جنرل پرویز مشرف ٹیم کی واپسی

جنرل پرویز مشرف ٹیم کی واپسی
جنرل پرویز مشرف ٹیم کی واپسی

  

دس سال قبل 18 اگست 2008ء کوملک کے آخری فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو استعفا دے کر اپنی جان چھڑاناپڑی تھی، اس کے کچھ عرصہ بعد انہیں مقدمات اور گرفتاریوں سے بچنے کے لئے ملک سے بھاگنا پڑا تھا، اس کے بعد سے انہوں نے زیادہ تر وقت حالتِ فرار میں بیرونِ ملک ہی گذارا ہے۔ اپنے ساڑھے آٹھ سالہ دور اقتدار میں جنرل پرویز مشرف نے بہت سے انڈے دئیے تھے، جن سے نکلنے والے بچوں نے ان کے دور میں خوب مزے کئے اور ملک کی اہم پوزیشنوں پر نظر آتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف کے ملک سے بھاگ جانے کے بعد بھی وہ انڈے بچے یہیں موجودرہے اور گاہے بگاہے کہیں نہ کہیں نظر آتے رہے، کبھی حکومت کے اندر اور کبھی حکومت کے باہر، لیکن جنرل پرویز مشرف کے ملک میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان میں زیادہ تر حالتِ یتیمی میں ہی رہے۔ پھر اچانک قسمت نے پلٹا کھایا اور نیا پاکستان بن گیا۔ جولائی کی 25 تاریخ کو ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ملک کے وزیر اعظم بن گئے ۔ عمران خان نے اگست کی 18 تاریخ کی صبح کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور اسی شام بیس رکنی وفاقی کابینہ کا اعلان کردیا گیا۔جو پیر کی صبح حلف اٹھا چکی ہے۔

عمران خان کی ٹیم کے 16وزیروں میں سے 9 وزیر ایسے ہیں جو جنرل پرویز مشرف کا حصہ تھے، اسی طرح پانچ وفاقی مشیروں میں سے تین مشیر ٹیم جنرل پرویز مشرف کی ٹیم سے لئے گئے۔ گویا جنرل پرویز مشرف کے استعفا دینے کے ٹھیک دسویں سالگرہ کے موقع پر ان کی ٹیم کا بڑا حصہ وفاقی حکومت میں واپس آگیا ہے۔ عمران خان کی ٹیم میں سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے اور وفاقی کابینہ میں ان کی حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، بابر اعوان اور قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پوری آب و تاب سے موجود ہیں۔

وفاقی کابینہ کے ان وزیروں سے پہلے ان تین مشیروں کا تذکرہ ہو جائے جو جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے۔ مشیر پہلے اس لئے کہ یہ کون سا الیکشن لڑ کر آئے ہیں، انہیں تو عمران خان نے براہ راست اپنی کابینہ میں منتخب کیا ہے۔ سب سے پہلا نام جنرل پرویز مشرف کے وفاقی وزیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کا ہے، جوداؤد گروپ کے بانی سیٹھ احمد داؤد کے بھتیجے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے جب ملک میں مارشل لاء لگایا توبطور چیف ایگزیکٹو 1999ء میں جو وفاقی کابینہ بنائی عبدالرزاق داؤد اس میں 2002ء کا الیکشن ہونے تک وفاقی وزیر رہے۔ جنرل پرویز مشرف نے چونکہ آئین پاکستان معطل کیا ہوا تھا، اس لئے وہ جس کو مرضی وزیر بناتے، کوئی سوال جواب نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ پاکستان کی ایک بڑی انڈسٹریل امپائر کے چیف ایگزیکٹو کو وفاقی وزیر برائے تجارت بنانے سے conflict of interest پیدا ہوتا ہے۔

اب عمران خان کی کابینہ میں شمولیت سے ایک دن پہلے عبدالرزاق داؤد نے اپنی ڈیسکون انجینئرنگ سے استعفیٰ دے تو دیا ہے، لیکن conflict of interest کا سوال بہر حال اسی طرح موجود رہے گا ، خاص طور پر اس لئے بھی کہ ملک میں آئین اس وقت موجود ہے اور معطل حالت میں نہیں ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی عبدالرزاق داؤد نے کسٹم ڈیوٹیوں میں ردوبدل کروا کر پاکستان سٹیل ملز کو اربوں کا نقصان اور اپنے پرائیویٹ اداروں کو فائدہ پہنچایا تھا۔ عمران خان کی کابینہ کے دوسرے مشیر اٹک سے تعلق رکھنے والے ملک امین اسلم ہیں،جوجنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے ماحولیات تھے، انہیں عمران خان نے بھی وفاقی مشیر برائے ماحولیات ہی لگایا ہے۔ عمران خان کی کابینہ کے تیسرے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین ہیں، جب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو انہوں نے ڈاکٹر عشرت حسین کو گورنر سٹیٹ بینک لگایا تھا اور وہ 1999ء سے 2006ء تک سات سال اس عہدے پر رہے اور جنرل پرویز مشرف کی تمام معاشی پالیسیوں کو تحفظ دیتے رہے۔ 

اب آتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں ان وفاقی وزیروں کی طرف جو کسی نہ کسی حیثیت میں جنرل پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ تھے۔ سب سے پہلے تو اس شخص کا نام لینا چاہئے جو جنرل پرویز مشرف کی لگائی ہوئی ایمرجنسی کا دفاع اعلیٰ عدالتوں میں کرتا رہا۔ جی ہاں، بیرسٹر فروغ نسیم عمران خان کی کابینہ کے وفاقی وزیروں میں وہ شخص ہیں، جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کی لگائی گئی ایمرجنسی کا بطور وکیل عدالت عظمیٰ میں دفاع کیا تھا۔عمران خان کی کابینہ کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمدکسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے دور کی تمام کابیناؤں کے اہم رکن ہوا کرتے تھے۔ جتنا دفاع جنرل پرویز مشرف کا شیخ رشید احمد نے کیا، شائد ہی ان کے کسی اور وفاقی وزیر نے کیا ہو۔جنرل پرویز مشرف کے وزیروں کے محکموں کا عمران خان نے کچھ ردو بدل کیا ہے، لیکن شیخ رشید کے معاملے میں تو اس تکلف سے بھی کام نہیں لیا گیا اور جنرل پرویز مشرف کے وزیر ریلوے آج عمران خان کے وزیر ریلوے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کی پسندیدہ وزیر ان کی وزیر تعلیم زبیدہ جلال ہوا کرتی تھیں۔ یہ امریکہ بہادر کی بھی پسندیدہ وزیر تھیں،کیونکہ انہوں نے امریکیوں کے کہنے پر نصابی کتب سے اسلامی اور قومی شعائر پر مبنی مضامین نکال کر امریکیوں کا روشن خیال نصاب بنانے کا فریضہ سر انجام دیا تھا۔عمران خان کی کابینہ میں وہ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار ہوں گی۔جنرل پرویز مشرف کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ خسرو بختیار بھی عمران خان کی کابینہ میں موجود ہیں اپنے باقی ساتھیوں کی طرح یہ بھی پرویز مشرف کے انتہائی قریب تھے اور ان کی قربت کی وجہ جنوبی پنجاب کے نام پر وڈیروں کو اکٹھا کرکے اسمبلیوں میں پہنچانا ہے۔جب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء لگا کر وفاقی اور صوبائی حکومتیں تشکیل دیں تو شفقت محمودکو انفارمیشن کا صوبائی وزیر بنایا گیا، گویا صوبہ پنجاب میں وہ جنرل پرویز مشرف کی نہ صرف آنکھیں اور کان تھے، بلکہ زبان بھی وہی تھے۔ اس سے قبل وہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ہوا کرتے تھے، لیکن جب بے نظیر بھٹو کے اپنے صدر فاروق لغاری نے اپنی قائد کی حکومت ختم کی تو وہ ملک معراج خالد والی نگران کابینہ میں وفاقی وزیر بن گئے۔

ٹیکسلا واہ کینٹ کے حلقے سے ہر پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے والے غلام سرور خان بھی جنرل پرویز مشرف کے دور میں سرکاری پارٹی کی طرف سے پارلیمانی سیکرٹری ہوا کرتے تھے اوران دنوں ہرفورم پر جنرل پرویز مشرف کا دفاع کرتے تھے ۔چودھری نثار علی خان ہمیشہ ان کے انتخابی حریف رہے، جن کی پسندیدہ وزارت پٹرولیم ہواکرتی تھی۔جنرل پرویز مشرف کے اس سپاہی کو اب عمران خان نے پٹرولیم کی وزارت دے کر ان کی پرانی حسرت پوری کر دی ہے۔خالد مقبول صدیقی بھی 1990ء کی دہائی کے اوائل سے ہی متحدہ قومی موومنٹ کے پلیٹ فارم پر پارلیمانی سیاست میں ہیں اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں الطاف حسین خود کہا کرتے تھے کہ ان کی طرف سے جنرل پرویز مشرف سے معاملات خالد مقبول صدیقی دیکھتے ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے ضلع اور تحصیل ناظمین کا نظام شروع کیا تو ملتان کے ضلع ناظم شاہ محمود قریشی منتخب ہوئے۔ بعد میں آصف علی زرداری کے دور حکومت میں ان کے وزیر خارجہ رہے اور اب عمران خان حکومت کے وزیر خارجہ ہیں۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف دورمیں بہاولپور کے ضلع ناظم طارق بشیر چیمہ بھی اب عمران خان کے وفاقی وزیر ہیں۔طارق بشیر چیمہ ہر فورم پر جس طرح جنرل پرویز مشرف کا دفاع کرتے تھے وہ بھی کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔وفاقی کابینہ تو جنرل پرویز مشرف برانڈڈ ہے ہی، صوبوں میں بھی جنرل پرویز مشرف چھا گئے ہیں۔

نئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزداربھی جنرل پرویز مشرف دور میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے دو بار تحصیل ناظم بنے، اسی طرح خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ جنرل پرویز مشرف دور میں اپنی تحصیل مٹہ، ضلع سوات میں یونین کونسل ناظم ہوا کرتے تھے، جبکہ خیبر پختون خوا اسمبلی کے نئے سپیکر مشتاق غنی ایبٹ آباد سے جنرل پرویز مشرف کی قاف لیگ کے ممبر صوبائی اسمبلی تھے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان بارہویں جام آف لسبیلہ جام محمد یوسف کے حوالے کیا گیا تھا اور اس دور میں بلوچوں پر ہونے والے مظالم کے وہ براہ راست ذمہ دار تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے جام کمال تیرہویں بار جام آف لسبیلہ بن گئے اور اب عمران خان نے بلوچستان ویسے ہی جام کمال کے حوالے کر دیا ہے جیسے جنرل پرویز مشرف نے ان کے والد کے حوالے کیا تھا۔ درمیان میں مسلم لیگ (ن) میں پٹرولیم کی وزارت مملکت کے مزے لوٹتے رہے۔جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نئے پاکستان میں واپس آ گئی ہے۔ کیوں؟ بات صرف اتنی سی ہے کہ جب وزیر اعظم میاں نواز شریف نے آئین توڑ کر مارشل لاء لگانے کے جرم میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا تو حکومت اور قوم کی توجہ ہٹانے اور انہیں ملک سے بھگانے کے لئے دھرنے دلوائے گئے اور اب ان کرداروں کو انعامات سے نوازا جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ کھیل اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ملک میں سویلین بالادستی قائم نہیں ہو جاتی۔

مزید : رائے /کالم