آنے والی نسل کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیں، سیاسی اور معاشی حالات کو دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ، خطبہ حج

آنے والی نسل کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیں، سیاسی اور معاشی حالات کو دین کے ...

 جدہ ( محمد اکرم اسد) مسجد نبویؐ کے امام شیخ حسین بن عبدالعزیز ال الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج سیاسی اور معاشی حالات کو دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، اللہ غرور اورتکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، مسلمان کے مال، خون اور عزت کی حفاظت کرنی چاہیے، اخلاق حقوق کی حفاظت کرتا ہے، تم میں سے وہ اچھے ہیں جن کا اخلاق اچھا ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ تمہاری نیکیوں کو ضائع نہیں کیا جائے گا، جوا اور سٹے بازی کو حرام قرار دیا گیا۔پیر کو مسجد نبویؐ کے امام شیخ حسین بن عبدالعزیز ال الشیخ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم فلاح پاؤ، تقویٰ اللہ اور رسولؐ کے احکامات پر عمل سے مشروط ہے، اللہ نے تنبیہ کی کہ شرک کرنے والوں کا خاتمہ برا ہے،تمام انبیاء نے اللہ کی وحدانیت کی تعلیم دی، اللہ کی وحدانیت پر یقین اور عبادت تقویٰ کا اہم ستون ہے، رسول اللہؐ نے توحید پر زور اور اللہ کے برابر کسی کو لا کھڑا کرنے کی مذمت کی، محمد مصطفیؐ پر کامل ایمان اور احکامات کو برحق ماننا ایمان کا اہم جزوہے، فجر میں قرآن کی تلاوت روز آخرت میں گواہی دے گی، آج سیاسی اور معاشی حالات کو دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، اخلاق حقوق کی حفاظت کرتا ہے، رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک دوسرے کے دشمن نہ بننا، آپؐ نے فرمایا تم میں سے وہ اچھے ہیں جن کا اخلاق اچھا ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ تمہاری نیکیوں کو ضائع نہیں کیا جائے گا، دین مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے، امت مسلمہ کتاب و سنت پر عمل کرتے ہوئے خواہشات اور بدعت سے دور ہوتی ہے، اللہ غرور اورتکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، مسلمان کے مال، خون اور عزت کی حفاظت کرنی چاہیے، ماں باپ کے ساتھ احسن سلوک کرو، مسلمان کو چاہیے زیادتی نہ کرے، اللہ زیادتی کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوگوں سے اچھی بات کرو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو وعدے پورے کرو، اللہ تعالیٰ نے والدین اور پڑوسیوں سے اچھے سلوک کا حکم دیا، نماز کلمے کے بعد اسلام کا اہم ترین رکن ہے، اللہ تعالی نے ہمیشہ عہدہ پیماں پورے کرنے کا حکم دیا، والدین سے اچھا سلوک کرنا، ان سے اونچی آواز سے مت بولنا، ہمیں خواتین کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے دھوکہ دہی سے منع کیا ہے، اللہ نے آسمان کو تمہارے لئے چھت اور زمین کو فرش بنایا، اپنی امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ نے خیر کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں قربان کرو تا کہ اس کا قرب پا سکو، اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور وہ کو بخشنے والا اور مہربان ہے، اللہ تعالیٰ نے چوری، تکبر، چغلی خوری سے منع کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کا مذاق اڑانے سے منع کیا ہے، تکبر، غیبت اور بے جا تجسس سے بچو،مالی معاملات میں اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھو،اسلام وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے، اے مسلمانو!اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو، مسلمانوں کو اپنے اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرنا ہو گا، معاشرے کے امن کیلئے ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے، اسلام ظلم اور زیادتی کو شدت کے ساتھ ناپسند کرتا ہے، قرآن پاک سیدھے راستے کی طرف لے کر جاتا ہے، مسلمانوں کو حکمرانوں کی فرمانبرداری، اطاعت کا حکم دیا گیا، جوا اور سٹے بازی کو حرام قرار دیا گیا، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، اسلام نے میاں بیوی کے رشتہ میں میانہ روی اور محبت پر زور دیا، یوم عرفہ گناہوں کی مغفرت اور دعاؤں کی قبولیت کا دن ہے، اخلاق فاضلہ کا درس دیں آنے والی نسل کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیں، ہماری کامیابی قرآن و سنت پر عمل کرنے میں ہے، آج کے دن تمام مسلمانوں کیلئے خوب دعا کریں۔ڈھائی ملین کے قریب دنیا بھر سے آئے فرزندان توحید نے عرفات کی مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نماز جمع تقدیم ادا کی اور حج کا خطبہ سنا۔ عازمین صبح سے مسجد نمرہ پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ مسجد کا اندرونی اور بیرونی حصہ نمازیوں سے بھرگیا۔ ظہر کا وقت ہوتے ہی ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پہلے ظہر کی نماز دو رکعت ادا کی گئی۔ بعد ازاں دوسری اقامت ہوئی جس کے بعد عصر کی نماز دو رکعتیں ادا ہوئیں۔ عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک عازمین میدان عرفات میں وقوف کے دوران دعاؤں میں مصروف رہے اس دوران رقت آمیز مناظر نظر آئے حجاج کرام اپنے رب کے حضور گِر گڑا کر اپنے اور اپنے پیاروں کے گناہوں کی معافی ، حاجات کی قبولیت ، اپنے اہل خانہ آل اولاد ، دوستوں رشتہ داروں اور اپنے وطن کی ترقی و خوشحالی اور امن و سکون کے لئیے دعائیں کرتے رہے۔ کوئی آنکھ ایسی نہیں تھی جس میں آنسوؤں کی جھڑی نہ لگی ہو۔ حجاج اللہ سبحان و تعالی کا شکر بھی ادا کرتے رہے کہ انہیں اتنی بڑی سعادت بخش رہا ہے ، اور وہ اس عاجزانہ حاضری کو قبول فرما لے۔

خطبہ جمع

مزید : صفحہ اول