نیب میں کالی بھیڑیں موجود کسی کی پگڑی اُچھالنے کا حق نہیں ، چیئرمین جاوید اقبال طلب

نیب میں کالی بھیڑیں موجود کسی کی پگڑی اُچھالنے کا حق نہیں ، چیئرمین جاوید ...

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل3رکنی بنچ نے نیب کی انکوائریوں میں پیش ہونے والے افراد کی میڈیا پر آنے والی خبروں کیخلاف ازخود نوٹس کیس میں چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کو طلب کرلیا ہے ۔فاضل بنچ نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سید اصغر حیدر کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیر 27اگست کو چیئرمین نیب کے ہمراہ چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوں ۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ نیب کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔کسی کی طلبی کے معاملے کو تو خفیہ ہونا چاہیے،جتنی معلومات میرے پاس ہیں شاید کسی اورادارے کے پاس بھی نہیں ہیں،آپ کے بندے کو نوکری نہیں ملی تو پرائیوٹ بندے کو بلا کر بے عزت کر رہے ہیں۔کسی کے خلاف نیب کی کارروائی کی خبریں چلنے کے بعد اگر وہ انکوائری میں بے گناہ ہو جاتا ہے تو اس کی معاشرے میں کیا عزت رہ جائے گی؟کیا نیب یہ چاہتا ہے کہ بیرون ملک سے آنیوالے سرمایہ کار خوف سے بھاگ جائیں،ہر آدمی کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں، اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نیب میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں، ٹونس بعد میں ملتا ہے ٹی وی چینلز پر ٹکرز پہلے چلنا شروع ہو جاتے ہیں،چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ میڈیا کومعلومات فراہم کرنیوالے تفتیشی افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے ،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی تفتیشی کے بارے میں پتا چلے کہ اس نے معلومات کا تبادلہ کیا ہے تواس کے خلاف کارروائی کی جائے، پہلے نیب کی عدلیہ میں کوئی عزت نہیں تھی، اب نیب کی عدالتوں میں بھی عزت ہوتی ہے، چیف جسٹس نے باور کرایا کہ ان کے پاس جتنی معلومات ہیں شاید کسی اور ادارے کے پاس بھی نہیں، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت میں جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کیسے کسی کو مجرم کہہ سکتا ہے،پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ نیب میں بھی خود احتسابی کا عمل جاری ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی تفتیشی کے بارے میں پتا چلے کہ اس نے معلومات کا تبادلہ کیا ہے تواس کے خلاف کارروائی کی جائے، آپ کے بندے کو نوکری نہیں ملی تو پرائیوٹ بندے کو بلا کر بے عزت کر رہے ہیں۔فاضل بنچ نے چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی طلبی کا حکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت27اگست پر ملتوی کردی۔چیف جسٹس ثاقب نثار ،جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3رکنی بنچ نے پنجاب کی 56سرکاری کمپنیوں سے اضافی تنخواہیں وصول کرنیوالے افسروں کو 3 ماہ میں رقم واپس کرنے کا حکم دیدیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ان لوگوں کو اضافی تنخواہوں کی واپسی کیلئے زیادہ وقت دیا گیا تو میرے جانے کے بعد کسی نے ایک ٹکا بھی واپس نہیں کرنا۔ سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں اس ازخود نوٹس کیس میں نیب کی جانب سے ان کمپنیوں میں3 لاکھ سے زائد تنخواہیں وصول کرنیوالے افسروں کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ 58 افسران نے مجموعی طور پر 52 کروڑ 74 ہزار روپے وصول کئے، 34 افسروں نے رضاکارانہ طور پر اقساط میں رقم واپس کرنا چاہتے ہیں،احد خان چیمہ نے 5 کروڑ 14 لاکھ سے زائد جبکہ مجاہد شیر دل نے 2 کروڑ 41 لاکھ روپے اضافی تنخواہیں وصول کیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اضافی تنخواہوں کی واپسی کیلئے زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا، میرے جانے کے بعد کسی نے ایک ٹکا بھی واپس نہیں کرنا، تنخواہوں کی واپسی کی حد تک معاملہ نمٹایا جا سکتا ہے،اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ سامنے آیا تو نیب دیکھے گا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے قراردیا ہے کہ نجی لاء کالجز قانون کی تعلیم کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں،فیسوں کے نام پر لوگوں کے کپڑے اتروالئے گئے ۔قانون کی تعلیم کو کاروبار بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے یہ ریمارکس غیر معیاری نجی لاء کالجز کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کمشن کی طرف سے سینئر وکلاء حامد خاں ،ظفر اقبال کلانوری اور انور کمال نے سفارشات پیش کیں جن پر لاء کالجز کی طرف سے اعتراضات پیش کئے گئے ،چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء کی بجائے ٹاؤٹ پیدا نہیں ہونے چاہئیں ، طلبا کی تعلیم کا ہرج نہیں ہونے دیں گے ۔چیف جسٹس نے مزید قراردیا کہ یونیورسٹیاں اپنے دائرہ اختیار سے باہر کسی کالج سے الحاق نہیں کرسکتیں،چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی ڈگری پیشہ وارانہ تعلیم سے متعلق ہے اور اس کی تعلیمی معیاد 5سال ہی ہونی چاہیے،جو یونیورسٹیاں قانون کی بنیادی تعلیم نہیں دیتیں وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلہ کیسے دے سکتی ہیں ۔کمشن کی طرف سے تجویز پیش کی گئی کہ ان کالجز کے فیکلٹی ممبرز کے لئے ایم فل اور پی ایچ ڈی ہونا ضروری قرار دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک مشکل شرط ہے ،اس پر تو میں بھی پورا نہیں اترتا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں اور ریٹائرڈ سیشن ججوں کو مستقل فیکلٹی ممبر ہونا چاہیے ۔ان کالجوں میں شام کی کلاسوں پر پابندی کی بات کی گئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں بھی لاہور اور کراچی میں لاء کالجز شام کی کلاسیں جاری کرتے رہے ہیں ،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ دنیا بھر میں متوسط طبقہ کے لوگ کام بھی کرتے ہیں او رپڑھتے بھی ہیں ،لوگوں کو پڑھنے سے کیسے روک سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ شام کی کلاسوں کے لئے عمر کی حد مقرر ہونی چاہیے ،جو زیادہ سے زیادہ40سال ہونی چاہیے ۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جس کا قانون کی تعلیم کی طرف رجحان نہیں ہے اسے چاہیے کہ وہ کوئی کاروبار کرلے یا کوئی او رکام کرلے،ان کالجوں کا معیار برقراررکھیں گے تو ہی سنجیدہ طلباآگے آئیں گے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ بغیر استاد کے کوئی وکیل نہیں بن سکتا، افسوس کہ ہم نے سیکھنے سکھانے کا عمل ختم کردیا ہے ۔کمشن کی طرف سے غیر معیاری تعلیم فراہم کرنے والے لاء کالجوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر عدالت نے متعلقہ کالجوں کی انتظامیہ کو آئندہ تاریخ سماعت پر طلب کرلیا۔دوسری طرف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے اضافی فیسوں کی وصولی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں نیب کی نگرانی میں قائم خصوصی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے اپنی رپورٹ پیش کردی جس میں نجی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے ،متعلقہ کمیٹی کی طرف سے نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کی نئی پالیسی مرتب کرکے بھی منظوری کیلئے سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ہے جس میں نجی میڈیکل کالجز کو براہ راست داخلے دینے سے روکنے کی سفارش کی گئی ہے ۔جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ 64صفحات پر مشتمل ہے جس کے ساتھ 752معاون دستاویزات لف ہیں جبکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرف سے کی جانے والی معائنہ جات رپورٹس بھی جے آئی ٹی رپورٹ سے منسلک کی گئی ہیں ۔خصوصی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے دور میں قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن کی گئی۔ ڈاکٹر عاصم حسین گیارہ کے قریب میڈیکل نجی کالجز کو براہ راست رجسٹرڈ کرنے کے معاملہ میں ملوث رہے۔ڈاکٹر عاصم حسین پی ایم ڈی سی کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ ضیاء الدین میڈیکل یونیورسٹی اور دو میڈیکل کالجز کے مالک بھی تھے،اسی عرصے میں ڈاکٹر عاصم حسین نجی میڈیکل کالجز اور انسٹی ٹیوشنز کی نمائندہ جماعت کے صدر بھی تھے۔ڈاکٹر عاصم حسین کے تمام عہدے مفادات کے بڑے ٹکراؤ کو واضح کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر نجی میڈیکل کالجز کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔زیادہ ترعمارتوں میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔زیادہ تر نجی میڈیکل کالجز سرمائے کی کمی کا شکار ہیں۔نجی میڈیکل کالجز میں اساتذہ اور سٹاف نہ ہونے کے برابر ہے۔زیر تعلیم طلباء کی کلینیکل تربیت کیلئے زیادہ تر نجی میڈیکل کالجز کے پاس ٹیچنگ ہسپتال موجود نہیں۔نجی میڈیکل کالجز میں مختص کوٹے سے زائد طالبعلموں کو داخلے دئیے گئے۔بہت سارے کالجز نے پی ایم ڈی سی قواعد کو نظر انداز کر کے داخلے دئیے،جے آئی ٹی نے غیر معیاری میڈیکل کالجز میں طلباء کے مزید داخلے روکنے اورغیر معیاری میڈیکل کالجز کو بند کرنے کی سفارش کی ہے ،جے آئی ٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ نجی میڈیکل کالجزپر پی ایم ڈی سی قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جائے اورسیاسی مداخلت بند کی جائے،انسپکٹرز کی بھرتیوں میں میرٹ کو نظرانداز کیا گیا۔انسپکشن کاعمل شفاف بنایا جائے اور جدید طریقے اورماڈرن ٹیکنالوجی اختیار کی جائے، میڈیکل کی تعلیم اوربہتر تربیت کے لئے تمام نجی میڈیکل کالجز کی ازسرے نو انسپکشن کرائی جائے، جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ نجی میڈیکل کالجز میں غریب طلباء کے پانچ فیصدداخلے کاکوٹہ بحال کرایا جائے،علاوہ ازیں نجی میڈیکل کالجز کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں غریب مریضوں کے مختص 50فیصد بیڈز بحال کئے جائیں اوراس بابت سخت قوانین کو وضع کرکے مانیٹرنگ کے نظام کوبہتر بنایا جائے، جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ ناقص انسپکشن میں ملوث انسپکٹرز کا معاملہ نیب کو بھجوایا جائے، رپورٹ کے مطابق نجی میڈیکل کالجز کی لیبارٹریز غیر معیاری پائی گئیں، پی ایم ڈی سی کے انسپکٹرز نجی میڈیکل کالجز کی جھوٹی انسپکشن رپورٹس جمع کراتے رہے، سپریم کورٹ کی طرف سے قائم خصوصی کمیٹی نے میڈیکل کالجوں میں نئی داخلہ پالیسی مرتب کرکے منظوری کے لئے عدالت میں پیش کردی ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ نجی میڈیکل کالجز کو براہ راست داخلے دینے سے روکا جائے ،نجی اور سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت ہوں اورصوبائی ہیلتھ یونیورسٹیاں طلباسے داخلہ ٹیسٹ لیں ،داخلہ ٹیسٹ کے سات یوم میں نتائج جاری کئے جائیں ،مرکزی داخلہ پالیسی اورمیرٹ کے تحت پہلے مرحلے میں سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے دئیے جائیں گے،مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت دوسرے مرحلے میں میرٹ کے مطابق نجی میڈیکل کالجز میں داخلے ہوں گے ،پالیسی کے تحت نجی میڈکل کالجز کا ایک نمائندہ صوبائی داخلہ کمیٹی میں شامل کیا جائے گا،داخلہ کمیٹی کے چیئرمین صوبائی ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بنایا جائے گا، نجی میڈیکل کالجز میں داخلے کی سالانہ فیس 9لاکھ 50ہزار روپے ہو گی جبکہ طالب علم کے والدین یا سرپرست کی جانب سے پانچ سالوں کی ویلتھ سٹیٹمنٹ متعلقہ کالج میں جمع کرانا ہو گی، یہ رپورٹ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد وسیم حسن ہاشمی نے عدالت میں پیش کی ،رپورٹ کے ساتھ پی ایم ڈی سی اور نجی میڈیکل کالجز مالکان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی نقل بھی منسلک ہے، داخلہ پالیسی کی رپورٹ 12صفحات اور 24شقوں پر مشتمل ہے،نئے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت سے کہا کہ وہ اس کیس کے پس منظر سے آگاہ نہیں ہیں ،انہیں تھوڑی سی مہلت دی جائے جس پر کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

مزید : صفحہ اول