شیخوپورہ میں فیکٹریاں فضائی آلودگی پھیلانے لگیں

شیخوپورہ میں فیکٹریاں فضائی آلودگی پھیلانے لگیں

کرائم سٹوری شیخوپورہ 

تحریر ،محمد ارشد شیخ بیوروچیف شیخوپورہ 

ہمارے ملک میں سردی کا آغاز نومبر کے مہینے سے ہوتا ہے سردی کی وجہ سے فضاء میں ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے اور ساتھ ہی نمی کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے، اوپر نمی کی وجہ سے دھواں فضاء میں نہیں جا پاتا۔ آپ نے کبھی غور کیا ہو سردیوں میں جہازوں کے گزرنے سے آسمان پر سفید لکیریں بن جاتی ہیں اور ایسی ہی صبح و شام کو لکڑی کے چولہے کا دھواں بادلوں کی طرح محسوس ہوتا ہے جو ایک خاص سطح پر جمع رہتا ہے ایسے ہی موسم سرما میں خشک سردی کی وجہ سے فوگ پیدا ہوتی ہے تو یہ سموگ اس میں شامل ہو کر مزید نقصان دے ہو جاتی ہے۔ اب حالیہ سموگ میں فوگ بھی شامل ہو رہی ہے جس کے پیش نظر سٹرکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ حادثات کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔سموگ و فوگ انسانی صحت پر اثر انداز ہورہی ہے، اس کی وجہ سے سانس لینے میں تکلیف، جلدی امراض، پیٹ کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی آکسیجن کی کمی کے باعث انسانی دماغ پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں، عموماً اکسیجن کی کمی سے دماغ سکڑ جاتا ہے۔ فضا میں موجود آلودگی کی وجہ سے دماغی امراض میں بھی خطرناک اضافہ ہو گا۔ ماحولیاتی آلودگی انسانی صحت کے لئے اس قدر خطرناک ہے کہ اس کی وجہ سے جسم کا کوئی ایسا عضو نہیں جو متاثر نہ ہو رہا ہو، حتی کہ انسانی گردے، پھیپھڑے اور بینائی تک متاثر ہو رہی ہے۔ انسانوں کے علاوہ جانور بھی بیمار ہورہے ہیں،فصلیں اور پودے بھی اس سموگ اور فوگ سے متاثر ہورہے ہیں‘ دھوپ نہ نکلنے کی وجہ سے ان کی بڑھوتری نہیں ہورہی جس سے پیداوار کی کمی اور مختلف زرعی اشیاء کا بحران پیدا ہوگا۔ان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت مثاثر ہورہی ہے، اب تک اربوں ڈالر کے نقصانات ہو چکے ہیں۔ 24بین الاقوامی اداروں کے ماہرین کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران معیشت کو مجموعی طور پر اربوں ڈالر زکے نقصانات ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق2010سے2018کے درمیان شدید موسمیاتی حالات سے ہونے والے نقصانات میں 48 فیصدتک اضافہ ہوا ہے۔تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے بارے مختلف ماہرین انسان کو اپنے ماحول کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں‘ آنے والے سالوں میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے جن میں گرمی سردی، طوفان، حد سے زیادہ بارشیں، سموگ و فوگ،اور سب سے بڑھ کر غذائی قلت سے انسانی زندگی خطرے سے دوچار ہوگی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تیزی سے ہوتی ان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی شدید غذائی کمی کے سبب 2050ء میں 5 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔اس کے علاوہ مزید محققین نے انکشاف کیا ہے کہ فضائی آلودگی کے سبب سالانہ بنیادوں پر کئی لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں اور ان میں سے نصف سے زیادہ ہلاکتیں تیزی سے اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ممالک چین اور بھارت میں ہوتی ہیں۔ واشنگٹن میں ’امریکن ایسوسی ایشن فار دا ایڈوانسمنٹ آف سائنس‘ کی ایک کانفرنس میں سائنس دانوں نے چند سال قبل خبردار کیا تھا کہ اگر آلودگی میں کمی لانے کے لیے زیادہ سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والوں سالوں میں قبل از وقت اموات کی شرح میں اضافہ جاری ہو گا

فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان میں محکمہ ماحولیات کا قیام عمل میں لایا گیا ہے مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسا نظام وضع نہیں ہو سکا کہ پاکستان میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے قائم کئے جانے والے اداروں کو درست طریقہ کار سے چلا سکیں ہر محکمے میں براجمان آفسران نے ذاتی طمع نفسانی کی خا طر عوام کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لوٹ مار شروع کر دی اور اپنے فرائض منصبی سے منہ موڑتے ہوئے کرپشن جیسی لعت لیتے ہوئے عوام کو اللہ کے رحم کرم پر چھوڑ دیا جس سے پاکستان کے حالات ابتر ہوتے چلے گئے ضلع شیخوپورہ جو کہ صنعتی لحاظ سے زرخیز ترین ضلع ہے یہاں ٹیکسٹائل ملز، اسٹیل ملز، کیمیکلز فیکٹریاں ، کاٹن ویسٹ، ادویات ساز، الیکٹرونکس کی اشیاء تیار کرنے والے کارخانے، چپ بورڈ اور گتہ تیار کرنے والے کارخانے،اور جوتے تیار کرنے والی فیکٹریوں سمیت ضروریات زندگی کی بے بہا چیزیں تیار کی جاتی ہیں شیخوپورہ لاہور روڈ پر لا تعداد فیکٹریاں قائم ہیں۔ گجرانوالہ روڈ پر چند ایک، سرگودھا روڈ بیشتر جبکہ شیخوپورہ فیصل آباد روڈ پر بھی بہت زیادہ فیکٹریاں لگائی گئی ہیں اسی طرف شیخوپورہ بھر میں لنک سٹرکوں پر بیشتر فیکٹریاں اور کارخانے قائم ہیں ملک میں بجلی کی قلت کے پیش نظر صنعتی کارخانوں اور فیکٹریوں کے مالکان نے محکمہ ماحولیات سے مبینہ طور پر کٹھ جوڑ کر کے اپنی فیکٹریوں کو چلانے کے لئے بوائلرز کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بوائلرز کو چلانے کے لئے انتہائی غیر قانونی طریقہ کار سے ٹائرز ، مکئی کا تکلہ، دھان کی توہ، اور لکٹری کا استعمال کیا جا رہا ہے ضلع بھر میں فیکٹریوں کے مالکان نے بوائلرز کو چلانے کے دوران نکلنے والے زہریلے دھویں کو کنٹرول کرنے کے لئے کسی قسم کے حفاظتی انتظامات نہیں کئے اور نا ہی کسی فیکٹری میں ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب ہے فیکٹریوں اور کارخانوں کی انتظامیہ اور مالکان بلا دریغ زہریلہ دھواں فضا ء میں چھوڑ کر فضاء کو زہر آلود کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جس کے منفی اثرات انسانی زندگیوں سمیت ہر چرند پرند پر پڑ رہے ہیں جبکہ فیکٹریوں کے مالکان کے اس جرم میں محکمہ ماحولیات کے ضلعی افسران مبینہ ساز باز کر کے اس جرم میں برابر کے شریک بنے ہوئے ہیں فضائی آلودگی کی وجہ سے پورے ضلع کے نصف سے زائد عوام آنکھوں ، جلد، پیٹ، معدہ ، سمیت دیگر موذی امراض کا شکار ہو کر قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں بعض جگہوں پر تو فیکٹریاں اور کارخانے رہائشی علاقوں میں لگائی گئی ہیں جہاں سے نکلنے والی گردوغبار لوگو ں کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے اور لوگ اپنی زندگیاں بچانے کے لئے ان علاقوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اس حوالہ سے مقامی پرنٹ اور الیکٹرونکس میڈیا نے بار بار فیکٹریوں اور کارخانوں کی ہٹ دھرمیوں کی نشاندہی کی مگر ضلعی آفیسر ماحولیات سمیت دیگر ملازمین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی فضائی آلودگی کی وجہ سے ضلع بھر میں ہزاروں درخت بھی سوکھ چکے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ اورآکسیجن میں کمی رونما ہو رہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے پچھلے دنوں جماعت اسلامی شیخوپورہ نے فضائی آلودگی سے تنگ آ کر اور محکمہ ماحولیات کے افسران کی سستی لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کے خلاف بائی پاس شیخوپورہ سے روڈ کو بلاک کر کے شیخوپورہ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تو تکرار بھی ہوئی مگر بعد میں حالات دوبارہ ٹھنڈے پڑ گئے اور فیکٹریوں کے مالکان کو فضاء میں زہریلی گیسیں اور دھواں بلا دریغ چھوڑنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی اور عوام کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ایک سروے کے مطابق ضلع بھر میں قائم فیکٹریوں اور کارخانوں میں سے 90 فیصد صنعتی کارخانے اور فیکٹریاں ایسی ہیں جو محکمہ ماحولیات کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں جبکہ ضلعی محکمہ ماحولیات کے ذمہ دار ملازمین نے مبینہ طور پر نوٹوں کی چمک سے متاثر ہو کر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں عوامی سماجی حلقوں کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ سابق حکومت نے عوام کے بار بار واویلہ پر کسی قسم کی کاروائی نہیں کی الٹا فیکٹریوں کے مالکان کو تحفظ دے کر عوام زخموں پر نمک چھڑکا گیا لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں عمران خان حکومت پر پورا یقین ہے کہ وہ ضلع میں فیکٹریاں لگا کر اربوں روپے کما کر ضلع کے عوام میں بیماریاں بانٹنے والے فیکٹریوں کے مالکان کے خلاف قانون کا شکنجہ ضرور تیار کریں گے اور عوام تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اس جرم میں ملوث محکمہ ماحولیات کے ذمہ دار افسران و ملازمین کو قانون کے مطابق سزائیں دیں گے 

ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں جنگلات انتہائی ضروری ہیں اورا ہم ہیں مگر ہٹ دھرمی کی وجہ سے دن بدن جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے ۔ اس میں ٹمبر مافیاء کا بہت بڑا کردار ہے۔پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ملک میں 90 کی دہائی میں 35 لاکھ 90 ہزار ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو دو ہزار کی دہائی میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزارایکڑ تک رہ گیا۔ مجموعی طورپر ملک میں پانچ اعشاریہ ایک فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے تاہم جنگلات پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او اور دیگر اہم غیر ملکی ادارے ان اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں درخت کاٹ کر جنگلات کا صفایا کیا جارہا ہے ساتھ ہی درالحکومت اسلام آباد کے گردونواح میں بے تحاشہ درخت کاٹے جارہے ہیں، جس کے متعلق کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ لیکن یہ معاملہ صرف ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے پاکستان میں اس سے زیادہ جنگل کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ جس پر اعلیٰ عدالت کو از خود نوٹس لینا چاہیے۔عوامی سماجی حلقوں نے پاکستان حکومت کی اس حوالہ سے بھی تعریف کی ہے کہ انہوں نے سابق دور حکومت میں خیبر پختونخواہ میں لاکھوں درخت اپنی نگرانی میں لگوائے تاکہ فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے اور ہر جاندار شے صاف شفاف فضاء میں سانس لے سکے ہمیں ماحول دوست توانائی کے ذرائع کے بارے میں خصوصی طور پر سوچناہو گا۔ سموگ کے شروع ہوتے ہی دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کاروائیعین موقع کی بجائے سارا سال جاری رکھنی ہو گی نومبر اور دسمبر میں بھٹہ خشت میں آگ جلانے پر پابندی لگا دینی چاہیے جس کے لئے ان کے مالکان کوپہلے سے ہی آگاہ کر دیا جائے۔ کوڑے کو جلانے کی بجائے اسے ری سائیکل کیا جائے۔ انڈسٹریز کو شہر ی آبادیوں سے دور بنایا جائے۔زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ اب بھی اتنے حالات بھیانک نہیں ہوئے بہتر حکمت عملی اور موثر اقدامات سے ہم ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کر کے اس کرہ اراض کو آنے والے انسانوں کے لئے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2