قومی احتساب بیورو کیبد عنوانی کے خاتمہ کے لئے کامیاب حکمت عملی

قومی احتساب بیورو کیبد عنوانی کے خاتمہ کے لئے کامیاب حکمت عملی

  

بدعنوانی کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن کے ادارے قائم ہیں مگربدعنوانی کے خاتمے کیلئے اتنی کامیابی حاصل نہ کر سکے جتنی ان سے توقع تھی ۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین قمر زمان چودھری نے احتساب بیورو کو اپنے تجربہ کی بدولت جہاں ملک کا بدعنوانی کا ایک موئژ ادارہ بنا نے کیلئے بدعنوانی کی خاتمہ کے لئے بہترین حکمت عملی(Strategy) ترتیب دی وہاں انہوں نے افسران کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا نہ صرف عزم کیا بلکہ اس کو پورا کر کے دکھایا۔ آج قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کو بدعنوانی اور کرپشن سے متعلق 2017 تک 3 لاکھ 43 ہزار 3 سو 56 شکایات موصول ہوئیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔ نیب نے بد عنوان عناصر کے خلاف 11581انکوائریاں کیں۔ جبکہ 7587 درخواستوں پر تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ قومی احتساب بیورو (NAB) نے قیام سے2017تک2808 ریفرنس دائر کئے جن پر مختلف احتساب عدالتوں میں قانون کے مطابق کارروائی ہوئی اور بعض کے خلاف جاری ہے ۔

بد عنوان عناصر سے قومی احتساب بیورو نے 2017 تک 287 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چودھری کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم 2015 سے شروع کیا گیا ہے ۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ نیب نے گریڈنگ سسٹم کے تحت تمام علاقائی بیور وز کی سالانہ کارکردگی کا امسال جنوری اور فروری میں جائزہ لیا اور تمام علاقائی بیور وز کی سالانہ کارکردگی کو پہلے سے بہتر پایا ۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے، سٹیزن فرینڈلی نیب کا بنیادی مقصد نہ صرف شکایت کنندہ کو احسن انداز میں اپنی شکایت سے متعلق پیشرفت پر آگاہی فراہم کرنا ہے بلکہ اس سے نیب میں شکایت کنندہ کے ساتھ رابطہ کے تناظر میں شفافیت اور ذمہ داری پیدا ہو گی جس سے نیب پر اعتماد سازی میں اضافہ ہو گا اور نیب میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ ملے گا۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدالت۔ قومی احتساب بیورو نے نیب میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی عمل میں لائی۔ آپریشن ڈویژن میں نئے تحقیقاتی افسروں اور پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی سے دونوں ڈویژن مزید متحرک ہو گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے تحقیقاتی افسروں اور نئے لا افسروں کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر Conviction Rate تقریباََ76 فیصد ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین کی تجویز پر پاکستان میں سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ مزید برآں پاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت چین اور پاکستان سی پیک کے تحت منصوبوں کی شفافیت کے لئے مل کر کام کریں گے۔ قومی احتساب بیورو ملک کا سب سے بڑا بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والا ادارہ ہے اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ ایک قومی ادارہ ہے جس کا مقصد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر سے عوام کی کرپشن کے ذریعے لوٹی ہوئی رقم کو نہ صر ف واپس دلانا ہے بلکہ اس میں نیب کے افسران کوئی حصہ وصول نہیں کرتے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چودھری نے اپنے موجودہ دور میں قوم کے لوٹے ہوئے تقریباََ پینتالیس ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے جس سے بہت سے متاثرین اور اداروں کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس ملی۔قومی احتساب بیورو نے تحقیقات کے بعدسینکڑوں بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے جو زیر سماعت ہیں۔ قومی احتساب بیورونے پورے ملک میں عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی کے لئے بھر پو مہم چلائی جس کے بڑے دور رس نتائجؓ برآمد ہورہے ہیں ۔

قومی احتساب بیورو نے اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کی ہیں وہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمرزمان چودھری کی قیادت میں نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں کیونکہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمرزمان چودھری بھی ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسروں اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں۔ وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل کی 2016 ؁ء کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس میں کمی قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین قمرزمان چودھری کی کاوشوں کا نہ صرف نتیجہ ہے بلکہ ایک واضح ثبوت ہے جسکو قومی احتساب بیورو پاکستان کے لئے ایک اعزاز تصور کرتا ہے ۔ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کسی ایک فرد، ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ آےئے ہم سب مل کر نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ میں نیب کی عملی کاوشوں کا حصہ بنیں کیونکہ بدعنوانی سے پاک پاکستان ہم سب کا خوا ب ہے جس کو حقیقت بنانے کا وقت آچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پوری قوم کو یک زبان اور اکٹھے ہو کر بدعنوانی کے خاتمہ میں اپنا بھرپورحصہ ڈالنا چاہئے۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً 42 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ نیب 2017 کے اختتام پر 50 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لانے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ اس کے مثبت اور حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد جہاں نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا تھا وہاں نیب کی انکوائری اور انویسٹی گیشن کی کوالٹی کو بھی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک طرف تو وقت کی بچت کرنا مقصود ہے وہاں سکریسی بھی برقرار رہتی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمرزمان چودھری نے اپنی تعیناتی سے قومی احتساب بیورو کی کامیابی کے سفر کو جاری رکھا ہے ۔ آپ اچھی شہرت رکھنے والے بہترین صلاحیتوں کے حامل اعلی آفیسرہیں جو میرٹ غیر جانبداری، شواہد اور شفافیت کی بنیاد پر کسی بھی بدعنوانی کی درخواست پر بلا خوف اور بلاتفریق کارروائی کرتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چودھری کی قیادت میں قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتمادقومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو پر پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا اعتماد 42 فیصد ہے جبکہ دوسرے تحقیقاتی اداروں جن میں پولیس شامل ہے پر 30 فیصد ہے۔ مزید برآں ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس(CPI) 175 ممالک میں 116تک پہنچ گیاہے جو پاکستان نے 20 سالوں میں قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت پہلی دفعہ حاصل کیا ہے۔جس کا برملا اظہارمعاشرے کے تمام طبقوں نے کیاَ ِ ہے۔ قومی احتساب بیورو نے جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کی ہیں وہ ایک طرف قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمرزمان چودھری کی بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہیں وہاں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین قمرزمان چودھری کی شاندار قیادت میں نیب اپنی کامیاب حکمت عملی کے تحت پاکستان سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے بھر پور کوشش کررہا ہے ۔

مزید :

کالم -