پاکستان میں کھیلوں کا زوال اور کرکٹر وزیراعظم سے توقعات 

پاکستان میں کھیلوں کا زوال اور کرکٹر وزیراعظم سے توقعات 
پاکستان میں کھیلوں کا زوال اور کرکٹر وزیراعظم سے توقعات 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب کو چاہیے کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات کو درست کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے کر جلد از جلد انقلابی اقدامات عمل میں لائیں۔ ویسے تو مجموعی طور پر تمام کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے کام کیا جانا چاہیے، کیونکہ پاکستان تمام کھیلوں میں بہت پیچھے جا چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہاکی میں ہمارا کوئی ثانی نہیں تھا۔ پھر سکوائش کے کھیل پر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک ہماری بادشاہی قائم رہی تھی 

جہاں تک کرکٹ کی بات ہے اس میں صرف انتظامات درست کرنے سے ہی ہماری کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بن سکتی ہے۔ پاکستان کو کسی بھی شعبے میں کبھی ٹیلنٹ کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مسائل ہیں تو بس مینجمنٹ میں ہیں۔ اب چونکہ ہمارے وزیراعظم نے خود بھی کرکٹ کھیلی ہے اور اپنی کپتانی میں پاکستان کرکٹ کو بام عروج تک پہنچایا تھاان سے بہتر انتظامی امور کون جان سکتا ہے۔ اس لئے ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی ترجیحات میں کرکٹ کو بھی شامل کریں۔ چونکہ میرا ذاتی طور پر اس کھیل سے بہت لگاو بھی ہے اور میں نے ناروے میں 15 سال ایک کامیاب کرکٹ کلب کی سربراہی کی ہے ناروے میں میرا واحد کلب ہے جس نے ڈسپلن کا انعام جیت رکھا ہے۔ مجھے پی سی بی کے مرکزی دفتر قذافی اسٹیڈیم میں جانے اور اندر کے حالات دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور پاکستان ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق سمیت پاکستان کے مایہ ناز ٹیسٹ کرکٹر سے تفصیلی گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔ 

اس لئے میں چند ایسی چیزیں وزیراعظم کے علم میں لانا چاہتا ہوں، جن کے درست ہونے سے پاکستان کو نیا ٹیلنٹ مل سکتا ہے اور کرکٹ بورڈ سے بدعنوانی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ 

پچھلی ایک دہائی سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ ٹیسٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے لوگوں کو یا تو پی سی بی کے معاملات سے دور رکھا گیا یا پھر سائیڈ لائن۔ بورڈ مینجمنٹ پر میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کا غلبہ ہے۔ جاوید میانداد جو نامور بیٹسمین رہے ہیں اور کرکٹ کی باریکیوں کو جانتے ہیں ان کو پہلے تو بورڈ کے قریب نہیں آنے دیا گیا اور بعد میں ڈائریکٹر کا عہدہ دے کر صرف تنخواہ تک محدود رکھا گیا ہے۔ اب پچھلے 5 سال کے دوران نجم سیٹھی نہایت ہوشیاری سے پی سی بی پر اپنا قبضہ جمانے میں مصروف ہیں۔پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دینے والے بہترین لوگوں کو کھڈے لائن لگا کر اپنے قریبی لوگوں کو تعینات کر لیا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے ذاکر خان کی کارکردگی سے کون انکار کر سکتا ہے؟ وہ خود ایک بہت اچھے کرکٹر رہنے کے علاوہ انتظامی امور کے ماہر ڈائریکٹر ہیں انہوں نے ملکی سطح پر ہر قسم کی بدعنوانی ، اقرباپروری اور سفارش کا خاتمہ کر کے ڈومیسٹک کرکٹ میں میرٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ اور ریجن کرکٹ میں بہترین لوگوں کو تعینات کیا، جن میں ایک مثال ملتان ریجن کی ہے جہاں عظمت پرویز جو خود کرکٹر ہیں اور ناروے میں کرکٹ کلب چلانے کے ساتھ نارویجین کرکٹ بورڈ میں بھی کام کا تجربہ رکھتے ہیں کو ملتان ریجن کا سربراہ مقرر کیا۔ انہوں نے 2011 سے 13 تک صرف دو سال میں ملتان ریجن سے پاکستان کو 4 بہترین کھلاڑیوں کا تحفہ دیا، جن میں فاسٹ باؤلر محمد عرفان، راحت علی، بلے باز صہیب مقصود اور سپنر آل راونڈر ذوالفقار بابر شامل ہے۔

آج ذاکر خان کہیں نظر نہیں آرہے اور ان کا رول محدود کر دیا گیا کہ ذاکر خان کی جگہ شکیل شیخ جن کا تعلق میڈیا سے ہے ۔پاکستان کرکٹ کمیٹی کا عہدہ سونپ دیا اور انہوں نے آگے اپنی مرضی کے لوگوں کو ریجنل میں لگا کر آئندہ پی سی بی کے چیئرمین کی کرسی کو مضبوط کر لیا ہے۔ شیخ شکیل پہلے اسلام آباد ریجن کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی ڈائمنڈ کرکٹ گراونڈ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ 

اسی طرح عظمت پرویز جیسے میرٹ پر کام 

کرنے والے ریجن سربراہان کو فارغ کر کے وہاں اپنی مرضی کے لوگوں کو صرف اس لئے تعینات کیا گیا ہے کہ ان کے ووٹ سے اپنی چیئرمینی قائم رہے۔ لیکن ہم عمران خان سے بجا طور پر یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق ہر شعبے سے سفارشی کلچر کا اور بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔ اور بالخصوص پی سی بی کے اندر ذاتی دلچسپی لے کر پاکستان کرکٹ کو دوبارہ عروج پر لے جائیں گے۔ 

مزید : رائے /کالم