عید الاضحی امتحان اور آزمائش جاری ہے

عید الاضحی امتحان اور آزمائش جاری ہے

اگست1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آتا ہے۔27رمضان المبارک کی درمیانی شب ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے قیام کا اعلان ہوتا ہے۔ تین دن کے بعد عیدالفطر کا تہوار ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد عید ہے جو فساد، لوٹ مار، آتش زنی، آبرو ریزی اور جنونی قتل و غارت کے اندونہاک اور دلسوزسانحات کے عین بیچ منائی گئی تھی۔ 1947ء ہی میں اکتوبر کے مہینے کے آخری ایام میں عیدالاضحی کا ورود ہوا تھا۔ عظیم قربانی کا سبق لئے اس اسلامی تہوار کے موقعہ پر ہمارے عظیم قائد نے قوم کے نام حوصلے اور امید کا پیغام دیا تھا جس نے پریشان حال لوگوں میں تازگی کی نئی روح پھونک دی تھی۔

24 اکتوبر 1947ء کو قائد اعظم نے فرمایا تھا:

’’آج کے مبارک دن کے موقع پر میں پوری دنیا کے مسلمان بھائیوں کواپنی جانب سے اور پاکستان کے باشندوں کی طرف سے عید مبارک پیش کرتا ہوں۔ یہاں ہمارے پاکستان میں تو شکر گزاری اور خوشیوں بھرا دن اُن تکلیفوں، اذیتوں اور زخموں سے خون آلود ہے جو مشرقی پنجاب اور دوسرے علاقوں میں پچاس لاکھ مسلمانوں پر لگائے گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آج کے مبارک دن جہاں کہیں بھی مسلمان مرد اور عورتیں جمع ہو کر خداوند کریم کے حضورمیں سجدۂ شکر بجا لائیں گے، تو وہ اپنی پُر خلوص دعاؤں میں اُن بدنصیب مردوں، عورتوں اور بچوں کو ضرور یاد رکھیں گے جنہوں نے اپنے پیاروں کے گلے کٹوائے، گھر سے بے گھر ہوئے اور اب لٹے کٹھے تباہ و برباد، پریشان حالت میں ایسی ایسی اذیتیں اور ظالمانہ تکلیفیں برداشت کررہے ہیں کہ آج تک انسانیت نے کبھی برداشت نہیں کیں۔ ان تڑپتے ہوئے، بے کل، بے گھر، مجبور بے کس مسلمانوں کے نام پر ہیں دنیا بھر کے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خطرے اور ضرورت کی اس گھڑی میں برادرا ہمدردی، امداد اور تعاون کا ہاتھ ہماری جانب بڑھائیں۔۔۔ میں پھر کہتا ہوں دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔

خدا جن لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ ان کو امتحان اور آزمائش میں بھی ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ جو شے آپ کو سب سے زیادہ عزیز ہو،اس کی قربانی دیں حضرت ابراہیم ؑ نے حکم خداوندی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے عزیز بیٹے کی قربانی پیش کی۔ آج بھی خداوند کریم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کا امتحان لے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سے بہت ہی بڑی بڑی قربانیاں طلب کی ہیں ہماری نوزائیدہ مملکت دشمنوں کے لگائے ہوئے زخموں سے چور ہے۔ ہندوستان میں ہمارے مسلمان بھائیوں پر ظلم توڑے جارہے ہیں اور بدلے لئے جارہے ہیں۔ محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں اور انہوں نے پاکستان کے قیام میں مدد دی تھی اور اس سے ہمدردی ظاہر کی تھی۔ چاروں طرف سے تاریک بادلوں نے ہمیں گھیر رکھا ہے، مگر ہم اُن کے خوف سے رُک نہیں سکتے۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم نے قربانی کا وہی جذبہ پیش کیا، جیسا حضرت ابراہیم ؑ نے کیا تھا تو مصیبتوں کے بادل پھٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کی طرح ہم پر بھی اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔

آئیے آج عیدالاضحی کے دن جو اسلام کے اس جذبہ ایثار اور قربانی کا مظہر ہے، جن کی اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے، یہ عہد کریں کہ ہم اپنے تصورات کے مطابق اس نئی مملکت کی تخلیق میں بڑی سے بڑی قربانی دینے اور آزمائشوں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے میں پیچھے نہ رہیں گے اور ہم اپنی ساری قوتیں اور سارے وسائل اس مقصد کے حصول پر صرف کردیں گے۔

یہ وقت ہر چند کو بہت نازک ہے، مگر مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم اس پر غالب آئیں گے۔ کیونکہ ہم اپنی طویل تاریخ کے دوران میں ایسے بہت سے طوفانوں کے منہ پھیر چکے ہیں۔ گودشمن اپنی کوششوں میں مصروف ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم آلام و مصائب کی اس تاریک رات سے کامران ہو کر نکلیں گے اور دنیا کو دکھا دیں گے کہ یہ مملکت محض زندگی کے لئے نہیں، بلکہ اچھی زندگی گزارنے کے لئے بنی ہے۔

آج اکہتر برس بعد سن 2018ء کا اگست قوم کے لئے خوشیوں کے رنگ رنگ موتیوں کی لڑی لے کر آیا ہے۔ اس مہینے یوم آزادی کے ساتھ عیدالاضحی کا بابرکت تہوار ہی نہیں آیا، ملکی سیاست میں روشن تبدیلی کی ایک فرحت بخش لہر بھی اس مہینے میں عوام کے مقصدر کا حصہ بنی ہے۔

عیدالاضحی کا مقدس تہوار اپنی آمد سے پوری دنیا اور پاکستان کے طول و عرض میں خوشیوں اور مسرتوں کے پھول کھلا دیتا ہے۔ اِس دن کے پیغام میں قربانی علامت کی ایک صورت رکھتی ہے اور یہ مبارک دن اُن لوگوں پر جُہدِ حیات کے بہت سے پہلو عیاں کرتا ہے جو اِس علامت پر یقینِ کامل رکھتے ہیں۔ افسوس کہ ہم قربانی کے اصل مقصد سے ہٹ چکے ہیں۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ ہم نے جانور ذبح کیا اور اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئے۔ ہم اُن تقاضوں سے نابلد ہیں جن کی توقع عیدالاضحی کا تہوار دنیا بھر کے مسلمانوں سے کرتا ہے۔عید الاضحی کے دن ہماری خواتین کے روزمرہ مشاغل میں قدرے اضافہ ہوجاتا ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم اور گھر میں آنے والے گوشت کو سنبھالنا یقیناً ایک دقت طلب مسئلہ ہے تاہم سال بھر میں ایک بار آنے والی اِس خوشی سے اضافی کام کے بوجھ کا احساس نہیں ہوتا۔ اپنی ذات سے بے نیاز ہو کر ہماری خواتین گھریلو امور میں جُٹی رہتی ہیں۔ شام کو ذرا فراغت پاتی ہیں تو سنگھار اورلباس کی طرف توجہ کرتی ہیں۔ عزیز و اقارب سے ملنا جُلنا بھی کھانے کی میز پر ہوتا ہے جہاں قربانی کا گوشت مختلف پکوانوں کی صورت میں موجود رہتا ہے۔

عیدالاضحی کے دن وہ خواتین بھی متحرک رہتی ہیں جو انسانی فلاح و بہبود میں وقت صرف کرتی ہیں۔ اولڈ ہومز میں مقیم افراد، قیدی خواتین اور ہسپتالوں میں موجود بچوں اور عورتوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کے لئے گھروں سے باہرنکلتی ہیں اور بے شمار دعائیں سمیٹ کر گھر لوٹتی ہیں۔ قابلِ تعریف ہیں خواتین کی وہ فلاحی تنظیمیں جو ستائش کی تمنا کے بغیر غریب و نادار لوگوں کی مدد کے لئے ہمہ وقت فعال رہتی ہیں۔

اس بار آنے والی عیدالاضحی انشاء اللہ ملک وقوم کے لئے بہتری اور استحکام لے کر آئے گی۔ مجھے یقین ہے کہ حلف اٹھانے والی نئی حکومت ان ارادوں، امنگوں اور خوابوں کو عملی جامہ پہنائے گی جو اِس ملک کو بنانے والوں کے دِلوں میں جاگزیں تھے۔ ہماری مصیبتوں کے بادل یقیناً پھٹ جائیں گے اور ربِ کریم حضرت ابراہیم ؑ کی طرح ہم پر بھی اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔

عیدالاضحی کے دن جو اسلام کے جذبۂ ایثار اور قربانی کا مظہر ہے ہم پاکستان کے مردو خواتین اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہیں گے اور قائد کے اس قول کی پاسداری کریں گے کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی اور دنیا کو دکھا دیں گے کہ یہ مملکت محض زندگی کے لئے نہیں بلکہ اچھی زندگی گزارنے کے لئے بنی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1