مودی کا عمران کے نام خط، پاکستان کو بامقصد مذاکرات کی دعوت دیدی ، شاہ محمود

مودی کا عمران کے نام خط، پاکستان کو بامقصد مذاکرات کی دعوت دیدی ، شاہ محمود

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی ہم منصب عمران خان کو بھجوائے گئے مبارکباد کے خط میں مذاکرات کا عندیہ دیا ہے جو ہمسایہ ملک کی جانب سے بہت مثبت رویہ ہے، پاکستان اور بھارت ہمسائے اور ایٹمی قوت ہیں، خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے اور بھارت کے ساتھ تسلسل سے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے،پاکستان کا مفاد سب سے مقدم ہے، ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوں گے، ہم چاہیں یا نہ چاہیں کشمیر ایک مسئلہ ہے جسے دونوں ممالک نے تسلیم کیا اور اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ایوان صدر میں عہدے کا حلف لینے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دفتر خارجہ پہنچے جہاں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ملک کو تنہائی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی آئی ہیں جس کی وجہ وزیر خارجہ کی عدم موجودگی تھی اور وزیر خارجہ نہ ہونے سے ملک کو نقصان پہنچا۔شاہ محمود قریشینے کہا کہ خارجہ پالیسی پاکستان سے شروع اور پاکستان پر ہی ختم ہوگی اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہوگی، ملک کو عالمی تنہائی سے نکالنے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پْرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ ہو اور اس کیلئے پہلے ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مستقبل میں کچھ ملکوں سے رابطے کیے جائیں گے اور6 ممالک سے پاکستان کے خارجہ امور بہت اہمیت رکھتے ہیں، افغانستان کے وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے دورہ کابل کی خواہش رکھتا ہوں اور ٹھوس پیغام لے کر جانا چاہتا ہوں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، اپنی سوچ اور ارادے افغان قیادت کو پہنچاؤں گا۔شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف کو مشاورت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی منتخب حکومت کو عوام کے امنگوں کے مطابق چلنا ہے، حنا ربانی کھر اور خواجہ آصف سے بھی مشاورت کروں گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے بہت سے سفارتکار مختلف فیلڈز میں مہارت رکھتے ہیں، ان سے ہی مشاورت کی جائے گی اور انہیں بھی بروئے کار لانا ہے۔وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ گزشتہ حکومت کے سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے سفیر کام جاری رکھیں تاہم ان کی کارکردگی کا جائزہ لوں گا، بیرون ملک مشنز میں غیر ضروری اکھاڑ پچھاڑ نہیں ہوگی، تقرریاں کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہئیں، بلاوجہ اکھاڑ پچھاڑ کا قائل نہیں ہوں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کابینہ اجلاس کے بعد سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات اور ان سے رہنمائی حاصل کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی دفتر خارجہ میں مرتب کی جائے گی جبکہ سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے اور وہ اہم ہونے کے ساتھ ایک گیم چینجر ہے۔دوسری جانببھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کومذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی بلکہصرف اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے پاکستانی ہم منصب کو لکھے گئے خط میں صرف اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا نے نریندر مودی کی جانب سے چند روز کے دوران عمران خان کو ٹیلی فون اور حکومتی خط کو اہم بات قرار دیا ہے۔

شاہ محمود/بھارتی میڈیا

مزید : صفحہ اول