عظیم ر ہنمامیر چاکر کی آخری آرام گاہ راکھ کا ڈھیر

عظیم ر ہنمامیر چاکر کی آخری آرام گاہ راکھ کا ڈھیر

  

وسطی پنجاب میں چاکر بلوچ کا قلعہ پاکستان کی قدیمی تہذیب کا گواہ ہے ۔ یہ قلعہ پنچاب کے ایک گاﺅں میں بلوچ عظیم رہنما چاکر بلوچ نے بنایا تھا ۔15 مربع کلومیٹر تک پھیلی ہوئی اسکی فصیل چوڑائی میں پچیس فٹ تھی جس سے میلوں دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔ اس وقت اس محل کی طرف جو بھی آتا وہ اپنے ساتھ ایک مشعل روشن کرتے ہوئے چلا آتا تھا ۔چاکر بلوچ پہ جب بلوچستان کی زمیں تنگ ہوئی تو انہوں نے جاکر ست گھرا میں قیام کیا تھا۔ ست گھرا میر چاکر بلوچ کے ساتھ آنے والے سات خاندانوں کے نام سے منسوب ہے ۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ست گھر سات مرتبہ سیلاب آنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے بہرحال اس شہر کا نام کیسے رکھا گیا یہ کوئی نہیں جانتا ہے ۔

میر چاکر بلوچ سبی میں 1468 میں پیدا ہوئے ۔باپ کے انتقال کے بعد اپنے قبیلے کا سردار بنے تو بلوچی روایات کے مطابق دس گز کی پگڑی باندھی گئی اور چار گز کا کرتا اور ایک تھان کی شلوار زیب تن کی گئی ۔ اس روز چاکر بلوچ ایک سالار کے طور پہ ابھرا اور بلوچستان کے سر زمیں پہ اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنے لگا۔ جام نظام الدین کا تختہ الٹ کر سبی مکران خاران لسبیلہ فتح کیا اور کئی لوگوں کو شکست دے کر اپنا لوہا منوایا۔

چاکر بلوچ کا قول تھا کہ دوسرے نسلوں کی رگوں میں صرف خون دوڑتا ہے جبکہ بلوچ قوم کے رگوں میں آتش ایمان دوڑتا ہے۔ میر چاکر میں تمام خوبیاں موجود تھی جو دوسرے سرداروں میں نہیں تھی کئی بلوچ چاکر کی روحانی طاقت اور صوفیانہ صفات کی وجہ سے اس کی بہت عزت کرتے تھے آج بھی میر چاکر کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ بقول میر چاکر "مرد کا قول اسکے سر کے ساتھ بندھا ہے" اور میرچاکر اپنے قول کا دھنی تھا ۔اپنے قول کے مطابق ایک مالدار عورت "گوھر" کو امان دی اور اس کی حفاظت کف لئے جان کی بازی لگا دی اور اپنے ہی بھائیوں لاشاریوں سے جنگ کی جو تیس سالہ کشت و خون میں بدل گئی اور یہی جنگ کئی نامور رند اور لاشاریوں کو خاک و خون میں نہلا گئی۔

میر چاکر بلوچ کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا ۔انہوں نے عہد کیا تھا کہ زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور جمعرات کے دن جو ان سے جو مانگے گا وہ اس کو عطا کیا جائے گا ۔انہوں نے جو وعدے کیئے وہ پورے کیئے تھے بقول چاکر خان رند کے"سچ بولنا بلوچوں کا شیوہ ہے اور جھوٹ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے

جبکہ چاکر بلوچ 1498 سلطان شاہ حسین کی حمایت حاصل کرنے کیلئے افغانستان بھی چلے گئے وہاں ہاتھی سے لڑنے اور اکھڑ گھوڑے کی کامیاب سواری کا مظاہرہ بھی کیا ۔وہ سلطان کے ہر امتحان میں پاس ہوئے مگر اس کے باوجود سلطان نے دوستی قبول نہ کی اور آپ دوبارہ بلوچستان واپس لوٹ آئے ۔ چاکر بلوچ نے بلوچستان کے سر زمیں کو خیر باد کہہ دیا اور پنجاب پہنچ گئے اور پنجاب کو اپنا مسکن بنا لیا ۔انہوں نے خطرات کی وجہ سے ست گھرا میں قلعہ تعمیر کیا ۔

میر چاکر بلوچ نے اپنے زندگی کے آخری ایام ست گھرا میں گزارے اور وہیں چاکر بلوچ 1565 میں انتقال کر گئے اور ان کو ست گھرا میں ہی دفن کیا گیا۔ آج بھی میر چاکر کا مقبرہ ست گھرا میں عہد رفتگان کی داستان سناتا ہے۔ وہاں موجود قلعہ کے بہت کم آثار بچے ہیں۔ پورے گاﺅں کے گرد بنی فصیل کئی مقامات سے مسمار ہوچکی ہے ۔محرابوں والی راہداریاں آج بھی موجود ہےں لیکن لکڑی کے بنے ہوئے نوادرات گم ہو گئے ہیں۔ مٹی اور اینٹوں سے بنے ہو گھر آج بھی پرانے زمانے کے آثار بتاتے ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے ایک تختی نصب ہے جو باقی رہی سہی عمارت کی نشاندہی ظاہر کر رہا ہے۔ عمارت کی لال اینٹیں اکثر علاقے کے لوگ اٹھا کر لے گئے ہیں اور ان اینٹوں سے اپنے گھر تعمیر کر چکے ہیں ۔میر چاکر بلوچ کے بنائے ہوئے کمرے مقامی لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں حتٰی کہ میر چاکر بلوچ کے انتقال کے بعد ہزاروں جانیں گنوا کر بلوچوں نے ان کا مقبرہ ست گھرا میں بنایا تھا مگر آج بلوچ قوم کے عظیم سپوت کے مزار اور قلعہ کو آثار قدیمہ کے حوالے تو کیا گیا مگر تیمارداری کیلئے کچھ بھی عملی کام نہیں کیا جا رہا ہے۔بلوچ اقوام کی عظیم راہنما کی آخری آرام گاہ آج راکھ کا ڈھیر بنتا جا رہا ہے۔ اس عظیم طرز تعمیر کے اس عظیم سرمائے کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ ایسے قلعہ دنیا میں کہیں کہیں ہےں۔ اس قلعہ کو بچانے کے لئے آثار قدیمہ کے لوگوں کو ایک مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ یہ عظیم ورثہ ہمیشہ قائم اور دائم رہیں۔

۔۔۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -