چھاؤنیوں میں رہنے کے رِسک!

21 اگست 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

اس کالم کا موضوع اگرچہ ایک اہم عسکری پہلو کو محیط ہے لیکن پاکستان کے تمام شہریوں کو بھی اس کا ادراک ہونا چاہئے اور وہ احتیاطی تدابیر جن کا ذکر کالم کے آخر میں کیا گیا ہے ان پر بھی حتی الوسع عمل کرنا چاہئے۔۔۔۔ اس طبی فرو گزاشت کا اطلاق بچوں اور بزرگوں پر بالخصوص زیادہ شدید انداز میں ہوتا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کل ایک ایسی خبر میری نظر سے گزری جسے حیرت انگیز کہا جاسکتا ہے۔ شاید آپ کے لئے بھی حیرانگی کا باعث ہو۔۔۔ اس خبر میں احتیاط اور حفظِ ماتقدم کا جو پہلو ہے اس سے بھی شاید خود آپ کو اور آپ کے بچوں کو بعض ایسے عوارض سے نجات مل جائے جن کی وجوہات کھل کر سامنے نہیں آتیں لیکن ان بیماریوں میں بعض جان لیوا امراض بھی شامل ہوتی ہیں۔

خبر یہ تھی کہ امریکہ کے بعض سینیٹروں نے امریکی آرمی کو یہ نوٹس بھیجا ہے کہ وجہ بتائی جائے کہ چھاؤنیوں میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے بچوں کی صحت آئے روز کئی طرح کی بیماریوں کی زد میں کیوں رہتی ہے؟۔۔۔ان بیماریوں کا زور پیدائش سے لے کر دس سال کی عمر تک زیادہ کیوں ہوتا ہے جبکہ بعد میں لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے تک بھی ان سے نجات نہیں ملتی۔۔۔ کسی نہ کسی پیمانے سے یہ خطرہ سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔

وہ خطرہ یہ ہے کہ کینٹ ایریاز میں جو آبادیاں رہائش پذیر ہوتی ہیں ان پر سیسے (Lead) کی زہر آلودگی کے اثرات زیادہ زیادہ پڑتے ہیں۔ یہ Lead Poisoning ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو انسان کو فی الفور ہلاک نہیں کرتی لیکن رفتہ رفتہ اس کے جسم کے تمام حصوں میں سرائیت کرجاتی ہے۔ مریض اور ڈاکٹر کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان عوارض کی وجوہات کیا ہیں۔ڈاکٹر صاحبان جس بیماری کا علاج کرتے ہیں اور جو ادویات مریض کو کھلاتے ہیں ان سے وقتی طور پر افاقہ تو ہوجاتا ہے لیکن چونکہ مرض کی بنیادی وجہ معلوم نہیں ہوتی اس لئے اس وجہ کا علاج بھی نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو دمہ کی شکایت ہوئی تو اس کے علاج کے لئے مارکیٹ میں آج جو ادویات میڈیکل سٹوروں پر فروخت ہوتی ہیں ان کی تیاری میں Lead Poisoning (سیسے/سسکے کی زہر آلودگی) کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ اس زہر آلودگی کا توڑ کرنے کے لئے ایسی دوائی تشخیص کی جانی چاہئے جو اس زہر کا تریاق ہو۔ لیکن جب کسی مرض کا نام اور کام ہی معلوم نہ ہو تو اس کا تریاق کیسے بن سکتا ہے؟

اس زہر آلودگی کا پتہ اس وقت چلا جب امریکہ کی تین چھاؤنیوں جارجیا، ٹیکساس اور لوزیانا کے ملٹری ہسپتالوں کے چلڈرن وارڈوں میں مریض بچوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ کسی ڈاکٹر نے اتفاقاً یہ خدشہ بھی ظاہر کردیا کہ چونکہ چھاؤنیوں کے علاقوں میں بارود فائرنگ کی پریکٹس ہوتی رہتی ہے، زندہ (Live) گولے اور گولیاں ہزاروں کی تعداد میں فائر ہوتی ہیں، ٹینک اور آرٹلری فائرنگ کے علاقے اور رینج اگرچہ چھاؤنی سے نسبتاً دور بنائے جاتے ہیں، فائرنگ میں جو بارود استعمال ہوتا ہے اس میں گولیوں اور گولوں کے سائز اور تعداد کے حساب سے سیسے (Lead) کی آمیزش بھی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس فائرنگ سے اردگرد کا سارا ماحول ’’سیسہ زدگی‘‘ کے حصار میںآجاتا ہے۔ ایک مخصوص قسم کی بو، جس کو بارود کی بو، کہا جاتا ہے، ماحول میں رچی بسی رہتی ہے۔ چنانچہ امریکی ڈاکٹروں نے ان چھاؤنیوں میں رہنے والے فوجیوں کے بچوں کی بیماری کا پانچ سالہ ریکارڈ رکھنا شروع کردیا۔ یہ تحقیق 2011ء سے لے کر 2016ء تک کے پانچ برسوں میں جاری رہی ۔جو بچہ ہسپتال میں آتا تھا اس کے خون میں Lead کی مقدار کا جائزہ اور ٹیسٹ جاتا رہا۔ ساتھ ہی ان شہروں کے ہسپتالوں میں اُن مریض بچوں کا خون بھی ٹیسٹ کیا گیا جو چھاؤنیوں سے دور رہتے تھے۔

ان پانچ برسوں میں شہروں اور چھاؤنیوں میں دو دو سو سالانہ کے حساب سے مریض بچوں کے بلڈٹیسٹ کئے گئے۔

اس طرح 5برسوں میں 1000سے زیادہ بچوں کے دونوں اطراف کے رزلٹ آگئے جن سے معلوم ہوا کہ جو بچے فوجی چھاؤنیوں میں رہتے تھے ان کے خون میں سکے کی مقدار زیادہ تھی اور وہ شہروں کے بچوں کی نسبت مختلف امراض کا زیادہ شکار ہوئے تھے۔ اس طرح ایک ضخیم اور تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی اور آرمی ہیڈ کوارٹر کو لکھا گیا کہ وہ اس کا جواب دے کہ اس مرض کے علاج کے سلسلے میں کیا،کیا گیا ہے۔ جیسا کہ امریکن آرمی کا معمول ہے وہاں ہر سروس کا ایک سیکرٹری ہوتا ہے۔ یہ آرمی سیکرٹری، آرمی کی مختلف فارمیشنوں سے رابطہ رکھتا ہے۔ 

ان سینیٹروں نے جو سوال آرمی سے پوچھے وہ درج ذیل تھے:

1۔ سکے کی زہر آلودگی سے جو بیماریاں (خصوصاً بچوں میں) پیدا ہوتی ہیں ان کے لئے خصوصی ادویات کیوں نہیں بنائی گئیں؟۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

2۔ فوجیوں کی فیملی رہائش گاہوں کو چھاؤنیوں سے دور کیوں نہیں رکھا جاسکتا؟

3۔ ملک کی چھاؤنیوں میں رہائش پذیر آفیسرز/جوانوں کو ان خطرات سے پہلے سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟

اس کے بعد سفارش کی گئی کہ جلد از جلد اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور اس پر فوری عمل بھی کیا بھی جائے۔ کہا گیا کہ یہ بچے قوم کا مستقبل ہیں، ان کی صحت برباد ہورہی ہے، ان کے قدوقامت فطری طور پر نشوونما نہیں پا رہے، ان کا وزن ان کی عمر کے حساب سے کم رہتا ہے اور وہ ذہنی پس ماندگی اور پژ مردگی کا شکار بھی رہتے ہیں۔

یہ خبر پڑھ کر مجھے اپنے ملک کا خیال آیا۔۔۔۔ 

امریکہ تو ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ اس کی چھاؤنیاں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع ہیں (بجز چند چھاؤنیوں کے)۔ امریکہ کے مالی وسائل اتنے کثیر ہیں کہ وہ اپنی تمام چھاؤنیوں سے ایک مخصوص فاصلے پر ٹروپس کے لئے الگ فیملی کالونیاں بناسکتا ہے۔ لیکن پاکستان کا رقبہ کم ہے، آبادی زیادہ ہے اور اب تو دونوں سرحدوں(مشرقی اور مغربی) پر یکساں خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔

ہماری مشرقی سرحد پر نگاہ ڈالیں اور شمال سے جنوب کی طرف آتے جائیں تو سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، اوکاڑہ، ملتان، رحیم یار خان، حیدر آباد،پنوں عاقل،ملیر اور کراچی کی بڑی بڑی چھاؤنیاں ہیں۔ اور مغربی سرحد پر پشاور، کوہاٹ، بنوں، وانا، ژوب، کوئٹہ، نوشکی، خضدار کی چھاؤنیاں ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے وسطی علاقوں میں بھی جگہ جگہ آرمی کی چھاؤنیاں اور ائر فورس کی بیسز (Bases) واقع ہیں۔ مثلاً کھاریاں، سرگودھا، راولپنڈی، حویلیاں،کامرہ، ایبٹ آباد، گلگت، سکردو، مروان، مالا کنڈ اور دیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے۔۔۔ اور کس کس کا نام لوں۔۔۔ ان میں سے بیشتر چھاؤنیوں میں سویلین آبادیاں، فوجی آبادیوں سے اس طرح پیوست ہیں کہ ان کو جدا نہیں کیا جاسکتا اور پھر یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان میں کوئی ’’خالی علاقے‘‘ ہوں بھی تو ہمارے پاس اتنا سرمایہ کہاں کہ رہائشی اور گیریزن علاقوں کو الگ الگ رکھ سکیں؟

آپ سوال کرسکتے ہیں کہ یہ سکے(Lead) کی زہر آلودگی کیا چیز ہے اور پاکستان اس سے کیسے بچ سکتا ہے یا کم سے کم متاثر ہوسکتا ہے۔۔۔۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ سکہ (Lead) ایک دھات ہے جو وزن میں لوہے کی طرح بھاری ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ وزنی ہوتی ہے۔ اس کو ’’سیسہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ’’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘‘ کے الفاظ تو کئی بار سنے اور پڑھے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دیوار میں اگر سیسہ چن دیا جائے تو وہ ناقابلِ شکست ہو جاتی ہے۔ ملٹری گولہ بارود تیار کرنے میں یہ سیسہ بہت کام آتا ہے اور درجنوں قسم کے بارود اس سے تیارکئے جاتے ہیں۔۔۔ پاکستانی چھاؤنیوں میں بھی جگہ جگہ فائرنگ رینج موجود ہیں۔ نوشہرہ، کھاریاں،(ٹلہ) پبی، اوکاڑہ،ملیر اور اسی طرح کی دوسری کئی چھاؤنیوں میں آرمر اور آرٹلری فائرنگ کی پریکٹس کے لئے ہر سال فوجی مشقیں کی جاتی ہیں۔ ان میں جو بارود استعمال ہوتا ہے اس کے ذرات سارے پاکستان میں پھیلتے ہیں۔۔۔ کہیں کم، کہیں زیادہ۔۔۔ اس لئے ہمیں امریکی سوچ کی لائنوں پر تو نہیں سوچنا چاہئے کہ ان کو اب جاکر اپنے بچوں اور بوڑھوں کا خیال آیا ہے، لیکن ایشیاء میں تو بالعموم اور مشرقی وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں بالخصوص امریکہ نے جو بے تحاشا اور بے حد و حساب گولہ بارود پھونکا ہے، اس کی آلودگی کا کیا جواب اور جواز ہے؟۔۔۔ امریکیوں کے پاس یا ان مغربی اقوام کے پاس جو ناٹو کی ممبر ہیں اور امریکہ کی ایک کال پر جھٹ کمزور مسلم ملکوں پر ٹوٹ پڑتی ہیں، ان کو اپنی آنکھ کا تنکا توفوراً نظر آجاتا ہے،دوسروں کی آنکھ کا شہتیر کیوں نظر نہیں آتا؟۔۔۔ ہمارے کئی شہروں میں تو پینے کے پانی میں بھی سیسہ ملا ہوا پایا گیا ہے۔ اس کا کیا علاج کیا گیا ہے؟

آخر میں ان علامات کی بات بھی ہو جائے جو ’’سیسہ آلودگی‘‘ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں:

1۔ 6سال اور اس سے کم عمر کے بچوں پر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اس مرض کی علامات میں۔۔۔ قد کا کم بڑھنا۔۔۔ حافظے کی کمزوری۔۔۔ بھوک کا نہ لگنا۔۔۔ بات بات پر جھنجھلاجانا۔۔۔ تھکان۔۔۔وزن کا کم ہوجانا۔۔۔ پیٹ میں درد۔۔۔ اور سماعت میں کمی وغیرہ ہیں۔

2۔بچوں کے علاوہ زیادہ عمر کے لوگوں میں بھی۔۔۔ سردرد۔۔۔ ہائی بلڈپریشر۔۔۔ جوڑوں کا درد۔۔۔ موڈ میں یکایک تبدیلی وغیرہ شامل ہیں۔

اور اب چند احتیاطی تدابیر:

1۔ جس جگہ / کان سے سیسہ نکالا جارہا ہو اس سے دور رہناچاہئے۔

2۔ پینٹ بنانے والی فیکٹریوں یا بیٹری بنانے والے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں کو گھر واپس آنے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔

3۔ آپ کے گھروں میں جو پانی آتا ہے وہ جِستی پائپوں سے ہو کر آتا ہے۔ یہ پائپ جب پرانے ہو جاتے ہیں تو ان کے زنگ میں سیسے کے ذرات زیادہ ہوتے ہیں، اس لئے پانی کو فلٹر کرکے استعمال کریں۔

4۔ چینی کے برتنوں میں کھانے بھی ایک حد تک سیسہ آلود ہوجاتے ہیں۔

5۔ بچوں کو ایسے کھلونے خرید کر نہ دیں جن میں سکہ/سیسہ بھرا ہوا ہو۔

6۔ فوجیوں کو فائرنگ رینج سے واپسی پر غسل کرلینا چاہئے۔ 

7۔ پرانے گھروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ پینٹ جگہ جگہ سے اکھڑ جاتا ہے ۔اس میں بھی سکے کے ذرات کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ جدید پینٹ سازی میں اگرچہ سکے کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے مگر سستے قسم کے پینٹ اب بھی خطرے سے خالی نہیں اور مارکیٹ میں عام فروخت کئے جاتے ہیں۔

8۔اگر آپ نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتے تو کم از کم ہاتھ اور پاؤں دن میں تین چار بار ضرور دھوئیں۔ 

مزیدخبریں