک بار نکل کھڑے ہوں تو انہیں قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔چند سال قبل چین میں ایسے ہی مظاہرے جاپان کے خلاف ہوئے تھے جنہیں حکومت قابو نہیں کر سکی تھی۔بحر جنوبی چین میں اس وقت جو صورتحال بن چکی ہے، اگر چینی حکومت حملہ نہ بھی کرنا چاہے تو اسے کرنا پڑے گا۔“

مزید : بین الاقوامی