نیک خواہشات اور بلند عزائم سے لبا لب خطاب 

نیک خواہشات اور بلند عزائم سے لبا لب خطاب 

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب یا تو ملک بچے گا یا کرپٹ افراد، سب کا کڑا احتساب ہوگا پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے سادگی اپنائیں گے صنعت کو ترقی دیں گے، سول سروس، پولیس، سرکاری سکولوں، ہسپتالوں اور عدالتی نظام میں اصلاحات لائیں گے۔ پانچ سال میں ملک کے حالات اور تقدیر بدل دیں گے، وزیر اعظم نے قوم کے نام اپنے پہلے نشری خطاب میں جو ایک گھنٹے اور نو منٹ پر محیط تھا، یہ بھی کہا کہ وہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کو ایف آئی اے کے ذریعے خود پکڑیں گے وزارتِ داخلہ اسی لئے اپنے پاس رکھی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا پانچ سال میں پانچ لاکھ سستے گھر تعمیر کریں گے، نوجوانوں کو بلا سود قرضے دیں گے بیرونِ ملک سے قرض نہیں مانگوں گا کیونکہ قرض دینے والا آزادی چھین لیتا ہے۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کو برآمد ہونے والی رقم کا 25 فیصد دیں گے کرپٹ مافیا پر ہاتھ پڑا تو یہ شور مچائے گا۔ پرائم منسٹر ہاؤس کو ریسرچ یونیورسٹی بنا دیا جائیگا۔ گورنر ہاؤسوں میں کوئی گورنر نہیں رہے گا۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے کہا کہ وہ بینکوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیسہ بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے 524 ملازم، 80 گاڑیاں جن میں سے 33 بلٹ پروف ہیں دو گاڑیاں دو ملازم رکھوں گا باقی گاڑیاں نیلام کر دیں گے۔

69 منٹ طویل اس شاہکار خطاب میں انہوں نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے بہت بلند عزائم اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان دعووں اور باتوں کو بھی دہرایا جو ان کی پارٹی کے منشور کا حصہ ہیں جو دعوے وہ طویل عرصے سے کرتے چلے آ رہے ہیں بلکہ بار بار دہراتے رہے ہیں۔ اس نشری خطاب میں انہوں نے ان کا اعادہ بھی ضروری سمجھا تاہم ان کی عملی شکل کیا ہو گی اس کا اظہار انہوں نے نہیں کیا فوری طور جو کام حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ایوانِ وزیر اعظم کے 524 ملازمین میں سے 522 فارغ ہو جائیں اور 80 گاڑیوں میں 78 نیلام ہو جائیں۔ اس کام میں چند دن لگ سکتے ہیں اور امید ہے اس اعلان پر عمل کر کے قوم کو آگاہ کر دیا جائے کہ اتنے ملازم فارغ ہو گئے اور اتنی گاڑیاں نیلام ہو گئی ہیں یہ سادگی کی عمدہ ذاتی مثال ہو گی اور ہر کوئی اس کی تعریف و تحسین کرے گا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں تو نہیں بتایا لیکن یہ معلوم ہے کہ پرائم منسٹر ہاؤس میں ہزاروں افراد کے لئے روزانہ کھانا پکتا ہے توقع کرنی چاہئے کہ یہ بھی بند ہو جائے گا کیونکہ جب کھانے والے ہی نہ رہیں گے تو کھانا کس کے لئے پکے گا؟ ہم امید کرتے ہیں کہ جب پرائم منسٹر ہاؤس کے ملازمین فارغ ہوں تو ان کی ایک فہرست بھی جاری کی جائے تاکہ قوم اس نیک کام سے باخبر ہو سکے، نیلام کی جانے والی گاڑیوں سے جو رقم حاصل ہو گی اس کی تفصیلات کا اعلان بھی ہونا چاہے۔ وزیر اعظم نے قوم کو سادگی کی جو تلقین کی ہے جب وہ اس کی عملی مثال بن کر سامنے آئیں گے تو امید کرنی چاہئے قوم بھی سادگی کے راستے پر چل پڑے گی اور اگر ایسا ہو جائے تو قوم کے اکثر دلدّر دور ہو جائیں گے۔ویسے سنا ہے نوازشریف وزیراعظم ہاؤس کے کچن کا خرچ خود برداشت کرتے تھے کیا مضائقہ ہے وزیراعظم عمران خان بھی اس اچھی مثال کی تقلید کریں۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ’’ریسرچ یونیورسٹی‘‘ کے قیام کی خوشخبری تو وزیر اعظم نے سنا دی، گورنر ہاؤسوں کے متعلق بھی یہ اطلاع دے دی کہ آئندہ گورنر وہاں نہیں رہیں گے لیکن یہ نہیں بتایا کہ مجموعی طور پر ہزاروں ایکڑوں پر مشتمل ان گورنر ہاؤسوں کا کیا مصرف سوچا گیا ہے۔تاہم اس بابت ایک ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے جو ان تاریخی عمارتوں کا شایان ایسا استعمال تجویز کرے گی جس سے سادگی کا مقصد بھی پورا ہو جائے اور ان عمارتوں کا درست استعمال بھی ہو، ان گورنر ہاؤسوں میں بھی مجموعی طور پر سینکڑوں ملازمین تو ہوں گے اب ظاہر ہے کہ اگر ملک کا وزیر اعظم دو ملازمین رکھے گا تو پھر گورنر ہاؤسوں میں بھی ملازموں کی تعداد کم ہونی چاہئے۔ یہ تعداد بھی زیادہ سے زیادہ دو تک مقرر کر دی جائے تو اچھا ہے اسی طرح گورنر ہاؤسوں کی فالتو گاڑیاں بھی نیلام ہونی چاہئیں۔وزیر اعظم اور گورنر ہاؤسوں کا ذکر تو آیا لیکن جناب عمران خان نے ایوانِ صدر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا البتہ متوقع صدر ڈاکٹر عارف علوی نے خود ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ بطور صدر ایوانِ صدر میں نہیں پارلیمینٹ لاجز میں رہیں گے۔ عوام سے اپنا تعلق بھی برقرار رکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ اپنا کلینک بھی چلاتے رہیں۔

یہ عزائم تو بہت ہی اچھے ہیں لیکن ہمارے خیال میں ان کے لئے کلینک چلانا مشکل ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں بطور صدر ان کے لئے فرائض کی ادائیگی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم اگر وہ ایسا کریں گے تو شہید حکیم محمد سعید کے طریقے پر عمل پیرا ہوں گے جو گورنر سندھ بن کر بھی اپنا مطب اسی معمول کے مطابق چلاتے رہے جس طرح گورنر بننے سے پہلے چلاتے تھے ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مریض دیکھنا شروع کر دیتے تھے اور وقت معینہ تک دیکھتے رہتے تھے۔ عارف علوی بھی ڈاکٹر ہیں اگر وہ اپنے مریضوں کو فیض رسانی کا یہ وسیلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں تو یہ خوشی کی بات ہے چونکہ ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمینٹ لاجز میں رہنے کا عندیہ دیا ہے اس لئے ایوانِ صدر کا وہ حصہ تو خالی ہو جائے گا جس میں صدر کی رہائش ہوتی ہے اس عمارت کو کیا کرنا ہے اس کے متعلق بھی سوچ بچار کر لینی چاہئے، البتہ ایوان صدر میں بھی ملازمین کی ایک بڑی تعداد ہو گی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ موجودہ رہیں گے یا ایوانِ وزیر اعظم کے ملازموں کی طرح وہ بھی فارغ ہو جائیں گے ظاہر ہے جب ملک کا صدر اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے اپنے مریضوں کے لئے وقت نکالے گا تو ایوانِ صدر کے سارے ملازمین کی خدمات تو اس کے لئے ضروری نہیں ہوں گی۔ اس لئے ان کو بھی کسی بہتر خدمت پر متعین کر دیا جائے تو اچھا ہے۔ اسی طرح ایوانِ صدر کی گاڑیوں کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکال لینا چاہئے غیر ملکی مہمانوں کے لئے چند گاڑیاں رکھ کر باقی کو اسی طرح نیلام کیا جا سکتا ہے جس طرح وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کا نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن براہِ کرم یہ خیال رکھا جائے کہ ان گاڑیوں کا نیلام درست طریقے سے ہو، دیکھا یہی گیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کا نیلام ایسے ہوتا ہے جیسے ریوڑیاں بانٹی جا رہی ہوں لوگ اونے پونے گاڑیاں خرید لیتے ہیں، وزیر اعظم کا اعلان سن کر بہت سے ان لوگوں کے منہ میں پانی آ گیا ہوگا جو ان گاڑیوں کے متوقع خریدار ہو سکتے ہیں۔

کرپشن کا خاتمہ تو وزیر اعظم کا بنیادی ہدف ہے اور وہ سالہا سال سے یہ اعلان کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ کرپشن ختم کریں گے اب انہیں یہ موقع ملا ہے تو امید ہے وہ اس جانب عملی قدم اٹھائیں گے اور جہاں جہاں کرپشن دیکھیں گے اس کا خاتمہ کریں گے، سیاسی جماعتوں میں بھی کرپٹ افراد موجود ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان لوگوں نے سیاسی چھتری کی چھاؤں میں کرپشن کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔ اس لئے انہیں ممکن ہے اس کے خاتمے میں مزاحمت کا سامنا ہو لیکن یہ کام عمران خان نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اس لئے امید ہے یہ بھی ہو جائے گا انہیں ان حضرات پر بھی نظر رکھنا ہو گی جو کرپٹ ہونے کی شہرت یا بدنامی تو رکھتے تھے لیکن کچھ عرصہ پہلے چھلانگیں لگا کر ان کی پارٹی میں شامل ہو گئے، ان میں بعض بہت معروف بھی ہیں اور خود عمران خان انہیں جانتے، پہچانتے ہیں۔ توقع رکھنی چاہئے کہ جب وہ کرپشن کے خاتمے کے عملی سفر پر نکلیں گے تو ان کرپٹ افراد کو اپنے راستے کی دیوار نہیں بننے دیں گے اور ان سے صرفِ نظر نہیں کریں گے۔ عمران خان نے یہ بھی واضح کر دیا کہ انہوں نے اسی لئے وزیر داخلہ کا محکمہ اپنے پاس رکھا ہے، جن لوگوں کا خیال ہے کہ چند ماہ بعد وہ وزیر داخلہ بن سکتے ہیں وہ اس اعلان کو غور سے سن لیں اور اپنی موجودہ وزارتوں پر ہی اکتفا کریں تو اچھا ہے وزیر اعظم کا خطاب بلند عزائم اور نیک خواہشات سے لبالب بھرا ہوا ہے امید ہے یہ عزائم پورے ہوں گے اور نیک خواہشات حقیقت کا روپ دھاریں گی۔

چودھری نثار کہاں ہیں؟

پنجاب اسمبلی میں رونق تھی نئے منتخب ہونے والے شوق سے آئے۔ حلف لیا اور پھر انتخابی عمل میں بھی حصہ لیا۔ سپیکر ڈپٹی سپیکر اور پھر قائد ایوان کا انتخاب بھی ہو گیا۔ سب تھے لیکن ایک معروف شخصیت کی کمی بری طرح محسوس کی گئی کہ ان کی آمد ضروری محسوس کی جا رہی تھی۔ لیکن ایسا محسوس ہوا کہ ان کو حالیہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشستوں سے ہی شکست نہیں ہوئی وہ شکستہ دل بھی ہو گئے حالانکہ خود ان کے بقول وہ ایک سینیئر پارلیمینٹرین ہیں اور مسلسل انتخاب جیتنے کا ریکارڈ رکھتے اور صاف گو ہیں۔یہ سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے اہم مرکزی راہنما چودھری نثار علی خان ہیں جو قومی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے سرور خان سے ہار جانے کے باوجود صوبائی نشست سے کامیاب ہو گئے تھے، چودھری نثار نے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف کے بیانیئے اور حکمت عملی سے اختلاف کیا اور برملا کیا، ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ان کو جماعتی ٹکٹ کی بھی ضرورت نہیں کہ ان کا حلقہ کے عوام سے براہ راست رابطہ ہے اور انہوں نے پہلے بھی کبھی ٹکٹ نہیں مانگی۔چودھری نثار معروف شخصیت ہیں اور خود کو ایک دلیر، بہادر اور دانا سیاست دان بھی کہتے ہیں، اپنی تمام تر شہرت کے باوجود وہ اجتماعی حلف (پہلے روز) کے موقع پر بھی غیر حاضر تھے اور اس کے بعد بھی ایوان میں نہیں آئے۔ انہوں نے اب تک حلف نہیں لیا اب ان کے مستقبل کے ارادوں کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ شاید وہ پنجاب اسمبلی میں آنے میں خفت محسوس کرتے ہیں حالانکہ وہ سیاست دان ہیں تو پھر ان کو بہت بڑے دل اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور یوں میدان نہیں چھوڑنا چاہئے۔ بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ قومی اسمبلی کی جن دو نشستوں سے ہارے ان میں جو ایک خالی ہو گئی اس پر ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے اور قومی اسمبلی کے ایوان میں آنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ شاید صوبائی ایوان اب ان کے لئے فائدہ مند نہیں رہا کہ پہلی صورت میں تو وہ وزارت اعلیٰ کے خواہش مند تھے اور شاید پارٹی میں ایک اختلاف یہ بھی تھا۔ بہر حال اب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا محترم چودھری نثار اسمبلی میں آکر رکنیت کا حلف تو اٹھائیں رکن صوبائی اسمبلی کی نشست رکھتے ہوئے بھی وہ قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ان کو اس پر غور کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ