قدرتی پانی کیسے بیچ سکتے ہیں،کیا آپ کی جائیداد ضبط کر لیں،سمینٹ فیکٹریوں کے کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

قدرتی پانی کیسے بیچ سکتے ہیں،کیا آپ کی جائیداد ضبط کر لیں،سمینٹ فیکٹریوں کے ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ نے سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے پانی کے غیر قانونی استعمال سے متعلق کیس میں حکم جاری کیا ہے کہ پانی فراہم کرنے والے تالاب کو بند کردیا جائے ،عدالت نے فی کیوسک پانی کے ریٹ کو متعین کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے جبکہ محکمہ ماحولیات کو ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ہفتہ واررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے تالاب کے مالک غلام صغیر کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ پانی اللہ تعالی کی نعمت ہے، آپ قدرتی پانی کیسے بیچ سکتے ہیں،کیا آپ کی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لیں،غلام صغیر نے کہا کہ وہ اس پیسے سے بیواؤں کو مالی امداد اورزکوۃ دیتے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ یہ قدرتی وسائل ہیں آپ پانی نہیں بیچ سکتے،تالاب کے مالک نے کہا کہ اگر میں غلط بیانی کروں توعدالت جو چاہے سزا دے دے،چیف جسٹس نے کہا کہ پانی چوری کی کتنی سزا ہے آپ کو ابھی سزا دے دیتے ہیں،دیکھنا ہو گا کہ منرل واٹر بنانے والی کمپنیز کیسے پانی حاصل کرتی ہیں اور کتنے پیسے ادا کرتی ہیں،منرل واٹر کمپنیز کے خلاف بھی نوٹس لوں گا،حکومت نے آپ کو یہاں سرمایہ کاری کے لئے بلایا قانون ہاتھ میں لینے کے لئے نہیں،وزیر اعظم نے بھی اپنی تقریر میں پانی کے مسئلے پر بات کی ہے، عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔فاضل بنچ نے مذکورہ ہدایت کے ساتھ کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر