یوم آزادی پر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا چاہئے

یوم آزادی پر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا چاہئے

یونس باٹھ

ملک کے اکثر بڑے شہروں میں 14اگست کے روز منچلے نوجوانوں نے جس طرح جشن آزادی منایا ہے اسے کسی طرح بھی قابل فخر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس دوران ہوائی فائرنگ ‘ آتش بازی‘ ون ویلنگ کی گئی جس سے ایک کمسن بچی گولی لگنے سے جاں بحق درجنوں افراد زخمی اور قانون کی خلاف ورزی پر کئی گرفتار ہوئے اور خواتین سے بدتمیزی کے واقعات بھی پیش آئے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ مستقبل میں اس عظیم مملکت کی باگ ڈور انہوں نے سنبھالنی ہے۔ انہوں نے خود کو اقبال کے شاہین ثابت کرنا ہے۔انہیں قائد کے ایمان‘ اتحاد اور تنظیم کے درس کو ہر لمحہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی شور شرابے نہیں سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کی حفاظت کس طرح کرنی ہے۔ ملک کو ترقی کی راہ پر کس طرح گامزن کرنا ہے۔ ہم نے ثابت کرنا ہے کہ ہم ہجوم نہیں ایک باشعور اور عظیم قوم ہیں‘ جسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ آزادی کا اظہار زندہ قوموں کی علامت ہے لیکن ہر شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں ہماری چھڑی کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے‘ ہماری چھڑی اس کی ناک پر نہیں لگنی چاہیے‘ ہمیں ذاتی نہیں‘ قومی مفاد عزیز رکھنا ہو گا‘ اس لیے آزادی کے موقع پر سڑکوں پر ہاہا کار مچانا‘ ہوائی فائرنگ کرنا آتش بازی کرنا، خواتین سے بدتمیزی کرنا ‘ راستوں کو بند کرنا کسی طرح بھی آزادی کی تعریف میں نہیں آتا۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں ہم سب جواب دہ ہیں۔ ہم سب نے مل کر بھائی چارے ‘ اتحاد ‘ ایمان اور تنظیم کے ساتھ اپنے وطن کی آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔ خصوصاً نوجوان اس وطن کا ہراول دستہ ہیں‘ انہیں اپنے رویے سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ایک سنجیدہ اور باوقار قوم کے باشعور شہری ہیں۔آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور آزای کی زندگی کا ایک دن غلام کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے ۔ بڑی خوش قسمت ہیں وہ اقوام جو آزاد فضا میں سانس لے رہی ہیں اور بد قسمت ہیں وہ عوام جو آج غلامی کی زندگی سے نجات حاصل نہیں کر سکیں ۔ آزادی ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ شاید عقیدے کے بعد آزادی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطر انسان اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک بھر میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 13اگست کی شام کو آفس سے گھر آیا تو گلی میں دس سے بارہ سال کے چھوٹے چھوٹے بچے سیڑھی لے کر گھوم رہے تھے اور پوری گلی میں جھنڈیاں لگا رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے تو بچوں نے کہا کہ ہم نے جھنڈیوں کے لئے جیب خرچ سے پیسے بچا کر رکھے تھے۔ بچوں کا جذبہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اور اس بات کا افسوس بھی کہ آج کی نوجوان نسل اپنے کاموں میں اتنا مصروف ہو چکی ہے کہ وہ یوم آزادی منانا ہی بھول گئی ہے۔ ہمیں ان چھوٹے چھوٹے بچوں سے سیکھنا چاہیے جن کے دلوں میں ہم سے زیادہ حب الوطنی ہے۔آج کی نوجوان نسل یوم آزادی مناتی تو ہے مگر وہ پہلے جیسا جوش و جذبہ نظر نہیں آتا۔ نوجوان نسل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں تو ان شہیدوں کی وجہ سے جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کے لئے قربان کیا۔ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون شامل ہے۔ ایک آزاد مملکت کے لئے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ تاریخ گواہ ہے بھارت سے آنے والی ٹرین مسلمانوں کی لاشوں سے بھری ہوئی لاہور پہنچی تو بھی یہاں کے مسلمانوں نے پاکستان میں رہنے والے ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا۔ہندوستان میں آج بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر بھی ہندوستان کے مظالم کی داستانوں میں سے ایک داستان ہے۔ آج جب ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آزادی ایک نعمت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہم پر جو احسان کیا ہے ہم وہ احسان کبھی نہیں اتار سکتے مگر ہم پاکستان کو جناح کا پاکستان بنا کر قائد اعظم محمد علی جناح کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947 کی تقریر میں واضح کردیا تھا کہ لوگ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں اور کسی کے مذہب سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہوگا۔آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔" بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر سے اقتباس آزادی ایک بڑی نعمت ہے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ آزادی کا دن منانا بھی ہم سب پر لازم ہے۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی یوم آزادی پاکستان جوش و جذبے سے مناتے ہیں کیونکہ یہ جناح کا پاکستان ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوم کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ آزادی کی قدر و قیمت مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں سے پوچھنی چاہیے جو بھارت اور اسرائیل کے ظلم کا شکار ہیں۔ آزادی کا جشن مناتے ہوئے ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کرینگے، وطن عزیز کی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور وقت آنے پر پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑیں ہوں گے جو دہشتگردوں کے خلاف سربکف ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے ملک کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔آزادی ایک لفظ نہیں، ایک عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا اصل احساس ہے۔ جو قومیں اس نعمت کی قدر نہیں کرتیں ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹا جاتا ہے۔ 14 اگست کا دن ہمیں اس کا احساس دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے نصف صدی تک حصول پاکستان کیلئے کن کن جانی و مالی قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا جن کی بدولت ہم آج آزاد وطن میں پر سکون زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم پاکستانی امریکن جو امریکہ میں موجود ہیں کی اصل پہچان بھی پاکستان ہی ہے۔قیام پاکستان کے بعد مقاصد پاکستان سے متعلق آج ہمیں دو مختلف گروہوں کے الگ الگ خیالات و نظریات آتے ہیں۔مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک لا الہ الا اللہ کی بنیادپر وجود میں آیا۔ قائداعظم اور دوسرے رہنماؤں نے خطہ اس لیے حاصل کیا کہ اس میں مسلمان پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکے اور اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کو نافذ کر سکیں جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ہمارے رہنما ایک ایسی آزاد فلاحی و رفاعی ریاست کے ٹکڑے کے خواہش مند تھے۔ جہاں ہر مذہب کے افراد کو مذہبی آزادی حاصل ہو، کوئی کسی کی عبادت گاہ میں دخل انداز نہ ہو۔ انصاف کا بول بالا ہو، معاشی، اقتصادی اور سماجی طور پر ترقی ہو سکے اور اقوام عالم میں ہمارا شعور جمہوری طور پر مستحکم ممالک میں ہو۔بلا شبہ پاکستان کا 27 رمضان کو قیام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کیلئے ایک نایاب تحفہ تھا بلکہ تمام عالم اسلام کیلئے ایک معجزہ بھی تھا۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ انگریزوں کے برصغیر پاک و ہند پر غالب آجانے کے بعد مسلمانوں پر زمین اس قدر تنگ کرنے کی کوشش کی گئی کہ پورے ہندوستان کے مسلمان یہ سمجھ گئے کہ مخالف قوتیں خاص کر ہندو انہیں ہر ممکن طریقے سے غلام بنانے اور دین اسلام کو خیر باد کرنے پر مصر ہیں اور اس کی وجہ ان حالات و واقعات کا تسلسل تھا جو کہ مسلمانوں کے ساتھ جاری تھا مثلا بنکم چیفر جی نے بندے ماترم کا ترانہ اس تصور کے ساتھ پیش کیا کہ بھارت ماتا اور ہم تیرے بندے ہیں۔یہ ترانہ قیام پاکستان کے بعد بھی مسلمانوں کو پڑھنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ اسی طرح برہمو سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا جو اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کا دوسرا رخ کہا جاسکتا تھا۔ رام موہن رائے نے بھی اسی طرز پر ایک ادارے کی مجلس ایزوی کے نام سے داغ بیل ڈالی اس کے بعد دیانند سر سوتی نے آریہ سماج کی پر تشدد تحریک شروع کی۔ جس میں کھل کر کہا گیا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں لہذا مسلمان یا تو ہندو بن جائیں یا پھر ہجرت کر کے چلے جائیں اسی تحریک کے تحت آر ایس ایس بنائی گئی جو ایک انتہا پسند ہندو جماعت تھی۔ اس کے علاوہ شدھی کی تحریک شروع کی گئی جس کا مقصد مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانا تھا۔ اس تحریک سے نیا پاکستان 71 سال پہلے 14 اگست کو بنا تھا۔بانی اس پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ کوئی مہم جوکوئی فاتح اعظم کوئی سالار اعلیٰ ہرگز نہ تھا۔ قانون،قاعدے،ضابطے،آئین کی زبان میں بات کرنے والا زیرک لیکن مخلص وکیل تھا۔ جس کے پاس یقین قلب عزم صمیم کی طاقت تھی۔ہم اہل صحافت بندگان مزدور کے تہوار ایسے ہی گزرتے ہیں۔ خبروں کے پیچھے بھاگتے، ایونٹس کی تلاش میں۔اہل خانہ سے دور البتہ رفقائے کار کے ہمراہ۔ عیدیں، شب برات، یوم آزادی ، مذہبی و تہذیبی، ایام خصوصی۔ سب کے سب۔ ڈیڈ لائن،سامنے نیوز ڈیسک پر خبروں کی بھر مار،ان کا انتخاب،نیوز آئیٹم کی کتربیونت یعنی ایڈیٹنگ وہیں اس ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے چائے، پانی، کھانا کبھی کبھار وقفوں سے سکرین پر نظر کوئی خبر رہ تو نہیں گئی۔کوئی چینل آگے تو نہیں نکل گیا۔ کوئی خبر مس تو نہیں ہو گئی۔رپورٹر کی زندگی تو اور بھی مشکل۔ اس نے تو فیلڈ میں دوڑ بھاگ کر کے ہلکان ہو کر چھپی ہوئی پوشید ہ خبروں کو نکال کر منظر عام پر لے کر آنا ہے۔ لیکن دل تو بچہ ہے۔ اور قلم،کیمرہ مزدور کا دل تو اور بھی حساس ہے۔ سارے جہاں کا درد ان کے جگر میں ہے۔ لیکن ان کے اپنے دور کا کوئی درماں نہیں۔ اب دل میں چھپا بچہ تو جشن آزادی منانے کیلئے اکساتا ہے۔ ہوتا کیا ہے۔دل میں آرزو ہو تو طریقے ہزار۔حیلے بہت۔ یوم آزادی تو منانا ہے۔ہر حال میں سو ہم اہل صحافت اپنے ہم وطنوں کی خشیوں، مسرتوں کی پروجیکشن کر کے ان کے چہروں پر پھیلی شفق رنگ لالیوں کو، آنکھوں کی مسرت کو پردہ سکرین پر پیش کر کے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ آتش بازی، منڈیروں پر لہراتے سبز ہلالی پر چم،ٹوپیاں،بیجز،ٹی شرٹیں پہن کر ٹولیوں کی شکل میں جشن آزادی مناتے بچے، بوڑھے،جوان۔ان سب کی سر گرمیوں کو آغاز سے احتتام تک ناظرین کی بصارتوں کی نظر کرنا بھی تو جشن کی ہی ایک صورت ہے۔ اگر یہ اہل قلم، کیمرہ کے مزدور اپنی خوشیاں قربان نہ کریں تو ڈیرہ بگٹی کی سڑکوں پر پرچم لئے گھومتے جفاکش بلوچ کو کیسے خبر ہو کہ اس کا بھائی وزیر ستان میں کس طرح اس آزادی کا جشن کیسے منا رہا ہے۔ جہاں صبح سویرے قبائلی عمائدین جمع ہوئے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔قومی ترانا پڑھا۔ ان سے زیادہ آزادی کی قدر، قیمت کا احساس اور کس کو ہو گا۔ جن کی سر زمین پر کچھ عرصہ قبل تک اغیارنے تسلط جما لیا تھا۔ عرب ملکوں سے بھاگے ہوئے مفرور، وسطی ایشیا کے خونخوار قاتلوں نے جن کے نزدیک انسانی خون کی کوئی اہمیت نہ تھی۔وہ اس کی سر زمین پر قابض ہوئے۔پورے ملک میں دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔پھر وہ غیور پاکستانی جو کبھی اپنے کشمیری بھائیوں کو مشکل میں دیکھ کر سری نگر تک یلغار کرتے جا پہنچے تھے۔ان کی پاک دھرتی کو امریکی ڈرون حملوں نے ادھیڑ ڈالا۔ لیکن تب حکمران کوئی اور تھا۔وہ جو عوام کو مکے دکھاتا تھا۔ جس کو احتساب کا کوئی خوف نہ تھا۔ جو کسی سے ڈرتا ورتا نہیں تھا۔البتہ رچرڈ آرمٹیج کی ٹیلی فون کال پر اس کی ٹانگیں کانپ جاتیں۔کیونکہ اس کو تو اقتدار کا دوام چاہیے تھا۔ اس کے دور میں تو بلوچستان میں علیحدگی پسند باغی دہشت گرد اس قدر نڈر ہو گئے کہ یوم آزادی منانا بھی دشوار ہو گیا۔ 14 اگست کو سکولوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارتوں پر جھنڈا لہرانا بھی ناممکنات میں سے تھا۔ البتہ محب وطن قبائلی سرداروں کے قتل عام کا دل پسند کھیل جاری تھا۔ پھر 2008کے بعد قوم نے انگڑائی لی۔ بتدریج دور مشرف کی آخری نشانیوں کو نکال باہر کیا۔قوم نے دہشت گردی کو پسپا کرنا شروع کیا۔جیسے جیسے دہشت گرد عناصر پیچھے ہٹتے گئے قوم آگے بڑھتی گئی۔وہ بلوچستان ہو یا کراچی،شمالی علاقہ جات ہویا قبائلی علاقے۔دہشت گردی کے گرفت سے نکلتے چلے گئے۔آج گوادر کے ساحلوں سے لیکر خنجراب کی آسمان کو چھوتی چوٹیوں تک قوم بے فکری کے ساتھ یوم آزادی منا رہی ہے۔ایسے میں یہ میڈیا ہے۔ ٹی وی چینلوں کے دفاتر میں بیٹھے خاموش سپاہی ہیں۔جو ایک ایک لمحہ کو کیمرہ کی جادوئی گرفت میں لیکر سات بر اعظموں کے کونے کونے تک براہ راست پہنچا رہے۔ چاروں صوبوں،گلگت،بلتستان، آزاد کشمیر میں اہل وطن چلتے پھرتے اپنے ڈرائینگ روموں میں بیٹھے ایک دوسرے کے جشن مسرت میں شریک ہیں۔ خوشیوں کی تقسیم، ترسیل کیلئے چھٹی کی قربانی کوئی بڑی بات نہیں۔ تزئین گلستان کیلئے چھٹی کی قربانی کیا چیز ہے۔کوئی ان خاموش سپاہیوں کا نام لے نہ لے۔لیکن اتنا اطمینان کافی ہے کہ ہماراخون بھی گلشن کی ہریالی میں شامل ہے۔ جشن آزادی منانے کے بہت طریقے ہیں۔سبز کرتہ پہنے سبز ہلالی پرچم،واسکٹ یا کوٹ کی جیب، ٹی شرٹ، گاڑی پر آویزاں جھنڈا۔ حالات، فرست، وقت اور وسائل کے مطابق احساس شرکت ہی کافی ہے۔بندہ مزدور مبتدی کالم کار بھی صبح سے شام تک ایسے ہی چکی کی مشقت جشن آزادی کے خوش رنگ ہنگاموں کا شریک کار رہا۔ امید واثق ہے کہ قائد اعظم کا جمہوری پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ پاکستان کو اپنی مٹھی میں لیکر چلانے کے خواہش مند کئی قبضہ گیر اور چلے گئے۔ نام و نشان مٹ گئے۔ ان نیا پاکستان بنانے والوں کے پاکستان کی عوام کی قربانیوں، جمہوریت کے ساتھ وارفتگی کاکھیل آگے بڑھ رہا ہے۔ اور آگے بڑھتا رہے گا۔جنونیوں کا کوئی طائفہ، فدائیوں کا کوئی گروہ اس کو تبدیل نہیں کر سکے گا۔

مزید : ایڈیشن 2