جنرل پرویز مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا ؟

جنرل پرویز مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا ؟
جنرل پرویز مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وزیر اعظم عمران خان کے اصلاحاتی اعلانات سنے توجنرل پرویز مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا یاد آگیا جس میں اسی طرح قوم کے اعتماد اور مورال کی تعمیر نوکرنے کی بات ہوئی تھی ، وفاق کو مضبوط ،بین الصوبائی عدم یگانگت کے خاتمے اور قومی وحدت کی بحالی کا عزم کیا گیا تھا ، لاء اینڈ آرڈر کی درستگی اور فوری انصاف یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا ، معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتنے کا کہا گیا تھا ، سرکاری اداروں کو غیر سیاسی کرنے کی بات ہوئی تھی ،اختیارات کو بلدیاتی سطح پر منتقلی اور کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف ملک گیر فوری احتساب یقینی بنانے کی بات ہوئی تھی ۔

دونوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا نیا اصلاحاتی نظام دراصل جنرل مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے کا چربہ ہے ۔ تب بھی عوام کو ایسے ہی سبز باغ دکھائے گئے تھے کہ کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوگا لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ نیب کی جانب سے کرپٹ لوگوں کے خلاف بلاامتیاز احتساب کا کلہاڑا چلنے کی بجائے مختلف سیاسی جماعتوں میں نیب زادوں کی تخلیق کا کام زیادہ تیزی سے ہوتا دکھائی دیا۔

شومئی قسمت دیکھئے کہ وزیر اعظم عمران خان کی 21رکنی کابینہ میں 12وزراء جنرل مشرف کی کابینہ کے ہیں ۔ دوسرے معنوں میں یہ وہی نابغہ روزگار شخصیات ہیں جن کی صلاحیتوں کو عوام پہلے بھی آزما چکے ہیں ، تبدیلی کے نام پر پرانی تیلی ہی گیلی ماچس پر رگڑنے کا کام شروع ہوگیا ہے جس سے تب تک کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ امریکہ بہادر مہربانی پر آمادہ نہ ہو جائے۔

جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضے کے بعد فقیر اعجازالدین کو بلایا اور پوچھا کہ ملک کو بہتر بنانے کے لئے وہ کیا اقدامات کریں تو ان کا جواب تھا کہ یہ بات آپ کو اقتدار پر قبضہ کرنے سے پہلے پوچھنی چاہئے تھی۔ دوسری اہم بات انہوں نے جنرل مشرف سے کہی تھی ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے ہیں تو اب آپ کو پتہ چلے گابیوروکریسی اس طرح آپ کا حکم نہیں مانے گی جس طرح فوج میں مانا جاتا تھا۔

دوسری بات ہمیں کامران لاشاری نے ایک مرتبہ بتائی کہ بیوروکریسی Precedentsپر کام کرتی ہے ۔ وضاحت مانگی تو کہنے لگے جب فائل سامنے آتی ہے تو افسر پوچھتا ہے کہ اس سے پہلے افسر نے اس پر کیا کیا تھا ، جب بتایا جاتا ہے کہ کچھ نہیں کیا تھا تو وہ کہتا ہے کہ ایسا ہے تو میں اس پر کوئی ایکشن کیوں لوں کہ کل کو نیب کے دھکے کھاتا پھروں۔ عمران خان تو آغاز ہی میں بیوروکریسی کی طبیعت صاف کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں ، کیا بنے گا؟

قرضوں کی بجائے ٹیکس اصلاحات سے ریونیو میں اضافہ کرکے ملکی معاملات چلانے کا عزم اچھا تو ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کی مالی حالت اس قدر پتلی ہے کہ اسے نچوڑ بھی لیا جائے تو ڈھنگ کا پسینہ بھی نہیں نکلے گا۔ پہلے ہی ودہولڈنگ ٹیکس اورجنرل سیلز ٹیکس کے نام پر عوام سے ان ڈائریکٹ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لے کر موبائل کمپنیوں کو منع کرنا پڑا ہے کہ وہ 100روپے کے بیلنس پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی روش ترک کرے۔

چنانچہ ٹیکس نظام میں بہتری لانے سے پہلے ضروری ہوگا کہ حکومت سرمایہ کاری کو فروغ دے جس کے لئے نہ صرف حکومتی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے بلکہ وہ مراعات بھی دینا پڑتی ہیں جس سے ملک میں افراط زر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بالآخر عوام کو ایک بڑی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جنرل مشرف کی طرح عمران خان نے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے لیکن تب ایسا ہوا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے صنعتیں لگانے کی بجائے اپنے سرمائے کو سٹاک ایکسچینج اور رئیل اسٹیٹ میں لگانے کو ترجیح دی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ ملک میں زمینوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں اور عام پاکستانی کے لئے گھر بنانے کا تصور محال ہو گیا تھا ۔

اس صورت حال پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں قابو میں نہیں آسکی ہیں تاکہ عام آدمی اپنی چھت ڈال کر عزت کی زندگی گزار سکے۔

جس طرح کی بزنس ایڈوائزری کونسل کی بات کی گئی ہے ویسی ہی ایک کونسل جنرل مشرف کی بھی تھی اور بالکل اسی طرح فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی 22خاندانوں کو پالا تھا اور خیال کیا گیا تھا کہ بڑے لوگ کمائیں گے تو نئی صنعتیں لگائیں گے جس سے نوکریاں پیدا ہوں گی۔ جہاں تک نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنے کے لئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے پراجیکٹ کا اعلان ہے تو دراصل یہ نئی بوتل میں پرانا شربت بیچنے کے مترادف ہے ۔ نواز شریف حکومت کے ترقیاتی کام بڑی نوعیت کے تھے ، موجودہ حکومت گھروں کی تعمیر کا پراجیکٹ شروع کرکے کنسٹرکشن انڈسٹری سے جڑی پچاس صنعتوں کی بحالی اور نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنے کا اہتمام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ یہ نعرہ سننے میں تو اچھا لگتا ہے لیکن اس سے بھی نوجوانوں کی زندگیوں میں وہ تبدیلیاں نہیں آتی ہیں جس کے طفیل وہ ازخود ایک انٹررپرونیور میں تبدیل ہو جائیں ۔

وزیر اعظم کے اصلاحاتی پیکج سے ان کے ووٹرو ں سپورٹروں کو بغلیں بجانے کا موقع تو مل جائے گا لیکن ملکی معیشت میں بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

مزید : رائے /کالم